پلوشہ… تیرا سوال تلوار ہے


dr tehreem javaid

ذاکر نائیک جب سے پاکستان پدھارے ہیں متنازع خبروں کے حوالے سے کافی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ حال ہی میں پلوشہ سے ان کی بحث سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی۔ اس پہ بہت سے لوگوں نے بات کی۔ اچھی باتیں کی۔ لیکن میرے لیے جو خوش کن بات تھی کہ پدر سری معاشرہ اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود پاکستانی عورت سے پشتون عورت سے سوچنے کا حق نہیں چھین سکا۔

یقین جانیے دل کو اطمینان ہوا۔ اس معاشرے میں عورت سے ہر ممکن حق چھینا جاتا ہے یا کوشش کی جاتی ہے۔ بچپن کی شادیوں سے لے کر حقِ وراثت تک۔ وہ کون سا حق ہے جو اس معاشرے کے مثالی مرد عورتوں کو دے پاتے ہیں۔ پوری کوشش کی جاتی ہے کہ عورت نا سوچ سکے نا بول سکے بس پدرسری کے قوانین پہ چلتی چلتی ہی فوت ہو جائے اور کس لیے کہ بعد از مرگ غیرت مند باپ بھائی اور شوہر سینہ چوڑا کر کے کہہ سکیں دیکھا ہماری عزت کا مان رکھتے رکھتے مر گئی لیکن اف تک نا کی۔ اس ایک سرٹیفیکیٹ کے لیے جو نا جانے ملنا بھی ہے یا نہیں، کیوں جینا حرام کریں۔

اس نائیک سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ بھائی جس معاشرے میں بچہ بازی عام ہو گی وہاں عورتوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے کیا۔ وہ حقوق جو بقول آپ کے اسلام نے چودہ سو سال پہلے دے دیے تھے؟ پلوشہ کے علاقے کے لوگوں کو بچا لیا اور پلوشہ کو ذبح کر دیا۔ کم عمر لڑکوں کو گروم کرنا اور ان کو جنسی فائدے کے لیے استعمال کرنا پاکستان کے بعض علاقوں میں بالکل بھی معیوب نہیں ہے بلکہ فخریہ اپنے لڑکے کی نمائش کی جاتی ہے۔

میرا ایک سوال ہے کہ وہ مثالی معاشرہ جس کی موصوف بات کر رہے ہیں وہ ہے کہاں؟ کیا افغانستان میں؟ اماراتِ اسلامیہ میں نائیک صاحب جاتے کیوں نہیں؟ پیسہ نہیں نا وہاں۔ نا آزادی۔ ماریہ بی جیسی خواتین کے رویوں سے  ہمارا معاشرہ تباہ ہو رہا بہت واویلا کریں گی لیکن بچہ بازی پہ لب سی لیں گی۔ اتنا تضاد کیوں۔ کاہے کو اتنی منافقت۔ نا افغانستان جیسے اسلامی ملک میں ماریہ بی جائے گی۔ وہاں اس کے کپڑے کون خریدے گا۔ اس مدعے پہ ہمیں بات نہیں کرنی کہ بالغ مردوں میں ہم جنس پرستی کی شرح پاکستان میں ہرگز اتنی نہیں ہے جتنی بچہ بازی کی۔ ایک کم عمر بچے کو اس طرح استعمال کرنے پہ کسی مہذب ملک میں ہوں آپ تو خود بھی جیل جائیں اور بچے بھی۔ لیکن آہ یہ پاکستان کے لا وارث بچے۔ جتنے ماں باپ بے فکر اتنی یہ ریاست مدہوش۔

یشما گل اداکارہ نے بھی سوال کیا۔ بلکہ مکھن لگایا۔ اس پہ بہت خوش ہوئے کہ دہریت سے اسلام کا سفر بقول ان کے ذاکر نائیک کی بدولت ممکن ہوا۔ اس پہ تو بہت خوش ہوئے کہ واہ جی کیا بات ہے۔ ماریہ بی اور یشما جیسی اور بھی کئی خواتین ہیں جو مردوں سے خود کو validate کروانے کی خاطر ان کی غلط باتوں کو بھی اچھا بنا کر پیش کرتی ہیں حالانکہ جن شعبوں سے یہ منسلک ہیں کوئی ملا ان کو validate نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر زوجیت میں آنا چاہیں تو الگ بات ہے۔ رابی پیر زادہ کی مثال سامنے ہے۔

پھر ایک اور گروپ آتا ہے یہ ڈھول بجانے کہ وہ تو جو مغرب میں بھی یہ سب ہو رہا ہے بھائی دیکھ بات سن۔ وہ نہیں کہتے کہ ایسا کچھ ہوتا ہی نہیں۔ رپورٹ ہوتا ہے۔ تفتیش ہوتی ہے سزا بھی ملتی ہے۔ پیڈوفائل سے لوگ نفرت ہی کرتے ہیں۔ پیار محبت نہیں۔ آپ کی طرح برائی کا انکار کر کے آنکھیں نہیں بند کر لیتے۔ جیسے شہباز شریف فرماتے ہیں کہ کراچی میں دھماکہ کرنے والے پاکستانی نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح پاکستان کا بچہ بچہ یہ سن کر بڑا ہوتا ہے کہ دہشت گرد مسلمان نہیں ہو سکتے۔ جناب سچ کا سامنا کریں گے تو مسائل حل ہوں گے نا۔ یا شتر مرغ ہی بنے رہنا ہے۔ ریت سے سر نہیں نکالنا۔ آپ کہتے رہیں لیکن پوری دنیا میں دہشت گردی کے بڑے واقعات میں آپ کو پاکستانی بھی ملتے ہیں اور مسلمان تو وافر ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم مانتے ہی نہیں۔ برائیوں کو کارپٹ کے نیچے دبانے سے گرد نہیں دب سکتی۔

جلد یا بدیر اجالا ہونا ہے اور اس کی امید پلوشہ کا سوال سن کر ہوئی۔ پنجاب میں بھی یہ لعنت موجود ہے لیکن پنجابی خواتین سماج کے بارے میں اس طرح فکر مند دکھائی نہیں دیتیں نا جانے کیوں۔ تو اس دم توڑتے سماج میں اگر آج بھی ایک عورت سوچ رہی ہے مسئلے کو سمجھ رہی ہے اس کا حل چاہتی ہے تو کیا ہی خوب ہے۔ آباد رہو پلوشہ۔ تمہارے پر کاٹنے والے ہاتھ کبھی پیدا ہی نا ہوں۔

Facebook Comments HS

One thought on “پلوشہ… تیرا سوال تلوار ہے

  • 11/10/2024 at 7:06 صبح
    Permalink

    ملائیت مسجد کے قلعہ میں مقید تھی تو قابل احترام تھی۔ لوگ تقدس میں ڈوب کر ان کی لغو بیانی اور یاوہ گوئی پر دھیان نہیں دیا کرتے تھے۔ سوشل میڈیا پر آئی تو موازنہ اور تجزیہ شروع ہو گیا۔ اگلے پانچ سال میں ملائیت کو نچلی جاتی مان لیا جائے گا۔

Comments are closed.