گرین زون فلسفے کے چار ستون


 

اسلام علیکم خواتین و حضرات،

سب سے پہلے بہت مبارکباد ثمر اشتیاق اور ڈاکٹر خالد سہیل کو۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی کا وقت میرے لیے بہت دلچسپ ہے کہ اس پراجیکٹ کا آغاز کووڈ کی وبا میں کیا گیا اور اس کی رونمائی اس وقت ہو رہی ہے جب ہم ایک apartheid state کی طرف سے مسلسل genocide کے eye witness ہیں اور اپنی آنے والی نسل کے لیے خدا مذہب انسانیت کو غزہ میں دفن کر چکے ہیں۔ اس سے اس کتاب کی اہمیت اور ضرورت کا پتہ لگتا ہے کہ اس میں ہمارے بچوں کے لیے امید کی کہانی درج ہے

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے
لیکن میرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے
ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

گرین زون پراجیکٹ اور گرین زون لونگ کے اردو ترجمے کے لیے کی گئی ان تھک کوششوں کو ثمر بار ہوتے دیکھنا بہت خوش کن ہے کہ اس میں کی گئی محنت کی میں عینی شاہد ہوں۔ فروری 2020 میں مسینجر پر جب میں نے ڈاکٹر خالد سہیل کو مسیج کیا تو میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ میں ایک ایسے انسان سے ملنے جا رہی ہوں جو میری زندگی کو نیا رخ دے گا اور مجھے لائف چیجنگ پراجیکٹ کا حصہ بنائے گا وہ بھی زوم پر کووڈ کے دوران۔ جب وبا کی شدت سے سب پریشان تھے اس وقت گرین زون ورکشاپ کو لانچ کرنے کے لیے اپنے فلسفے پر اعتماد ہونا اور کامیابی کا یقین ہونا ضروری تھا کیونکہ وہ انتہائی غیر یقینی وقت تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں ایک انتہائی ریڈ زون دیسی خاتون سے بات کرنے کے بعد باتھ روم سے سب سے چھپ کر ڈاکٹر صاحب کو فون کیا کہ میں نے فیس بک پر آپ کے اس پراجیکٹ کے بارے میں پڑھا ہے اور اگرچہ میں کچھ لیٹ ہو گئی ہوں لیکن آپ مجھے رجسٹر کر لیں اور ڈاکٹر صاحب نے ثمر اور زہرہ سے میری پرزور سفارش کرنے کی حامی بھری۔ میں نے اپنے کیس کو زوردار کر نے کے لیے ان کو رشوت دی تھی کہ میں پنجابی اور سرائیکی میں اس ورک بک کا ترجمہ کر دوں گی۔ اور ڈاکٹر صاحب جانتے تھے کہ میں ان دونوں زبانوں میں نہیں لکھ سکتی۔

دو دن کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مجھے خوشخبری سنائی کہ ایک سیٹ خالی ہونے پر ہم آپ کو ان ورکشاپس میں شامل کر رہے ہیں۔ ان ورکشاپس میں شامل ہو کر جو میں نے سیکھا وہ میرے گرین زون آئیڈیا کے ریویو اور اسٹوری کے نام سے اس کتاب کا حصہ ہے۔ جب میں نے اپنی گرین زون اسٹوری لکھی تو میرا خیال تھا میرے پاس اس حوالے سے کہنے کے لیے جو کچھ تھا میں نے لکھ دیا۔ لیکن اس کتاب "گرین زون فلسفہ پرسکون زندگی کی طرف سات قدم” پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ اس فلسفے کے بے شمار پہلو میرے سامنے پہلی بار آشکار ہو رہے ہیں جس کی دو وجوہات تھیں ایک کہ جو سفر میں نے اس فلسفے اور ڈاکٹر خالد سہیل کے ساتھ طے کیا دوسرا پہلی مرتبہ اس فلسفے کو جاننے کے لیے میں نے گرین زون لونگ انگریزی میں پڑھی تھی اور اس بار اس کے اردو ترجمے میں میں بہت ساری باتوں سے ریلیٹ کر پائی کہ اردو میری مادری زبان ہے۔ میرے خیال میں اس فلسفے کہ اوپر اردو میں اس کتاب کی دستیابی اس کو عام پاکستانی تک پہنچنے اور اس کے سمجھنے میں مدد دے گی اور ڈاکٹر صاحب کا یہ آئیڈیا کہ اس کتاب کا پاکستان کی دیگر علاقائی زبانوں میں ترجمہ ہو عام آدمی تک نہ صرف اس کتاب کی بلکہ ذہنی صحت کے بنیادی اصولوں کی رسائی کو آسان بنائے گا، کہ ذہنی امراض کے علاج میں ایک بہت بڑی رکاوٹ وسائل کی عدم دستیابی ہے گا۔ ہر آئیڈیا جو آپ کی مادری زبان میں آپ تک پہنچے وہ زیادہ بہتر دماغ میں جڑ پکڑتا ہے ہمارے اس کلونیل سلویری مائنڈ سیٹ کے برعکس کہ ہر چیز انگریز کی بہتر ہے۔

اس فلسفے کی زونز اور سات قدم سے آپ واقف ہیں۔ میں اس کے ستونوں پر بات کرنا چاہوں گی جس پر اس فلسفے اور اس کتاب کی بنیاد ہے۔ چار سال پہلے میں اس کے تین ستون کی نشاندہی کر پائی تھی خودشناسی، خوداعتمادی اور خود انحصاری اور پچھلے چار سالوں نے مجھے چوتھے ستون تک آشنائی دی وہ خود خیالی self love ہے۔ اس کا پہلا ستون خود شناسی اپنی ذات سے آگاہی کا نام ہے ہمارے معاشرے میں بہت کم توجہ اپنے آپ کو سمجھنے پر دی جاتی ہے ہمارے لیے فیصلے کر دیے جاتے ہیں یہ تمہارا نام ہے، مذہب ہے، یہ تم نے بننا ہے اور اس سے شادی کرنی ہے اور ہم اپنی ذات کو جانے بغیر ان فیصلوں کو صحیح ثابت کرنے کی جنگ میں لگ جاتے ہیں چاہے وہ ہماری شخصیت سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں۔ اس فلسفے میں آپ اپنے آپ کو اپنی اچھائی برائی کے ساتھ قبول کرتے ہیں کیونکہ تب ہی اپنی غلطیوں کو سدھار سکتے ہیں کہ ہر غلطی جہنم کا دروازہ نہیں کھولتی یہ غلطیاں ستاروں کی مانند آپ کو ذہنی بحالی کے سفر میں منزل کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔

دوسرا اہم ستون خود اعتمادی ہے گرین زون فلاسفی میں اپنی غلطیوں کو سدھارنے اور اپنی ذات کی بہتری کے لیے آپ کو کچھ فیصلے کرنے ہوتے ہیں جو کچھ مشکل بھی ہوتے ہیں یہ ان کو اون کرنے کا نام ہے کہ یہ اعتماد اپنے اندر پیدا کریں کہ اپنے ذہنی سکون کے لیے جو قدم اٹھا رہے ہیں وہ درست ہیں یہ ایک جہد مسلسل ہے جس میں آپ ہر روز اپنے آپ کو اپنے اردگرد کے رشتوں کو اور ورک اسپیس اور سماج کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اس اعتماد کے ساتھ کہ آپ بہتری کے خواہاں ہیں ایک ثابت قدم کچھوے کی مانند۔ یہ ایک لائف اسٹائل کا نام ہے جس میں آپ کئی دفعہ ریڈ زون میں جاتے لیکن اس بات سے آشنا ہوتے ہی خود اعتمادی سے اپنے آپ کو اس سے باہر نکالنے کے فیصلے کرتے ہیں آج بھی جب میں غصہ میں ہوتی ہوں تو میرے بچے اور خاوند مجھے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر خالد سہیل کو ویڈیو کال کریں تاکہ ہم انہیں آپ کی ریڈ زون دیکھا سکیں۔

تیسرا ستون خود پسندی یا خود خیالی ہے اپنے آپ کو پسند کرنا ہے اور خیال رکھنا ہے یہ کوئی گناہ نہیں جیسے کہ اس کو خودغرضی کے ساتھ مکس کر دیا جاتا ہے اور عورتوں کے حوالے سے تو یہ اور بھی اہم ہے کیونکہ ہر دور ہر رشتے میں ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنا آپ قربان کر کے دوسروں کا خیال رکھیں گی کسی بھی رول میں چاہے وہ ماں ہو، بہن، بیٹی، بیوی اس کو ایثار کی قربانی کی دیوی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور سب سے آخر میں روٹی کھانے سے لے کر باپ بھائیوں کے لیے وٹے کی ٹرافی اور جائیداد میں حصہ نہ مانگنے تک خواتین کی قربانی کو normalize کر کے اس کو طے شدہ عمل بنا دیا گیا ہے۔ کوئی بھی خاتون اگر اس سے انحراف کرے تو اس پر بری عورت کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے اور خواتین کی گرومنگ ہی گڈ وومن سینڈروم پر کی جاتی ہے اس لیے اس کتاب کی سب سے بہترین لائن زہرہ نقوی کی کہانی میں ان کی گرین زون ورکشاپ ممبر کندن کی تھی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو جب یہ کہا کہ پہلی روٹی میں کھاؤں گی کہ سب سے آخر میں کھانے اور دیر ہونے سے ان کی بھوک سے طبیعت خراب ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک چھوٹی سی بات ہو میرے لیے یہ اس فلسفے کی جیت ہے، ڈاکٹر خالد سہل کی جیت ہے۔ میرے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ میں نے پاکستان میں ماہر نفسیات کو خواتین کی طرف جس طرح کا امتیازی سلوک کرتے دیکھا ہے اس کے بعد میرے دل میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ خاتون مریض کی بات کو سننے اور سمجھنے سے پہلے ہی یہ پری سیٹ نوشن دماغ میں بیٹھی ہوتی ہے کہ یہ خاتون ہے اس کو شکایتیں کرنے اور بولنے کی عادت ہے اس لیے ہر طرح کا ڈپریشن انگزائٹی حتیٰ کہ سیریس مینٹل النیس شیزوفرینا کو بھی اسی کھاتے میں یا مذہب سے دوری، بے راہروی، صبر اور ایثار کے فقدان اور بابوں کے جن بھوتوں کے کھاتے میں جاتے دیکھا ہے۔ میرے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ مالٹن وومن کونسل کے ذریعے امیگرنٹ انڈو پاک خواتین اس فلاسفی سے استفادہ کر رہی ہیں کہ ہجرت خواتین کے لیے خاص طور پر زیادہ مسائل کا باعث بنتی ہے جہاں ان کا گھر وطن ان سے چھوٹ جاتا ہے وہاں بیک وقت دو کلچرز میں زندہ رہنا پڑتا ہے۔ معاشی مسائل کی وجہ سے ان کو کام کرنے کی اجازت تو دی جاتی ہے لیکن خود ساختہ مشرقی روایات کی لکشمن ریکھا کے اندر۔

ڈاکٹر خالد سہیل کو میں نے کبھی کسی خاتون کو belittle کرتے نہیں دیکھا وہ گرین زون فلسفے کو مرد اور عورت کی برابری کی بنیاد پر ترویج کرتے ہیں۔ یہ ایک میڈیکل پرسن کے پروفیشنل ہونے کی دلیل ہے کہ وہ جینڈر biased نہیں۔ لیکن ان کا صرف یہ کمال نہیں بلکہ میرے لیے حیرت انگیز بات عام لوگوں کی ان تک آسان رسائی ہے۔ آپ نے ان کو مسیج کیا آپ کو لازماً جواب آئے گا۔ آپ ٹورنٹو میں موجود ہیں وہ آپ کو ملنے کی دعوت دیں گے اور اگر آپ میری طرح کے کھٹروس ہیں اور جا کر ملنے پہ ہچکچا رہے ہیں وہ اپنا بیگ اٹھا کر آپ سے ملنے آ جائیں گے اور اکثر لوگوں کو یہ عام سی بات لگتی ہے جو کہ نہیں ہے۔ کینیڈا میں ایک پروفیشنل سائیکارٹسٹ سے ٹائم لینے کے لیے سال کا انتظار ہے اور ایک منٹ مقررہ وقت سے اوپر نہیں جاتا۔ ڈاکٹر صاحب کا رویہ ان کی انسان دوستی کا ثبوت ہے اور یہی چیز اس کتاب میں نمایاں ہے۔ اس کتاب میں مختلف طبقہ ہائے فکر رکھنے والے لوگوں کی گرین زون سفر کی کہانیاں شامل کی گئی ہیں جنہوں نے ڈاکٹر صاحب اور ثمر اور زہرہ کے ساتھ یہ ورکشاپ اٹینڈ کیں اور ہر کہانی میں انسان دوستی اور ان تینوں کی دوسرے انسانوں کے مسائل کو سمجھنے اور ساتھ دینے کا حوالہ ملے گا چاہے جو بھی مسائل تھے کہیں کسی کے مسئلے کو رد کر کے اس کو دھتکارا نہیں گیا اور نہ ہی مذہب، لسانیت یا قوم کے اوپر کسی کو گیس لائٹ کیا گیا کہ یہ چیزیں ہمارے کلچر اور میڈیکل پروفیشن میں عام ہیں۔

اس لیے میری لیے بہت حیرت کی بات ہوتی ہے جب ڈاکٹر خالد سہیل کی دہریت کا ذکر کیا جاتا ہے بلکہ ساتھ میں اس حیرت کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ ”اتنے انسان دوست ہیں لیکن خدا کو نہیں مانتے“ انسان دوستی کا خدا کو ماننے سے کیا تعلق ہے اور اس کا ذکر میں نے کی دفعہ اس کتاب میں کہانیوں میں بھی پڑھا میرے لیے حیرت ناک ہے مجھے پہلی ملاقات میں جب ڈاکٹر صاحب نے اپنے دہریے ہونے کا بتایا تو میں نے کندھے اچکا کر ان سے ان کے طبقاتی نظام پر بطور ماہر نفسیات رائے سننے چاہی کیونکہ مذاہب کو ماننے والے ایک دوسرے کو نہیں مانتے ایک مذاہب کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں اس لیے یہ ایک غیر اہم بات ہے میرے لیے۔ ایک میڈیکل ڈاکٹر اور ماہر نفسیات کو مذہب سے بالاتر ہو کر اپنے مریضوں کا علاج کرنا ہوتا ہے اور انسانیت کا تعلق مذہب سے نہیں اخلاقیات سے ہے اور اخلاقیات کا تعلق تہذیب سے ہے۔ اس لیے لوگوں کو ڈاکٹر خالد سہیل کی دہریت پر فوکس کرنے کی بجائے ان کے ماہر نفسیات کی حیثیت پر غور کرنا چاہیے جن کا کینیڈا میں ایک منٹ کئی ڈالر کا ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے اسی لیے میرے سے پہلی ملاقات میں ڈاکٹر صاحب نے اس جملے کو Litmus test کے طور پر استعمال کیا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا میں رائٹ ونگ فاشزم مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوا دے رہی ہے یہ کتاب انسانیت کو فوکس کرتی ہے اور ہر قسم کے تضادات سے بالاتر ہو کر نفسیاتی مسائل کے حل اور اس میں اپنے پر انحصار کی ترویج کرتی ہے تاکہ ہمارے درمیان مذہبی قدامت پسندی کے جو sleeper cells موجود ہیں ہم ان سے نبٹنے کے قابل ہو سکیں۔ یہ خود انحصاری اس کا چوتھا ستون ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ نفسیاتی مسائل کے علاج میں ایک بہت بڑا مسئلہ طبقاتی نظام میں پیسے کی غیر منصفانہ تقسیم سے کھڑے ہونے والے مسائل ہیں ہے۔ ڈپریشن یا انگزائٹی امیر کو ہو تو اس کا برن آؤٹ ہوتا ہے وہ ورکنگ وکیشنز پر جا سکتا ہے لیکن اگر یہ غریب کو ہو وہ تو ہڈ حرام اور کام چور ہوتا ہے اور اس کے پاس کام نہ کر کے اپنے آپ کو ریسٹ دینے کا آپشن نہیں ہے اس کے ساتھ علاج کے مواقع بھی بہت محدود ہیں۔ نہ صرف اس فلاسفی سے ثمر اور ڈاکٹر صاحب ان لوگوں تک پہنچے جو علاج کی استطاعت نہیں رکھتے بلکہ اس کا اردو میں ترجمہ کر کے اس کو عام آدمی کی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کی اور خود اس کی مثال ڈاکٹر خالد سہیل نے ذیابیطس کے علاج سے دی جس میں مریض کا اپنا خود خیال رکھنا دوائی سے زیادہ اہم ہے اس لیے میں کئی مواقع پر ان کو ایک سوشلسٹ ہیومنسٹ سائیکارٹسٹ کہتی ہو۔ اس کتاب میں گرین زون فلاسفی کو بیان کرنے کے لیے جن اصطلاحات کا سہارا لیا گیا ہے وہ میرے لیے بہت دلچسپ ہے خاص کر ایموشنل رین کوٹ کی اصطلاح میں اس کو غلام عباس کے افسانے overcoat سے تشبیہ دیتی ہوں

اور جب میرے ریڈ زون میں ڈاکٹر صاحب مجھے اس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں تو مجھے بتانا پڑتا ہے کہ میرا ایموشنل اوور کوٹ غریب کا اوور کوٹ ہے جس میں بڑے بڑے سوراخ ہیں۔ لیکن اس کی وجہ سے میں سروائیو کر پائی میرے لیے کھانا پکانا گھر کے کام مصیبت سے کم نہیں اور اس اوور کوٹ کا استعمال میں نے اپنے فون پر مستقل ایسی چیزیں لگا کے کیا جن موضوعات کے اوپر میں لکھنے کا ارادہ رکھتی ہوں اور اپنے ذہن میں لائنیذن ترتیب دے کر کام کے دوران فون پر ہی ٹائپ کرتی جاتی ہوں اور لکھتی جاتی ہوں اس سے پہلے ریسرچ نہ کر پانے کے باعث میں لکھنے سے احتراز کرتی تھی اور یہ مجھے میرے ایک انتہائی ریڈ زون کام کے دوران گرین زون میں رہنے میں مدد کراتا ہے میرے کچن میں نیلسن منڈیلا، چے گویرا، ایڈورڈ سعید، نون چومسکی سب کی آواز گونجتی ہے اور موڈ کی مناسبت سے فریدہ خانم اور سکھویندر بھی سنائی دیتے ہیں اور شاہ رخ اور مکی ماؤس ناچتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی اہمیت خاص کر creative minority سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے بہت زیادہ ہے کیونکہ ان کو ایک روایتی سوسائٹی میں سروائیو کرنے کے لیے ایک ایسا اوور کوٹ ہمہ وقت چاہیے جو ان کی روایات اور قدامت پسند سوچ کے حامل افراد سے حفاظت کر سکے۔

اسی طرح ڈاکٹر صاحب کا تجویز کردہ فیملی آف ہارٹ کو میں نے گرین زون کی ورکشاپس میں بنتے دیکھا۔ میں نے خود ایسے گرین زون دوست پائے جن سے ہزاروں میل کی دوری کے باوجود میں دل کی بات کہ سکتی ہوں اور کئی بار بغیر کہے بھی سمجھ جاتے ہیں اپنے والد کے جانے کے بعد عیدیں اور جنم دن میرے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں اور اس دن مجھے امریکہ سے سپنا چوپڑا کال کرتی ہیں اور وہ میرے سے زیادہ رو رہی ہوتی ہیں۔ مجھے ان کو چپ کرانا پڑتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کبھی میرے والدین کو نہیں دیکھا کہ وہ اس دکھ سے آشنا ہیں اور جانتی ہیں کہ مجھے اس وقت نصیحت کی نہیں ایک ایسے انسان کی ضرورت ہے جس کے ساتھ میں اپنی یادیں اپنے regrets اپنی خوشیاں اپنے دکھ relive کر سکوں اس افراتفری کے دور میں کسی کے دکھ کے دن یاد رکھنے سے زیادہ گرین زون کام کوئی نہیں ہو سکتا یہ ڈاکٹر خالد کے فلسفے کی کامیابی ہے۔ جس طرح سے ثمر نے اس فلسفے کا استعمال اSpecial need بچوں کے ساتھ کیا ہے میں امید کرتی ہوں ایک دن اس فلسفے کو معذور افراد کے لیے بھی عام کیا جا سکے گا اور تیسری دنیا کے ممالک میں جہاں عام آدمی کی زندگی اتنی مشکل ہے یہ ان افراد کی زندگی کو آسان بنا سکے گا کہ یہ میرے والدین کا بھی خواب ہے جنہوں نے ملتان میں سوسائٹی فار اسپیشل پرسنز کی بنیاد اس نظریے پر رکھی تھی۔

اس کتاب کو میں نفسیات کی پاکٹ بک کہوں گی کیو نکہ اس کی فلاسفی تمام انسان اپنی ضرورت کے مطابق اپنے لیے ٹیلر میڈ فٹ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں اور یہی اس فلسفے کی اور اس کتاب کی خوبصورتی ہے میری خواہش ہے کہ یہ فلسفہ اس کتاب کے ذریعے تمام marginalised communities تک پہنچے اور وہ علاج جس کو امیروں کا چونچلا کہا جاتا ہے وہ غریب عوام تک اس کی رسائی ہو اور بجائے نشے کا سہارا لینے کے وہ گرین زون فلسفے کا سہارا لیں۔ ثمر اور ڈاکٹر سہیل نے اپنے ماضی کے حوالے سے جس طرح کھول کر اپنی کہانی کو عام قاری کے سامنے رکھا ہے وہ اس تہذیب کا حصہ ہے جس میں انسان دوستی ان کو وراثت میں ملی ہے اور اس کا حق انہوں نے بخوبی ادا کیا ہے۔

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

یہ مضمون فمیلی آف دا ہارٹ کے زیر اہتمام ڈاکٹر خالد سہیل اور ثمر اشتیاق کی کتاب "پرسکون زندگی کی طرف سات قدم خواب اور تعبیر” کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا

Facebook Comments HS

2 thoughts on “گرین زون فلسفے کے چار ستون

  • 08/10/2024 at 6:35 شام
    Permalink

    very nice informative,, kyaa baat hy Dr Khalid Sohail Green Zone or aap ki tehreer ki

    • 09/10/2024 at 6:12 صبح
      Permalink

      , very informative book
      can somebody send me
      in pdf

Comments are closed.