قیامت کب کی آ کر گزر گئی
صبح 6 بجے اٹھ کر خوشی خوشی سکول کے لئے تیار ہوئی، وین نے ہارن بجایا تو بھاگ کر وین میں بیٹھ کر سکول کی طرف روانہ ہو گئی۔ سب دوستوں سے ہنسی خوشی باتیں کرتے کرتے سکول کب آ گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ صبح کے50 :8 بجے تھے، ابھی دن کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک سکول کی عمارت ہلنے لگی ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین گول گول گھوم رہی ہے، دروازے کھڑکیاں زور زور سے بجنے لگے جیسے یہ ابھی ہمارے اوپر آ کر گر جائیں گے۔ ہمارے کانوں میں اچانک کسی کے چیخنے چلانے کی آواز سنائی دینے لگی۔ ہماری پرنسپل بھاگتے ہوئے ہمارے کلاس روم کی طرف آ رہی تھی اور زور سے چیخ رہی تھی کہ سب بچوں کو باہر صحن کی طرف لے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بھی بہہ رہے تھے اور زبان پہ کلمے کا ورد جاری تھا۔
اس ساری صورتحال کے بعد اچانک ہر طرف ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو پھر کچھ دیر کے بعد سب بچے اپنی اپنی کلاسز میں جا کر بیٹھ گئے۔ میں بات کر رہی ہوں 8 اکتوبر 2005 میں پیش آنے والے خوفناک زلزلے کی جس نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور سکول میں ہر طرف افراتفری دکھائی دینے لگی۔ مجھے آج بھی یہ تمام باتیں یاد ہیں جب میں آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی۔ جب زلزلہ آیا تو سب سے پہلے میرا خیال اپنی بہن کی طرف گیا جو کہ ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی، اس کے بعد گھر والوں کا خیال آیا کہ امی کیا کر رہی ہوں گی؟ میرے دل اور دماغ میں اس وقت یہی باتیں چل رہی تھیں کہ جلدی سے اُڑ کر گھر پہنچ جاؤں یا گھر فون کر کے خیریت معلوم کر سکوں مگر ایسا بھی ممکن نہ ہو سکا، چھٹی کا انتظار کیا اور پھر میں گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔
آخر کار گھر کو پہنچے تو سب کو سلامت دیکھ کر منہ سے یہی الفاظ نکلے کہ یا اللہ تیرا شکر ہے مگر جب گھر کی دیواروں پر نظر پڑی تو میں اور میری بہن دیواروں پر پڑی بڑی بڑی دراڑیں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے کہ ہمارا گھر زمین بوس ہونے سے بچ گیا۔ ابھی سب گھر والے بیٹھ کر زلزلے کی باتیں ہی کر رہے تھے کہ ٹی وی پر زلزلے سے ہونے والی تباہ کاریوں کی ویڈیوز دیکھی، تمام میڈیا چینلز پر اس وقت صرف ایک ہی بریکنگ نیوز چل رہی تھی اور وہ تھی ”زلزلہ“ ۔
زلزلے کے جو قیامت زدہ مناظر ہم نے میڈیا چینلز کے ذریعے دیکھے اس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے ممالک کو حیران و پریشان کر دیا۔ یہ زلزلہ 8 اکتوبر 2005 کو پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر میں آیا جس کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ زلزلہ خاص طور پر مظفرآباد اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں مہلک تھا۔ 2 سے 3 منٹ تک جاری رہنے والے زلزلے کے نتیجے میں تقریباً 86,000 لوگ ہلاک ہوئے، ہزاروں زخمی ہوئے، اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ اس قدرتی آفت نے انفراسٹرکچر، سکولوں اور اسپتالوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا جبکہ سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں اور کئی جگہوں پر بڑے بڑے شگاف بھی پڑ گئے۔
زلزلہ آنے کے بعد اہل پاکستان نے ایثار، جذبہ ہمدردی اور اخوت کا بے مثال مظاہرہ پیش کرتے ہوئے زلزلہ متاثرین کی مدد کی۔ میرے سکول میں بھی متاثرین کے لیے امدادی کیمپ لگایا گیا اور مجھ سمیت میرے دوستوں اور اساتذہ اور دیگر طالبات نے دل کھول کر امداد دی، اس کے علاوہ ہمارے کچھ اداکاروں نے بھی متاثرین کو امداد فراہم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مزید یہ کہ کراچی اور لاہور میں مقیم ممی ڈیڈی قسم کے لڑکے بھی زلزلہ زدہ علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی مدد کرتے دیکھے گئے۔ ملک بھر سے رقوم اور امدادی سامان ان علاقوں تک بھجوایا گیا۔ پاک فوج کے جوان اور سماجی تنظیموں کے اہل کاروں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور محبت و تعاون کی بے مثال تاریخ مرتب کی۔ بین الاقوامی برادری بھی متاثرین زلزلہ کی امداد میں پیش پیش رہی۔ بیرون ممالک سے ادویات ’کمبل‘ خیمے اور دیگر سامان بڑی تعداد میں موصول ہوا۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی مدد کرنے پہنچیں۔ نیز مختلف ممالک نے حکومت پاکستان کو تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالر فراہم کیے تاکہ زلزلہ متاثرین کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو پر کام شروع ہو سکے۔
اس خوفناک زلزلے کے بعد ، بے گھر ہونے والے افراد اور متاثرہ علاقوں میں کچھ واقعات میں لوٹ مار کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ زلزلے کی شدت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی افراتفری کی وجہ سے بعض لوگ ضرورت کی اشیاء، جیسے خوراک اور دوائیں، حاصل کرنے کے لیے لوٹ مار کا راستہ اختیار کرنے لگے۔
یہ صورتحال کچھ علاقوں میں خاص طور پر زیادہ نظر آئی، جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان اور امدادی کارروائیوں کی کمی تھی۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی بہت سے لوگ بھی تھے جو متاثرہ افراد کی مدد کے لیے آگے آئے اور امدادی کارروائیوں میں شامل ہوئے۔ زلزلے کے بعد، حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں نے امدادی کاموں کو منظم کرنے کی کوشش کی، لیکن افراتفری کی کیفیت میں لوٹ مار کے واقعات نے متاثرہ لوگوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کیں۔
زلزلے کے بعد متاثرہ لوگوں میں نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہوئے، بہت سے لوگ اپنے پیاروں کی موت یا کھوئی ہوئی املاک کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔ اس واقعے نے انسانی ہمدردی اور تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، کیونکہ بہت سے لوگ اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے نکلے، چاہے حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں۔
اس خوفناک زلزلے کو گزرے آج 19 برس بیت چکے ہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت اب تک بارشوں اور زلزلوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام رہی، حالانکہ بین الاقوامی برادری اور عوام کی جانب سے بے شمار عطیات ملے، مگر علاقے کی ماحولیات کے تحفظ یا تعلیم و صحت کے شعبے میں کچھ نہیں کیا گیا۔ یہ جان کر افسوس ہوتا ہے کہ اکتوبر 2005 کے زلزلے سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ شاید یہ لوگ ایک اور قدرتی آفت کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ امداد حاصل کی جا سکے، جو عوام اور ماحولیات کی قیمت پر پیسے بنانے کا باعث بنتی ہے۔ پچھلے اٹھارہ قیمتی سالوں میں ہم نے وقت ضائع کیا، اور موجودہ نظام میں حکومت پر زور دینا ناممکن لگتا ہے۔ تاہم، یہ وقت ہے کہ حکومت سخت قواعد و ضوابط بنا کر عمارتوں کی تعمیر کو منظم کرے، آلودگی کے خلاف اقدامات کرے، اور بنیادی صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنائے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اب بھی درست۔ سمت میں اقدام اٹھانے کا موقع موجود ہے، اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک مہلک ترین زلزلہ تھا۔ جس نے ہزاروں جانیں لے لیں اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔ اس تباہ کن واقعے نے متاثرین کو ایک نئی حقیقت سے آشنا کیا، جہاں انہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا اور بے گھر ہو گئے۔ مگر اس دردناک صورت حال میں، لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کا سہارا بننے کی کوشش کی۔ عزیز و اقارب کے کھو جانے کے باوجود، متاثرین نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہمت اور عزم کا مظاہرہ کیا، زندگیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی راہ بھی ہموار کی اور ان کی مشترکہ طاقت نے ان کی مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت فراہم کی۔ اس مصیبت کی گھڑی میں اظہار یکجہتی نے انسانیت کی خوبصورتی کو اجاگر کیا، جہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے آئے اور ان کے درد میں شریک ہوئے، یہ سب اس بات کا ثبوت تھا کہ محبت اور ہمدردی کی طاقت ہر مصیبت کو شکست دے سکتی ہے۔
بہت سے لوگوں نے اپنے پیاروں کی تصاویر اور کہانیاں آج تک اپنے دل کے قریب رکھیں ہوئی ہیں اور ان کی یادوں کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔
تُو جو بچھڑا، دل کا عالم بیاں نہ ہو سکا
یادوں کا ہر اک لمحہ، میرا غم بیان نہ ہو سکا

