ضیاء کے مارشل لا کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی عظیم قربانیاں
1983 کا سال پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے تاریک ادوار میں سے ایک تھا، جب جنرل ضیاء الحق کا آمرانہ مارشل لا اختلاف رائے کو کچل رہا تھا اور جمہوری آوازوں کو خاموش کیا جا رہا تھا۔ ایسے میں جو لوگ اس بے رحم حکومت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک بڑا نام محمود خان اچکزئی کا تھا۔ 7 اکتوبر کو، محمود خان اچکزئی، جو اُس وقت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (اب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی) کے نمایاں رہنما تھے، نے کوئٹہ میں جمہوریت کی بحالی اور جابرانہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک پرامن احتجاج کی قیادت کی۔ مگر یہ مظاہرہ وحشیانہ طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا، اور یوں پاکستان کے سیاسی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہوا
جب مظاہرین قندھاری بازار کوئٹہ پہنچے تو فضا میں امید اور بغاوت کی ملی جلی کیفیت تھی۔ یہ پرامن مارچ جلد ہی ایک ہولناک منظر میں بدل گیا جب پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے نہتے مظاہرین پر بے دریغ فائرنگ کی۔ گولیوں کی گھن گرج اور زخمیوں کی چیخوں سے فضا گونج اٹھی، جب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چار جانثار کارکن، اولس یار، کاکا محمود، کاکا رمضان، اور داؤد جان، گولیاں سینے پر لگنے سے زمین پر گر کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کوئٹہ کی سڑکیں ان بہادر شہدا کے خون سے سرخ ہو گئیں، جن کا واحد جرم ایک جمہوری پاکستان کا خواب دیکھنا تھا۔
یہ سفاکیت ان چار بہادر جانوں کی شہادت پر ختم نہیں ہوئی۔ اس خونریز کارروائی میں 29 سیاسی کارکنان شدید زخمی ہو گئے، جن کے جسم ان ظالم طاقتوں کی بربریت کی کہانیاں بیان کرتے ہیں جو کسی پر رحم نہیں کرتی تھیں۔ مزید برآں، 61 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا، جنہیں نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا، اور بعد میں انہیں کہی سالوں تک جیل میں رکھا گیا۔
یہ وحشیانہ ردعمل ضیاء الحق کی حکومت کی جانب سے اختلاف رائے کو دبانے کی انتہاؤں کی عکاسی کرتا تھا۔ ضیاء الحق کے مارشل لا کا دور مخالفین کو کچلنے کے لئے بدنام تھا۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، پریس پر سخت پابندیاں تھیں، اور اختلاف کرنے والوں کو یا تو قید کر دیا جاتا یا انہیں پھانسی دے دی جاتی۔ حکومت کے سخت اور بے رحم رویے نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا تھا جس میں کسی بھی قسم کی آواز اٹھانے پر سنگین نتائج بھگتنے پڑتے۔
7 اکتوبر 1983 کے واقعات اس جبر کی ایک نمایاں مثال تھے، جہاں حکومت نے ہر قسم کی مزاحمت کو کچلنے کے لئے بے پناہ طاقت کا استعمال کیا۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود، جمہوریت کی جدوجہد دم نہ توڑ سکی۔ محمود خان اچکزئی، جو اپنی جان کے سنگین خطرات سے دوچار تھے، چھ سال کے لئے جلاوطنی میں چلے گئے۔ لیکن دور رہ کر بھی، وہ جمہوریت کی حمایت میں مضبوطی سے ڈٹے رہے، اور ضیاء کے مارشل لاء کی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی آمریت کے خلاف جدوجہد ایک عظیم حوصلے اور قربانی کی کہانی ہے۔ اس جماعت کی تاریخ آمریت کے خلاف ایک انتھک جدوجہد سے عبارت ہے، چاہے وہ ضیاء الحق کے مارشل لا کا دور ہو یا آج کا دور۔ ان کی جدوجہد پاکستان کو زیادہ جمہوری اور منصفانہ بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش ہے، اور وہ ان شہدا کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے ہوئے ہیں جنہوں نے اس عظیم مقصد کے لئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔

