جنگ مخالف پی ٹی ایم کو کالعدم کر کے کیا امن پسندوں کا راستہ مسدود کیا جا رہا ہے؟


پاکستان میں مختلف سیاسی اور سماجی تحریکیں وقتاً فوقتاً ابھرتی رہتی ہیں، لیکن کچھ تحریکیں ایسی ہوتی ہیں جو مخصوص علاقوں اور قومیتوں کی آواز بن جاتی ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ایسی ہی ایک تحریک ہے، جس کا آغاز پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا سے ہوا۔ یہ تحریک جنگ مخالف اور امن کی علمبردار ہے، جس کے بیشتر کارکن تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، جو یونیورسٹیوں اور کالجوں سے فارغ التحصیل ہیں۔

پی ٹی ایم کا قیام ہمارے سامنے ہوا، اور اس کے کارکنان شروع ہی سے بہت منظم اور باشعور نظر آئے۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں حق نواز پارک اور توپانوالہ چوک میں مختلف احتجاجی جلسے منعقد کیے۔ ان کے احتجاج نہ صرف منظم تھے بلکہ ان میں کوئی تشدد کا عنصر نہیں تھا۔ ان احتجاجوں کا ایک واضح مقصد تھا: جنگ زدہ علاقوں میں جاری نا انصافیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھانا۔ اس تحریک کے کارکنان نے ماورائے عدالت قتلوں کے خلاف بھی شدید احتجاج کیا۔ ان نوجوانوں میں ایک منفرد شعور اور ہمت تھی۔ کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ یہ نوجوان آگے جا کر ملک گیر مزاحمتی تحریک بن جائیں گے۔

جب پی ٹی ایم کے مطالبات کو مقامی سطح پر نظر انداز کیا گیا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں، تو انہوں نے 26 جنوری 2018 کو اسلام آباد کا رخ کیا۔ یہ احتجاج اپنی نوعیت کا ایک منفرد احتجاج تھا۔ پہلے کے احتجاجوں میں عموماً مردہ باد یا زندہ باد کے نعرے گونجتے تھے اور امریکہ یا اسرائیل کے خلاف زوردار نعرے لگائے جاتے تھے۔ تاہم، پی ٹی ایم کے احتجاج میں کوئی ایسے نعرے نہیں تھے۔

اس احتجاج میں نوجوانوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگ سے زخمی ہونے والے بچوں کی تصویریں، ماورائے عدالت قتلوں کے خلاف نعرے، اور امن و انصاف کے مطالبات درج تھے۔ ان کے نعروں میں جنگ کے خلاف اور امن کی حمایت کی صدائیں تھیں۔ یہ ایک نئی قسم کا احتجاج تھا، جو تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوانوں کی ترجمانی کرتا تھا، جو 21 ویں صدی میں جنگوں سے بہت کچھ سیکھ چکے تھے، جو جنگوں کی تباہ کاریوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور امن کے خواہاں ہیں۔

پی ٹی ایم کے اس تاریخی احتجاج میں 22 نوجوان شامل تھے، جن کے پاس سفری اخراجات کے لیے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے پیدل چلنا شروع کیا اس وقت ان کے قائد منظور پشتین نے مجھے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم نہ جھکیں گے اور نہ ہی رکے گے۔ ہم آگے بڑھتے جائیں گے، کیونکہ پیچھے ہٹنے کا وقت نہیں۔“ یہ احتجاج خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا 1 فروری 2018 کو اسلام آباد پہنچا۔

اسلام آباد پریس کلب کے سامنے لوگوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ سٹیج پر کچھ پرانے لوگ اپنے وفاداری کے ثبوت پیش کر رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان، جو اس وقت میڈیکل کالج کا طالب علم تھا اور آج ایک اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے، سٹیج پر آیا اور اس نے اعلان کیا: ”ہم پشتون قوم کا مقدمہ لے کر آئے ہیں۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ پنڈال چھوڑ سکتا ہے، لیکن ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔“ یہ بیان واضح کرتا تھا کہ پی ٹی ایم اپنے مطالبات پر قائم ہے اور وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

اسی شام، منظور پشتین خود سٹیج پر نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں واضح کیا کہ یہ احتجاج صرف نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف نہیں، بلکہ یہ جنگ زدہ علاقوں کی عوام کی آواز ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جائیں گے اور اپنے مطالبات کے حق میں جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس تقریر نے پی ٹی ایم کو ملک بھر میں ایک مظلوم طبقے کی نمائندہ تحریک بنا دیا۔

پی ٹی ایم کی یہ تحریک اسلام آباد میں شروع ہونے کے بعد ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گئی۔ انہوں نے بڑے بڑے جلسے اور ریلیاں منعقد کیں، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ ان جلسوں میں نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا، اور ان کے مطالبات نہ صرف قانونی تھے بلکہ انصاف اور امن کی خواہش کا اظہار کرتے تھے۔

جنوری 2021 میں بنوں میں پی ٹی ایم کے ایک جلسے کے دوران اس وقت کے رکن قومی اسمبلی، علی وزیر نے پارلیمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس کوئی اختیار نہیں، اور اسے محض ایک ربڑ اسٹیمپ کی حیثیت دی گئی ہے۔ ان کی یہ تقریر پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے ارکان سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں کو ناگوار گزری۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علی وزیر کو 26 مہینے جیل میں گزارنے پڑے۔

علی وزیر کی گرفتاری اور ان کی تقریر نے ایک بار پھر پی ٹی ایم کے بیانیے کو تقویت دی۔ علی وزیر نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ریاست کے اندر فیصلہ سازی کی اصل طاقت کہیں اور ہے اور پارلیمنٹ کا کردار محض نمائشی ہے۔

پی ٹی ایم کی تحریک نے پاکستانی سیاست اور سماج میں ایک نئی حقیقت کو جنم دیا ہے۔ یہ تحریک نہ صرف پشتونوں کے حقوق کی بات کرتی ہے، بلکہ ملک کے مختلف طبقوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ پی ٹی ایم کی مزاحمت نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوان نسل، جنگوں اور نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

آج وزارت داخلہ نے پی ٹی ایم، جو ایک امن پسند غیر مسلح تحریک ہے، پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ تحریک جنگ مخالف ہے اور ہمیشہ امن کے قیام کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ ان کے احتجاج نہایت پرامن رہے ہیں، اور ان میں کبھی کسی قسم کی تشدد کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔

پی ٹی ایم پر پابندی عائد کر کے وزارت داخلہ نے نہ صرف علی وزیر کی تقریر پر مہر ثبت کر دی، بلکہ اس تحریک کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے۔ اس پابندی کے بعد نہ صرف پی ٹی ایم کا بیانیہ مضبوط ہوا ہے بلکہ جنگ کے حامی حلقوں کے خلاف نفرت میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا ہے۔

پاکستان کا آئین ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، لیکن پی ٹی ایم سے یہ حق چھیننا آئینی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔ وزارت داخلہ کے اس فیصلے کے دور رس نتائج ہوں گے اور یہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

پی ٹی ایم پر پابندی لگانے کا فیصلہ ایک تاریخی اور سنگین غلطی ہے، جس کے اثرات جلد ہی نظر آئیں گے۔ جب سیاسی اور جمہوری آوازوں کو دبایا جاتا ہے، تو ان کی جگہ پرتشدد طریقے لے لیتے ہیں۔ آپ تنظیموں اور جماعتوں پر پابندی لگا سکتے ہیں، لیکن عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی نفرت اور ان کی سوچ پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں؟

پشتون تحفظ موومنٹ کو عوامی حمایت حاصل ہے، اور اس پابندی کے باوجود اس تحریک پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ بلکہ اس پابندی کے نتیجے میں پشتون نوجوانوں کے دلوں میں نفرت کی آگ مزید بھڑک اٹھے گی۔ اس تحریک نے پشتون عوام کی امن کی خواہشات کو جنم دیا ہے، اور اس پر پابندی لگانے سے ان کی امن کی جستجو ختم نہیں ہوگی۔

Facebook Comments HS