انڈیا اور پاکستان تبدیلیوں کے نئے مسافر


جنوبی ایشیا اس وقت مذہب، معیشت اور ثقافت کے میدانوں میں بہت بڑی تبدیلی، ٹوٹ پھوٹ اور آتش فشاں پھٹنے جیسی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ لبرلز اور مذہبی کی تقسیم بڑھ رہی ہے۔ کئی عقیدے ختم ہو رہے ہیں۔ کئی پرانی ثقافتیں اپنا آخری سانس لے رہی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چار ہزار سال پہلے جنوبی ایشیا لبرل ثقافتوں کی نمائندگی کرتا تھا۔ پھر چار ہزار سال قبل ہی اس خطّہ میں مذہب کے غلبے کا آغاز ہوا جس نے گزشتہ چار ہزار سال تک اس پہ راج کیا لیکن انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ایجاد نے انسانی ذہنوں خصوصاً نوجوان نسل کے اذہان میں کچھ ایسے دھماکے کیے ہیں کہ مذہب، ثقافت اور عقائد کے میدانوں میں تاریخی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا جنوبی ایشیا مغربی یورپ جیسا آزاد خیال لبرل مزاج خطّہ بننے جا رہا ہے؟ کیا یہاں مذہب پسندوں کو لبرلز کے مقابلے میں شکست ہو نے جا رہی ہے؟ کیا چار ہزار سال بعد دوبارہ یہاں لبرل ثقافتوں کا راج شروع ہو نے جا رہا ہے؟

براہِ مہربانی میرے اس بلاگ کو کسی پہ تنقید نہ سمجھی جائے۔ یہ ایک غیر جانبدار تجزیہ ہے اور مجھے تسلیم ہے کہ میرا یہ بلاگ اور تجزیہ حرفِ آخر نہیں۔ یہاں ایک بات یہ بھی لکھ دوں کہ جنوبی ایشیا کی کچھ بڑی زبانیں چھوٹی زبانیں بننے جا رہی ہیں اور کچھ علاقائی زبانیں بڑی زبانیں بننے جا رہی ہیں۔ اکبر شیخ اکبر یہاں پیش گوئی کر رہا ہے کہ پانچ دہائیوں بعد پنجابی اور سرائیکی ان دو زبانوں کو جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان اور انڈیا کی سب سے بڑی لِنگوا فرانکا زبانوں کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ ہو سکتا ہے اسے پڑھ کر کچھ قارئین ہنس رہے ہوں لیکن آپ خود بتائیں کیا اس وقت بالی وڈ فلموں، میوزک انڈسٹری اور سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک پہ ان دو زبانوں کا راج شروع نہیں ہو چکا؟ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں سوشل میڈیا یوزرز کا پچانوے فیصد حصّہ دیگر سوشل میڈیا اپلیکیشنز کی نسبت ٹک ٹاک کو زیادہ وقت دیتا ہے۔ راقم اردو زبان کو پسند کرتا ہے اور اپنا بلاگ اور ادبی تحریریں اسی زبان میں لکھنا پسند کرتا ہے لیکن اگر میں لکھوں کہ فلموں، میوزک اور سوشل میڈیا کی وجہ سے پنجابی زبان اردو سے بڑی زبان بننے جا رہی ہے تو ۔ خیر۔

ہو گا یہ کہ اردو زبان کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان بھی جنوبی ایشیا کی بڑی لِنگوا فرانکا زبان بن جائے گی تاہم روایتی پنجابی اور سرائیکی ثقافت اور رسم و رواج مقبولیت حاصل نہ کر پائیں گے بلکہ وہ اپنا پرانا علاقہ بھی کھو بیٹھیں گے۔ آپ تھوڑا غور کریں گے تو آپ کو ساری بات سمجھ آ جائے گی۔

جنوبی ایشیا کے کلچر میں بھی نمایاں تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ "ہم سب” پہ شائع ہونے والے اپنے بلاگز بعنوان ”کہرے والی سردی: انڈیا اور پاکستان کا بدلتا کلچر“ ، ”انڈیا اور پاکستان میں شادی کے بغیر اکٹھے رہنے کا رجحان“ وغیرہ میں راقم نے اس تبدیلی کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت کی پڑھی لکھی کلاس خصوصاً نوجوان نسل تیزی سے لا مذہب ہوتی جار ہی ہے، میں نے اس پہ بھی بلاگ لکھا تھا۔ پاکستان میں بھی نوجوان نسل کا مائنڈ سیٹ تبدیلی کے بڑے مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ خیر۔

مجھے ڈھول بین والا سرائیکی میوزک اور جھومر بہت اچھے لگتے ہیں۔ تنہائی میں ایسا ہوتا ہے کہ میں یوٹیوب پہ اس کی ویڈیوز لگا لیتا ہوں اور میرے ذہن کی الفا بیٹا لہریں ریلیکس موڈ میں چلی جاتی ہیں۔ ابھی بھی 6 اکتوبر 2024 کو یہ سطریں لکھتے ہوئے ڈھول بین والا میوزک سن رہا ہوں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کیا شادیوں پہ میوزک اور جھومر کا روایتی سرائیکی کلچر ختم ہو جائے گا؟

کچھ تبدیلیاں آ تو رہی ہیں۔ بہاول پور میں پہلے شادیوں کی رسمیں مسلسل آٹھ دن تک جاری رہتی تھیں۔ ”سرائیکی جاگوں“ کے نام پہ ڈھول بین موسیقی پروگرام، جھومر اور روایتی گوشت روٹی کا انتظام کیا جاتا تھا۔ پورے وسیب کو شادی پہ بلایا جاتا تھا۔ کھانے کی دیگوں کی لمبی قطار ہوتی۔ مہمانوں کے لیے وسیب کے ہر گھر سے چارپائی اور بستر ادھار لیے جاتے۔ اب شادی ہال کھانے کے فی کس چارجز اتنے زیادہ لے رہے ہیں کہ دوست احباب اور وسیب تو ایک طرف، میزبان خاندان رشتہ داروں میں سے بھی کچھ کو بلاتا ہے اور کچھ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ معیشت کے اتار چڑھاؤ نے ثقافتی رسم و رواج کو جاری رکھنے کے سامنے بھی بند باندھنا شروع کر دیے ہیں۔

جب میری شادی ہوئی تو مجھے دولہے کی کلائی پہ پہنایا جانے والا خوبصورت ”گاہنا“ دو گھوڑا بوسکی کا سوٹ اور گلے میں ہار پہننا بہت اچھا لگا۔ میرا بھانجا کہیں سے نسل در نسل چلے آنے والے ڈھول بین بجانے والوں کو لے آیا تھا۔ انھوں نے شادی ہال میں بندے کو ڈانس پہ اکسانے والی کچھ ایسی دھنیں بجائیں کہ کئی بار میرا دل کیا ڈھول والے کے پاس جا کر تھوڑی بہت جھومر ڈال لوں لیکن مجھے ہدایت تھی کہ چپ چاپ اسٹیج پہ بیٹھے رہنا ہے۔ اچھا، مرد کی آزادی بھی شادی سے پہلے تک ہوتی ہے۔ شادی کے بعد بظاہر بیوی اس کی محکوم ہوتی ہے لیکن درحقیقت بیوی کا ہی حکم چل رہا ہوتا ہے۔

اچھا، بارات والے دن دولہا کو جو پروٹوکول ملتا ہے تو دل کرتا ہے بندہ سو بار دولہا بنے لیکن کیا کیا جائے ”ظالم سماج“ کا وہ ”معصوم مردوں“ کی سنتا ہی کب ہے؟ چلو دوسری شادی نہ سہی، آئین و قانون میں دوسری بار صرف دولہا بننے کی اجازت تو ہونا چاہیے۔ حکومت کو اس پہ سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یقین جانیئے کچھ ”معصوم خواہشوں“ کے اظہار و تکمیل کی ”آئینی“ اجازت ملنے سے ملکی معیشت کو بڑا فائدہ ہو گا۔ خیر۔

سوشل میڈیا کے زیرِ اثر انڈین اور پاکستانی بیویوں کا مزاج بھی تھوڑا بدل گیا ہے۔ اب وہ شوہر کے سامنے پانی کا گلاس اُٹھا کر ساری رات کھڑی رہنے والی بیویاں نہیں رہیں بلکہ بڑے رعب سے کہہ رہی ہوتی ہیں ”برانڈڈ کپڑوں کی سیل آ رہی ہے بول پندرہ پندرہ ہزار روپے والے چار سوٹ لے کے دیتا ہے یا نہیں؟“

احباب کے لیے مشورہ ہے کہ تبدیلیوں کے اس دور میں خود کو شانت رکھیں۔ جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ مذہب اپنی جگہ رہے گا۔ لبرل ازم بھی اپنی جگہ بنائے گا۔ ثقافتی تبدیلیاں بھی رونما ہوں گی۔ دو تین صدیاں قبل یورپ میں بھی تبدیلیوں کی تحریک چلی تھی۔ وہاں اب بھی مذہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ لبرل ازم بھی موجود ہے اور چھوٹی بڑی ثقافتوں کے ماننے والے بھی موجود ہیں۔ کس ازم کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور کس کی کم ہے ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ قدرت کا بنایا ہوا خود کار سسٹم ہے جو اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ اعتدال، میانہ روی اور برداشت آپ کو پرسکون رکھیں گے۔ لمحہ موجود میں رہنا سیکھیں۔ تبدیلیوں سے پہلے کوئی تھا۔ تبدیلیوں کے دور میں ہم ہیں اور تبدیلیاں آ جانے کے بعد بھی کوئی ہو گا۔

سانس ہیں، ہم ہیں، رنگ ہیں اکبر میاں
رُکے سانس، ہم نہیں، رنگ ہیں، کوئی تو ہے

Facebook Comments HS