بھاری بستے اور خالی دماغ
اسکول اور مدارس میں فرق اتنا ہے کہ والدین بچے کو دنیاوی طور سے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو اسکول بھیج دیتے ہیں۔ مذہبی بنانا چاہتے ہیں تو مدرسے میں ڈال دیتے ہیں۔ اسکولوں کی بھی مختلف اقسام ہیں مثلاً سرکاری اور پرائیویٹ اور پھر پرائیویٹ اسکولوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ کی بحث الگ ہے۔ یہی نہیں اب مدارس کی اقسام کو ہی دیکھ لیں شیعہ، دیو بندی، اہلسنت و الجماعت تمام فرقوں کے اپنے اپنے مدارس ہیں۔ اسکولوں میں انگریزی اور اُردو جبکہ مدارس میں فرقہ پرستی بچوں کو اُلجھا کر رکھ دیتی ہے۔ وہ معصوم بچے جنہیں ابھی کھلنا ہے وہ کھلنے سے پہلے ہی مرجھانے لگتے ہیں۔
معصوم ذہنوں میں ہم یہ ٹھونس رہے ہوتے ہیں کہ انگریزی ایک اعلٰی زبان ہے اور اُردو نالائق لوگوں کی زبان ہے۔ انگریزی کی خاطر والدین بچوں کو مہنگے سے مہنگے اسکول میں داخل کرواتے ہیں اور جو والدین ان اعلیٰ اسکولوں میں داخلہ نہیں کروا سکتے ان کے بچے کہیں نہ کہیں احساس کمتری یا احساس محرومی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ ہائی فائی اسکولوں میں پڑھانے کے باوجود بھی والدین مطمئن نظر نہیں آتے۔ بچہ غلط کمپنی میں چلا گیا یا نشے کا عادی ہو گیا اور ہاتھ سے گیا۔ سرکاری اسکولوں کے مسائل الگ ہیں کہیں سہولیات کا فقدان ہے تو کہیں اساتذہ کے پڑھانے کے انداز سے مسئلہ ہے۔ مدارس میں آپ کا بچہ کبھی ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتا ہے تو کہیں جنسی تشدد کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔ مدارس والا معاملہ اسکولوں میں بھی ہے مگر یہ سب ایک ریفائنڈ انداز میں ہوتا ہے۔
اسکول میں اساتذہ کو ڈگری دیکھ کر تو بھرتی کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ان کی مینٹل ہیلتھ کیسی ہے یہ نہیں دیکھا جاتا۔ جبکہ دوسرے پروفیشنز میں مینٹلی فٹ ہونے کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ اسکولوں اور مدارس میں بھی یہ ٹیسٹ ہونا چاہیے تا کہ تشدد جیسے مسائل کو روکا جا سکے۔ مار پیٹ تو اب بیشتر اسکولوں میں ممنوع ہے۔ لیکن اب بھی بہت سے ذہنی مریض نہ صرف بچوں کو جسمانی بلکہ ذہنی اذیت بھی دیتے ہیں۔ گھر کا یا اپنی کسی ناکامی کا غصہ اساتذہ کو طلبہ پر نکالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
دوسری جانب یہ بھاری بھرکم اسکول بیگ بھی ایک قسم کا تشدد ہی ہے۔ اپنے وزن سے زیادہ بھاری تو بچوں کے بیگ ہیں۔ بچے آج کل ویسے بھی ناقص غذاؤں کی وجہ سے کمزور ہیں اور اوپر سے اسکول والے وزنی بیگ تھما کر ان کی ہڈیوں کا کچومر نکالنے پر تلے ہیں۔ یورپی ممالک میں یا تو اسکول میں لاکر کا نظام ہے یا ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ نے کتاب یا نوٹ بک کو متروک کر دیا ہے۔ لٰہذا وہاں بچے ذہنی اور جسمانی طور سے پُرسکون ہو کر پڑھائی پر توجہ دیتے ہیں۔
چلیں جی اب ایک نظر پڑھائی کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اسکول میں پڑھ کر بھی بچے کو ٹیوشن کی ضرورت تو پڑے گی اور ٹیوشن پڑھنے کے بعد نہ صرف اسکول کا بلکہ ٹیوشن کا ہوم ورک بھی کرنا پڑے گا۔ کھیل کود کا وقت کہاں رہا؟ بس جیسے ہی پڑھائی سے فری ہوا تو موبائل پکڑ لیا۔ بچوں میں بڑھتے وزن کے مسائل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں باہر جا کر کھیلنے کا نہ تو وقت ملتا ہے اور نہ ہی ماحول۔
اب دیکھیں جب یہ سب بچے اسکولوں اور مدارس سے نکلتے ہیں تو کیا بنتے ہیں۔ مدارس والے تو اپنے اپنے فرقے کے مولوی بن گئے اور جو اسکولوں سے پڑھ کر نکلے ان کے فرقے بھی الگ ہیں کسی کی انگریزی اچھی تو کوئی اُردو میں ڈگری لے کر بے روزگار پھر رہا۔ فرقہ واریت تو چلے گی چاہے دین ہو یا دنیا ہو۔
لیکن جو ہم نے بچوں کو سکھانا تھا وہ تو سکھایا ہی نہیں۔ معصوم سا بچہ اسکول میں آیا اسے محبت دینا تھی تا کہ وہ محبت کرنا جانتا، اسے احساس کمتری میں مبتلا کر کے اُردو انگریزی میں کنفیوز کر کے ہم نے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کر دیا۔ بس تمہیں اچھے نمبرز لینے ہیں یہ سنا سنا کر اُسے انسانیت میں فیل کروا دیا۔ اخلاقیات سکھانے کی بجائے بھاری بیگ تھما کر اُس کے کمزور شانوں کو جھکا دیا۔
ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو وہ اسکلز دے ہی نہیں رہا جو آج کے وقت کی ضرورت ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں بھی ہم بچوں کو سیاہی سے صفحے کالے کرنا ہی سکھا رہے ہیں۔ کیا یہ جو پڑھ رہے ہیں عملی زندگی میں ان کے کام بھی آئے گا؟ یا صرف ان کتابوں کا بوجھ ان کے کندھے جھکا رہا ہے؟ کیا تعلیمی نظام اور نصاب بدلنا وقت کا تقاضا نہیں ہے؟


