مٹی سے بھری ایک ٹوکری: ہندی کہانی


مٹی سے بھری ایک ٹوکری
ہندی کہانی کار: ”مادھو راؤ سپرے“
ہندی سے اردو ترجمہ ”وقار احمد، گوجرانوالہ“

کسی امیر زمیندار کے محل کے قریب ایک غریب یتیم بیوہ کی جھونپڑی تھی۔ زمیندار صاحب کو جھونپڑی کی جگہ کا رقبہ اپنے محل میں شامل کرنے کی خواہش ہوئی۔ بیوہ سے بہت دفعہ کہا کہ اپنی جھونپڑی یہاں سے ہٹا لو، پر وہ تو کئی سالوں سے وہاں رہ رہی تھی، اس کا پیارا شوہر اور اکلوتا بیٹا بھی اسی جھونپڑی میں مرا تھا۔ اب ایک پوتی ہی تھی جو اس کے بڑھاپے کا واحد سہارا تھی۔ جب بھی اسے اپنا گزرا وقت یاد آتا تو وہ غم سے رونے لگتی اور جب سے اس نے اپنے پڑوسی زمیندار کی خواہش کی خبر سنی وہ تقریباً مردہ ہو چکی تھی۔ اس جھونپڑی میں اس کا دل اس قدر لگ گیا تھا کہ وہ بنا مرے یہاں سے نکلنا نہیں چاہتی تھی۔ زمیندار کے جب تمام حربے بے سود ثابت ہوئے تو اس نے مختلف چالیں چلنا شروع کر دی۔ جسم کی کھال اُدھیڑنے والے وکیلوں کی جیب گرم کر کہ اس نے عدالت کے ذریعے جھونپڑی پر اپنا قبضہ جما لیا اور بیوہ کو وہاں سے نکال دیا۔ وہ بے سہارا تو پہلے ہی تھی۔ پاس پڑوس میں کسی کے پاس جا کر رہنے لگی۔

ایک دن زمیندار اس جھونپڑی میں ٹہل رہا تھا اور نوکروں کو اپنے کام کے بارے میں بتا رہا تھا کہ وہ بیوہ ہاتھ میں ایک ٹوکری لیے وہاں پہنچی۔ زمیندار نے اسے دیکھتے ہی اپنے نوکروں سے کہا کہ اسے کہو یہاں سے دفعہ ہو جائے۔ وہ گِڑ گڑا کر بولی، ”مہاراج، یہ جھونپڑی تو اب آپ کی ہو گئی ہے۔ میں اسے لینے نہیں آئی۔ اگر معاف کریں تو میری آپ سے ایک درخواست ہے۔“ زمیندار صاحب نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے کہا۔ ”جب سے یہ جھونپڑی چھوڑی ہے، تب سے میری پوتی نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ میں نے اس کو بہت سمجھایا پر وہ ایک نہیں مانتی۔ پہی کہتی ہے کہ اپنے گھر چلو وہی کھانا کھاؤں گی۔ اب میں نے یہ سوچا ہے کہ اس جھونپڑی میں سے مٹی سے بھری ٹوکری لے جا کر اس کا چولہا بناتی ہوں اور اس پر روٹی پکاؤں گی۔ اس طرح مجھے یقین ہے کہ وہ روٹی کھانا شروع کر دے گی۔“ مہاراج، اس جھونپڑی سے مجھے ایک ٹوکری مٹی لینے کی اجازت دیں! ”زمیندار صاحب نے اجازت دے دی۔

بیوہ جھونپڑی کے اندر چلی گی۔ وہاں پہنچتے ہی اسے پرانی باتیں یاد آ گئیں اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اپنے اندرونی دکھوں پر قابو پاتے ہوئے اس نے اپنی ٹوکری مٹی سے بھری اور ہاتھوں سے دھکیلتے ہوئے باہر لے آئی۔ پھر اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے زمیندار سے درخواست کی کہ، ”مہاراج، ٹوکری کو اٹھانے میں میری مدد کریں تاکہ میں اس کو اپنے سر پر رکھ سکوں۔“

زمیندار صاحب پہلے تو ناراض ہو گئے۔ لیکن جب وہ بار بار ہاتھ جوڑ کر اس سے فریاد کرنے لگی تو اسے کچھ ترس آ گیا۔ کسی نوکر کو کہنے کی بجائے خود ہی ٹوکری بیوہ کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔ جیسے ہی ٹوکری کو اپنے ہاتھوں سے اٹھانے لگا تو معلوم ہوا کہ یہ کام ان کی طاقت سے باہر ہے۔ پھر اس نے پوری جان لگا کر ٹوکری کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک ہاتھ بھی اوپر نہ ہوئی۔ وہ شرمندہ ہو کر کہنے لگا، ”نہیں، یہ ٹوکری مجھ سے نہیں اٹھائی جائے گئی“ ۔

یہ سن کر بیوہ نے کہا ”مہاراج ناراض نہ ہونا، آپ سے ایک بھری ہوئی مٹی کی ٹوکری نہیں اٹھائی جاتی، اس جھونپڑی میں تو ہزاروں ٹوکریاں مٹی پڑی ہے۔ اس کا بوجھ آپ ساری زندگی کیسے اٹھائیں گے؟ اس بارے میں بھی تو آپ سوچیں۔“

زمیندار صاحب کو اپنی دولت کا گھمنڈ اتنا تھا کہ وہ اپنا فرض بھول گیا تھا۔ لیکن بیوہ کی باتیں سنتے ہی اس کی آنکھیں کھل گئی۔ اپنی بداعمالیوں سے توبہ کرتے ہوئے اس نے بیوہ سے معافی مانگی اور اسے اس کی جھونپڑی واپس کر دی۔

Facebook Comments HS

One thought on “مٹی سے بھری ایک ٹوکری: ہندی کہانی

  • 11/10/2024 at 1:21 صبح
    Permalink

    Mashallah keep it up bro

Comments are closed.