ذاکر نائیک کا دورہ پاکستان اور پبلک پراپرٹی عورتیں

ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان آئے تو انہیں لگا کہ وہ اپنے ہی گھر آ گئے ہیں۔ ان کا انسانوں کے درمیان ہر طرح کی تفریق پھیلانے کا کاروبار یہاں تو پہلے سے ہی بہت مقبول، وسیع اور منافع بخش ہے۔ ڈاکٹر ذاکر کے پسندیدہ شکار عورتیں ہیں اور وہ لوگ ہیں جنہیں ہم غیر مسلم اقلیتیں کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر ذاکر کی طرح ہمارے آئیڈیل بھی اوریا مقبول جان، طالبان اور سانپ ہی ہیں۔ ہم تو صدیوں سے عورتوں کو پراپرٹی یا اپنی ملکیتی اشیا کی لسٹ میں شامل کرتے ہیں۔ جیسا کہ زن، زر اور زمین کی مثال ہمارے پنجاب میں اکثر دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر ہم سے صرف اتنے سے ایڈوانس نکلے کہ انہوں نے عورتوں کو پرائیویٹ پراپرٹی کی بجائے پبلک پراپرٹی ڈیکلیئر کر دیا۔ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ وہ عورت کو ”پبلک پراپرٹی“ کہہ کر بہت رعایت برت رہے ہیں۔ ابھی کسی دن وہ بتا دیں گے کہ اگر وہ عورت کے ساتھ یہ رعایت نہ برتیں تو پھر کیا کہیں گے۔
ڈاکٹر ذاکر یہ جان کر خوش ہوں گے کہ انہوں نے تو بغیر خاوند کے عورت کو ”پبلک پراپرٹی“ کہہ کر رعایت کی ہے لیکن ہم عورت کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرتے۔ انہیں یہ جان کر مزید خوشی ہو گی کہ ان کے پاکستانی پیروکار ایک تیر میں تین تین شکار کرتے ہیں۔ جب ہم کسی پندرہ سالہ کنواری ہندو یا مسیحی لڑکی کو دیکھتے ہیں تو اس کو اغوا کر کے زبردستی مسلمان بناتے ہیں پھر اسے کسی گھٹیا، لالچی جنسی درندے سے بیاہ دینے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ اس بچی کے اغوا کو شادی کا رنگ دینے والے ڈاکٹر ذاکر جیسے ملا ہی ہوتے ہیں چاہے وہ ڈاکٹر ذاکر کو صحیح العقیدہ عالم مانتے ہوں یا انگریزوں کی نقل کرنے والا جاہل۔ اس کاروبار میں ثواب کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاتھ کافی پیسے بھی لگتے ہیں۔ کاروبار جو ہوا۔
ڈاکٹر ذاکر ایک غیر معمولی یاداشت کے مالک ہیں۔ وہ اپنی اس فیم کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کبھی کبھار روانی میں ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا یوں سمجھیں کہ جھوٹ ہوتا ہے۔ آج کل فوری فیکٹ چیکنگ کا دور ہے۔ یو ٹیوب پر لوگوں نے ڈاکٹر ذاکر کے بیانات کے بخیے ادھیڑ کر رکھے ہوئے ہیں۔ خیر یہ باتیں ان لوگوں کے لیے اہم ہیں جو کہی سنی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے ان کے متعلق سوالات اٹھانے کی اہلیت رکھتے ہوں، باقی جا کر اپنی بھینس چرائیں۔ جن کا یقین ڈاکٹر ذاکر کی طرح محکم ہے ان کے لیے فیکٹ چیکنگ ایک بیرونی سازش کے علاوہ کچھ نہیں۔
ڈاکٹر ذاکر ایک گھمنڈی آدمی ہیں کیونکہ انہیں اپنے جنت میں جانے کا مکمل یقین ہے۔ ان کے لہجے میں تلخی ہے کیونکہ وہ عالم ہیں اور باقی سب عالم نہیں ہیں۔ وہ انسانوں میں برابری کے قائل نہیں ہیں اور اسی بات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ کسی بھی دوسرے مذہبی آدمی کی طرح مساجنی ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ یہ ساری خصوصیات ان کا علمی قد بہت چھوٹا کر دیتی ہیں۔ ہمارے خیبر پختون خواہ کی پلوشہ کے ایک سیدھے سادھے سوال اس اوپن سیکرٹ کو مزید کھول کے رکھ دیا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے دماغ کے چھوٹے اور دل کے تنگ ہونے کا اندازہ ان کے اس رد عمل سے بخوبی ہوتا ہے جو انہوں اس لڑکی کے سوال کے جواب میں اپنایا۔ اس لڑکی کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا سوال بہت معقول تھا۔ سوال میں کوئی پرابلم نہیں تھا سوائے اس کے کہ ڈاکٹر ذاکر کی سمجھ بوجھ سے بہت اونچا تھا اور اس کے پاس اس کا جواب بھی نہیں تھا۔ تو اس نے وہی ہتھکنڈے استعمال کیے جو ان جیسے عالم لوگ سوال سے جان چھڑانے کے لیے کرتے ہیں۔ یعنی سوال کو ہی غلط کہہ دیا، سوال کرنے والے کو ڈانٹ دیا اور اس پر کوئی الزام لگا دیا۔
ڈاکٹر ذاکر اسلام کے بارے میں ہمیں کون سی بات بتا رہا ہے جو پہلے ہی اسحاق ڈار کے ٹویٹس میں موجود نہیں ہے۔ وہ سرکاری دورے پر ہے۔ اس دورے کے اخراجات ہمارے ٹیکس اور ہمارے سروں پر لادے گئے قرضوں سے ادا ہو رہے ہیں۔ ان کا حساب کتاب ہمیں موجودہ نا اہل ترین، نالائق ترین اور کمزور ترین حکومت سے مانگنا چاہیے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کا دورہ پاکستان عورتوں کو پرائیویٹ پراپرٹی سے پبلک پراپرٹی ڈیکلیئر کرنے میں کامیاب رہا۔

