ذاکر نائیک کا پاکستان
سرمایہ دارانہ نظام میں مذہبی مبلغین کا کردار تاریخی طور پر ایک ایسا وسیلہ رہا ہے جسے حکمران طبقہ محنت کشوں کو تسلی دینے اور انہیں نظام کی نا انصافیوں کے خلاف بغاوت سے روکنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشروں میں بعض مبلغین حکمران طبقے کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہیں، یہ مبلغین مذہب کی تشریح اس انداز میں کرتے ہیں جس سے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ سرمایہ دارانہ حکومتیں مذہبی نعروں کی بنیاد پر نظام کی حمایت کرنے پر مجبور کرتے ہیں، خاص طور پر جب مذہب کو حب الوطنی یا قومیت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
اس سے محنت کش طبقہ موجودہ معاشرتی اور معاشی عدم مساوات کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے اپنی قسمت تسلیم کر لیتا ہے۔ عوام کو ایک خیالی تسلی فراہم کی جاتی ہے، جس میں وہ اپنی دنیاوی مشکلات کو برداشت کرنے کی تلقین پاتے ہیں، جبکہ اصل مسائل کو سمجھنے اور ان کے خلاف لڑنے کی تحریک کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کش طبقے کو اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی آخرت میں ہے۔ اس یقین کے ذریعے، ان میں موجود عدم اطمینان کو دبا دیا جاتا ہے، اور وہ موجودہ استحصالی نظام کو چیلنج کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
جنگ کی حمایت، قدامت پسند سماجی پالیسیوں کا نفاذ، اور قوم پرستی کو فروغ دینے کے لئے مختلف امریکی صدور، جیسے جارج ڈبلیو بش اور ڈونلڈ ٹرمپ، نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کے لیے مذہبی جذبات کو متحرک کیا، اور ”گاڈ بلیس امریکہ“ جیسے نعرے متعارف کروائے۔ روسی حکومت مذہبی روایات اور آرتھوڈوکس چرچ کی حمایت کے ذریعے عوامی اخلاقیات کو اپنی پالیسیوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔ چرچ اور ریاست کا گٹھ جوڑ پیوٹن کے اقتدار کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔
بھارت میں مذہبی قوم پرستی کو سیاسی بیانیے کا ایک اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی قیادت اکثر ہندو قوم پرستی کے نظریے کو فروغ دیتی ہے، ”ہندوتوا“ کا نعرہ اور ہندو مذہبی روایات کو قومی سیاست میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اکثریتی ہندو عوام کو حکومت کی حمایت میں شامل کیا جا سکے۔ یہ عمل اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں، کے حقوق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس ہی طرح ماضی میں سعودی حکومت نے مذہبی علما کو ریاستی پالیسیوں کی حمایت کے لیے استعمال کیا ہے اور کسی بھی اختلاف کو مذہبی بنیادوں پر کچل دیا، خاص طور پر جب اس کا تعلق عورتوں کے حقوق یا سماجی اصلاحات حکومتی فیصلوں سے ہوتا تھا۔
پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے 1970 کی دہائی میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسلام، جمہوریت، اور سوشلزم کو ملا کر ایک نعرہ ”اسلامی سوشلزم“ کا تصور پیش کیا، اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، اور سوشلزم ہماری معیشت ہوگی۔ عوام، خصوصاً محنت کش طبقہ، یہ ماننے لگا کہ اسلامی سوشلزم کے ذریعے ان کے معاشرتی اور معاشی مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس نعرے نے کسی حد تک طبقاتی جدوجہد کو محدود کیا اور محنت کش طبقے کو بھٹو کی حکومت کی حمایت پر مجبور کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلامی قوانین کے نفاذ کا جب اعلان کیا تب پاکستان میں ”نظامِ مصطفیٰ“ اور ”اسلامی نظام“ کے نفاذ کے نعرے کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنایا۔ اس نعرے کے ذریعے ضیاء الحق نے عوام کو مذہبی جذبات کے تحت اپنی آمریت کی حمایت میں متحرک کیا۔ اس سے معاشرتی اور معاشی عدم مساوات کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے بعض حلقوں میں قبول کرنے کا رجحان پیدا ہوا، کیونکہ انہیں یہ باور کرایا گیا کہ حکومت اسلامی اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہے۔
اس ہی طرح عمران خان نے 2018 کے انتخابات کے دوران اور بعد میں ”ریاستِ مدینہ“ کا نعرہ بلند کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں، جہاں عدل و انصاف ہو، غربت کا خاتمہ ہو، اور اسلامی اصولوں کے مطابق حکمرانی ہو۔ ریاستِ مدینہ کا نعرہ لوگوں کو ایک مثالی اسلامی معاشرتی نظام کا خواب دکھاتا تھا۔ ان تمام نعروں میں ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
بھٹو نے اسلام کو سوشلزم اور جمہوریت کے ساتھ جوڑ کر ایک متوازن سیاسی اور معاشی نظام کی بات کی، ضیاء الحق نے براہ راست اسلامی قوانین کا نفاذ کر کے اسلامی حکومت کا تصور دیا، اور عمران خان نے ”ریاستِ مدینہ“ کا نعرہ لگا کر ایک فلاحی ریاست کی تعمیر کا عزم ظاہر کیا۔ یہ نعرے عوام کے مذہبی جذبات کو اپیل کرتے ہیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہب کا اہم کردار ظاہر کرتے ہیں۔
سیاست دانوں کے ایسے نعرے عوام کو اس بات پر راضی کرتے ہیں کہ موجودہ نظام کو چیلنج کرنے کے بجائے اس کی حمایت کی جائے، کیونکہ یہ نظام ان کی مذہبی اقدار اور قومی مفاد کے مطابق کام کرے گا۔ مذہب کے ذریعے سرمایہ دارانہ حکومتیں یا سیاست دان یہ پیغام دیتے ہیں کہ طبقاتی تفریق خدا کی مرضی ہے اور دنیاوی نا انصافیوں کو برداشت کرنے کا انعام آخرت میں ملے گا۔ اس طرح، معاشرتی اور معاشی نا انصافیوں کے خلاف جدوجہد کو روکا جاتا ہے۔
مذہب اور حب الوطنی کے نعروں کو جوڑ کر حکومتیں محنت کش طبقے کو معاشرتی اور معاشی نا انصافیوں کے خلاف بغاوت کرنے سے روکتی ہیں۔ مذہبی نعرے عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ موجودہ نظام دراصل ان کے مذہبی اور قومی مفادات کے لیے کام کر رہا ہے، اور اگر وہ نظام کی حمایت کریں گے تو ان کی مشکلات جلد ختم ہو جائیں گی۔ اس طرح، سرمایہ دارانہ نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور طبقاتی فرق اور نا انصافیاں برقرار رہتی ہیں۔
پاکستان کے بنیاد پرست مبلغین کی تاریخ مذہبی، سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اور یہ عناصر وقتاً فوقتاً ملک میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بنتے رہے ہیں۔ ان میں سے کئی مبلغین نے اپنے بیانات اور نظریات کے ذریعے عوام کو شدت پسند سوچ کی طرف مائل کیا، لیکن انہیں ہمیشہ طاقتور حلقوں کی پشت پناہی بھی حاصل رہی، جس نے ان کے نظریات کو تقویت دی۔ مولانا عبدالعزیز کا یہ کہنا کہ ہم اپنی جانیں دے سکتے ہیں، لیکن شریعت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے یا اسلامی نظام کو بزور طاقت نافذ کرنے کا عزم ان کے شدت پسندانہ نظریات کا واضح ثبوت ہے۔
مولانا سمیع الحق نے طالبان کو ”اسلام کے حقیقی سپاہی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند کریں گے، اور مغربی طاقتوں کے خلاف جہاد کو ضروری قرار دیا۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ”پاکستان کا آئین اسلامی ہونا چاہیے اور ہر قانون قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔ حافظ سعید، جو لشکر طیبہ کے بانی ہیں، نے بھی کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ“ اسلام کی بقاء کے لیے جہاد فرض ہے، اور ہمیں ہر ظالم کے خلاف لڑنا ہو گا۔
”خادم حسین رضوی نے اپنی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے ذریعے توہینِ رسالت کے قانون کی سخت حمایت کی اور ممتاز قادری کو ہیرو بنا کر پیش کیا، جس سے ملک میں مذہبی شدت پسندی کو مزید فروغ ملا۔ ان مبلغین کی سوچ اور نظریات کو ہمیشہ طاقتور حلقوں سے حمایت حاصل رہی، جس کی وجہ سے وہ اپنے پیغام کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں کامیاب رہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ عوام میں ان کے نظریات کی مقبولیت کم ہوتی گئی لیکن ختم نہ ہو سکی۔ ان کے بیانات اور اقدامات نے ملک میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو تقویت دی، جو آج بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان میں پچھلے تین سالوں سے سیاسی کشمکش عروج پر ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نے ان کی حکومت کو ختم کر کے مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی نئی حکومت قائم کی۔ اس دوران عوام میں بے چینی اور غصہ بڑھ گیا، جس سے جمہوری عمل پر اعتماد کمزور ہوا۔ 2024 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نے جمہوری عمل کو چیلنج کیا، جس سے عوام کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔ معاشی صورتحال بھی سنگین ہے، جہاں بیرونی قرضوں کا بڑھتا ہوا انحصار، مہنگائی، اور بے روزگاری نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا۔
آئی ایم ایف کی شرائط نے ملک کی خودمختاری پر سوالات اٹھائے، جس سے عوام میں عدم اطمینان پیدا ہوا۔ حکومت نے احتجاجات کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے، خاص طور پر بلوچستان اور پشتون تحفظ تحریک کے عوامی مظاہروں کے خلاف۔ قومی میڈیا پر ان احتجاجات کی کوریج نہیں ہوئی، اور اپوزیشن جماعتوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ حکومت نے قوم پرستی کا استعمال کر کے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ موجودہ نظام کا دفاع قومی فریضہ ہے، اور مظاہرے ملک دشمنی کے مترادف ہیں۔ حکومتی وزرا نے عوام کو معاشرتی اور معاشی نا انصافیوں کو برداشت کرنے کی تلقین کی۔
ان حالات میں متنازع مبلغ ذاکر نائیک حکومتِ پاکستان کی دعوت پر ایک ماہ کے طویل دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست نے پاکستان کے روایتی مبلغین کی بجائے اب ایک ایسے مبلغ کو دعوت دینا زیادہ مناسب سمجھا ہے جو جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتا ہے۔ ذاکر نائیک، جو پینٹ کوٹ پہن کر سامنے آتے ہیں، ان کا اسلام پر روایتی علما سے ہٹ کر ایک منفرد اور مضبوط علمی پہلو ہے۔ ان کی ٹیم جدید میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال میں خاصی ماہر ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی بات موثر انداز میں دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔
ریاست کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب عوامی حمایت کے لیے ایک ایسے مبلغ کو ترجیح دے رہی ہے جو نہ صرف دین پر گہری بصیرت رکھتا ہو، بلکہ اس کی پیشکش جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ لیکن ریاستِ پاکستان کو اس بات کی پروا نہیں کہ ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ اور اشتعال انگیز تقاریر کا الزام ہے، جس کے باعث انہیں بھارت چھوڑ کر ملائیشیا میں پناہ لینا پڑی۔ بھارت نے انہیں مفرور قرار دیا اور 2021 میں ان کی تنظیم پر مزید پانچ سال کی پابندی لگا دی، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان پر جماعت الدعوۃ اور حزب المجاہدین جیسے گروہوں سے تعلقات کا بھی الزام ہے، اور ان کے چینل ”پیس ٹی وی“ پر متعدد ممالک میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
گورنر ہاؤس کی پہلی تقریب میں علامہ شہنشاہ نقوی نے ذاکر نائیک کو ان کے متنازع بیانات پر سادگی سے تنقید کی۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں شیعہ برادری ان کی آمد سے خوش نہیں۔ اسی تقریب میں جب 295 (توہینِ رسالت قانون) کے حوالے سے سوال اٹھا تو ذاکر نائیک نے سوال کو نظر انداز کر دیا اور کہا کہ پہلے وہ غیر مسلم بھائیوں کے سوالات لیں گے، جو خود ایک قابل فکر بات تھی۔ مزید تشویش اس وقت ہوئی جب ایک غیر مسلم نے پاکستان میں گرجا گھروں کو نذرِ آتش کرنے اور اقلیتوں سے امتیازی سلوک کے بارے میں سوال کیا۔
بجائے اس اہم مسئلے پر کوئی واضح موقف دینے کے، ذاکر نائیک نے یہ کہہ کر بات کو ٹال دیا کہ ”میں یہاں نہیں رہتا، اس لیے مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں۔“ ان کا یہ رویہ عوام کے لیے حیرت کا باعث بنا، کیونکہ ایک عالمی مبلغ ہونے کے ناتے ان سے متوازن اور بصیرت افروز جواب کی توقع کی جا رہی تھی۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ذاکر نائیک جیسے عالمی مبلغین، جب پاکستان کے حساس موضوعات پر بات کرنے کا وقت آتا ہے، تو وہ مسائل کو نظر انداز کرنے یا خود کو لا علم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو عوامی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔
جب پاکستان میں مذہب پر سوال اٹھانا توہین کے مترادف سمجھا جاتا ہو اور ایک شدید گھٹن کا ماحول موجود ہو، ایسے میں سوالات کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے برابر ہے۔ ذاکر نائیک خود بھی احتیاط سے کام لیتے ہوئے ریاست اور انتہا پسندی سے متعلق سوالات کو نظرانداز کر رہے تھے، تو ایسے میں کون ہمت کرے گا کہ کھل کر سوال کرے؟ لیکن پاکستان میں جب ذاکر نائیک جیسے مبلغ کو مائیک پر بار بار، یہ کہنا پڑا کہ ”اگر کوئی سوال کرنا چاہتا ہے تو کرے“ ، اور ساتھ ہی یہ اطمینان دلانا پڑے کہ ”آپ گورنر ہاؤس میں ہیں، یہاں آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے“ ، تو یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان میں سوال اٹھانا محفوظ نہیں۔ یہ صورتحال اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان میں مذہبی معاملات پر سوالات کرنے والوں کے لیے فضا نہایت خطرناک ہو چکی ہے، اور ذاکر نائیک کا بار بار یہ کہنا کہ یہاں خطرہ نہیں ہونا چاہیے، ایک واضح نشاندہی ہے کہ لوگ یہاں مذہب پر سوال اٹھانے سے کتنے خوفزدہ ہیں۔
ڈوبتی معیشت، انتہا پسندی کا عروج، عوامی مقبولیت میں کمی اور ریاستی معاملات کو عوام کی نظر سے چھپانے کے لیے ذاکر نائیک کو پاکستان مدعو کرنا، یا ان کے پروگراموں کا انعقاد کسی اور مقصد کے تحت کیا جا رہا ہے، یہ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن ریاست کے ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دورے کے بعد مزید تنازعات جنم لیں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ پاکستان میں عالمی شہرت یافتہ سائنس دانوں، ماہرینِ تعلیم، اور آئی ٹی کے ماہرین کو مدعو کرے تاکہ ملک کے تعلیمی نظام میں بہتری لائی جائے اور غربت کے شکار افراد کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں، نہ کہ پہلے سے متنازع شخصیات کو دعوت دی جائے۔ چونکہ ہمارے ملک میں آج تک ”سنت“ ”حدیث“ اور ”مسلمان“ کی ایک تعریف پر متفق نہیں ہو سکے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے ”ذاکر نائیک کا پاکستان“ پر سب متفق ہوں۔

