خان کی خود پسندی:جلتا ہے چراغ آج مرے نقش قدم سے
خود پسندی میں انسان خود کو دوسروں سے بڑا اور افضل سمجھتا ہے، اس سے تکبر اور انانیت جنم لیتی ہے جو خود پسند کو اس کے عیوب بھلا دیتی ہے۔ خود پسند اپنی کامیابیوں کی ہر خاص و عام کو جھوٹی سچی کہانیاں سناتا ہے۔
برطانوی کنسلٹنٹ ڈاکٹر ٹینیسن لی کی تحقیق کے مطابق خود پسندی کی پرکھ ان نکات سے ہوتی ہے۔
*اپنی اہم ہونے کا انتہائی احساس۔*کامیاب اور طاقتور ہونے کا وہم۔*خود کو انوکھا اور منفرد خیال کرنا۔
*سراہے جانے کی حد سے زیادہ طلب۔*ہر چیز پر اپنا حق گرداننا۔* باہمی رشتوں میں صرف اپنے بارے میں سوچنا۔* ہمدردی کے احساس کی کمی۔ *اپنے ہر عمل پر رشک کرنا۔* غرور اور گھمنڈ کا مظاہرہ۔
خان صاحب میں ان نکات کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے بقول آتش:
وہ گرم رو بادیہ عشق و جنوں ہوں
جلتا ہے چراغ آج مرے نقش قدم سے
خود پسندی کی آفت انسان کو مکمل تنہا کر دیتی ہے۔ عمران خان کو اسی نے تنہائی کا شکار کر دیا ہے اور انہیں کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی۔
اودھ کا بانکا حکمران واجد علی شاہ بھی اپنی حماقتوں اور بد انتظامی سے زیادہ خود پسندی میں یہ زعم رکھتا تھا کہ اس کے اقتدار سے خوش ہو کر ”اودھ“ کے عوام اسے برٹش سامراج کی لشکر کشی سے بچا لیں گے۔ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کے پائے کا کوئی شطرنج کا کھلاڑی نہیں جو اسے شکست دے سکے۔ اس کے مشیروں نے اسے چالوں میں الجھا کر حکمرانی کے امور سے لاتعلق رکھا اور آخرکار واجد علی شاہ کی بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔
عمران خان بھی خود پسندانہ فیصلوں ”عاجلانہ“ بیانیوں کے تناظر میں واجد شاہ دکھائی دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان جیسا کوئی کھلاڑی نہیں۔ سیاست اور حکمت عملی خواہش اور مرضی و منشا کی مرہون منت نہیں ہوتی بلکہ سیاست میں تاریخی خد و خال اور سیاسی مقاصد کی تکمیل سبک رفتاری اور سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے۔ سیاست میں عجلت پانی کاوہ ابال ہے جو چند لمحوں میں ٹھنڈا ہوتے ہی بے اثر ہو جاتا ہے۔ عمران خان کی موجودہ حکمت عملی بھی اسی کی عکاس ہے۔ ”ڈور کو سلجھا رہا ہوں اور سرا ملتا نہیں“ کے مصداق کوششوں کے باوجود ان کے ہاتھ کچھ نہیں آ رہا، عمران خان کے بیانیے کی طاقت ان غیر سیاسی نوجوانوں یا افراد تک ہی محدود ہے جو تعداد میں شاید زیادہ ہوں مگر تحریک انصاف کے لئے یہی غیر سیاسی فوج مستقبل میں ایسی چھچھوندر ثابت ہو گی جو اس کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکے گی۔ جس جذبے سے وہ آج کل اپنے خود پسند قائد عمران خان کی ہر بات پر لبیک کہہ رہے ہیں اسی جذباتیت سے وہ عمران خان کی سیاست کے بخیے ادھیڑ تے نظر آئیں گے۔
تاریخی تناظر میں سیاست تدبر غور و فکر اور مستقل سنجیدگی کا وہ عمل ہے جس کا غلط استعمال آپ کو شطرنج کے کھیل کی طرح مات سے دوچار کر سکتا ہے، شہرت اور رعایت کے بل بوتے پر سیاست میں بہت دیر تک چلنا نہ صرف محال بلکہ نا ممکن ہوتا ہے۔ ہٹلر نما فاشسٹ سوچ کے مالک عمران خان کی اقتدار سے محرومی کے بعد خود پسندی اب نرگسیت کے خوفناک مرض کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ عدلیہ، الیکشن کمیشن، نیب اور دیگر ادارے اگر آئین و قانون کے مطابق چلتے ہیں اور عمران خان کی خواہشات کو بروئے کار نہیں لاتے تو وہ ہر اس ادارے کے خلاف ہرزہ سرائی سے گریز نہیں کرتے جو ان کے مفادات کی نگہبانی یا مدد نہ کرے۔
سیاست میں طاقتور فوج کو کردار ادا کرنے کی دعوت دینا ان کی خود پسندانہ سوچ کا واضح مظہر ہے، ساتھ ہی وہ ضدی لڑکے کی طرح ہر الٹا قدم اٹھا رہے ہیں جو انہیں ایوان اقتدار تک لے جائے۔ عمران خان کی اس خود پسندانہ پالیسی کا منطقی نتیجہ رفتہ رفتہ عوام اور ان کے کارکنوں میں ان کی غیر سنجیدہ حکمت عملی کا مظہر گردانا جانے لگا ہے۔
عمران خان کی سیاست سے جو گالم گلوچ اور شخصیت پرستی کا جنون پیدا ہوا ہے وہ نیک شگون نہیں۔ تحریک انصاف کی جارحانہ حکمت عملی پرتشدد سیاست کے علاوہ ملکی اساس کو کمزور کرنے کی بنیاد پر قائم ہے۔ بعض تجزیہ کار واضح طور پر کہنے لگے ہیں کہ پی۔ ٹی۔ آئی کا ماضی یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کافی ہے کہ عمران خان جمہوریت کے پیچھے چھپ کر پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت کشمیر کا سودا، جوہری پروگرام کی بندش، پاکستان کو معاشی طور پر لاغر کرنے کے علاوہ بھارت، اسرائیل اور افغان دہشت گردوں کی مدد سے پاکستان کے تین ٹکڑے کرنا شامل ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کے طرز گفتار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے دلوں میں ریاست کے خلاف کتنی کدورت ہے؟
انہیں تمام اصول اب یاد آرہے ہیں جب وہ اپوزیشن بنچوں پر ہیں۔ تحریک انصاف کی جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے دعووں کا اپنے دورِ حکومت میں یہ عالم تھا کہ اس کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے منصب کا غیر آئینی استعمال کرتے ہوئے آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیریں اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد غیرآئینی قرار دے کر مسترد کردی تھی۔ عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کے لئے ملکی سلامتی اور استحکام کو داؤ پر لگا دیا اور جنرل فیض حمید کے آرمی چیف کے تقرر کے ذریعے 2028 تک اقتدار پر قابض رہنے کی سازش کی، جس کی ناکامی سے عمران خان نے اپنی سیاسی حکمت عملی ٹکراؤ میں تبدیل کی۔ ملک میں انتشار کے لیے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت (9 مئی) کو عملی شکل دی گئی جی۔ ایچ۔ کیو سمیت حساس تنصیبات پر پاکستان دشمنوں کی طرح حملے کیے گئے، فوج کو تقسیم کرنے، سیاست میں ملوث کرنے کے علاوہ اسے دنیا بھر میں دہشت گرد قرار دلانے کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحریک چلائی گئی۔ خان صاحب کی حالیہ احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کی کالیں نرگسیت کا اظہار ہی تو ہیں۔ شنگھائی کانفرنس سے قبل احتجاجی ناٹک سے ملک کے معاشی استحکام میں رکاوٹیں کھڑی کرنا مقصود ہے۔
عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں کتنے سیاستدانوں کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈالا اور متکبرانہ انداز میں جلسوں میں اعلان کرتے رہے کہ ”سیاسی مجرموں“ سے تمام سہولتیں واپس لے کر انہیں جیلوں میں بھی چین سے نہیں رہنے دیں گے۔ چنانچہ ان کے حکم پر سیاسی قیدیوں سے وہ تمام سہولتیں بھی واپس لے لی گئیں جو ان کا قانونی حق تھا۔ قومی پرچم اور ترانے کی بے حرمتی شاید ان کے منشور میں شامل ہے۔ جرمنی میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے پاکستانی قونصل خانے سے پرچم اتار پھینکا جبکہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے افغان ڈپلومیٹس کو اپنے فنکشن میں مدعو کر کے قومی ترانے کی بے حرمتی کرائی افغان ڈپلومیٹس نے تقریب میں قومی ترانے کے دوران احتراماً کھڑے ہونے سے انکار کر دیا۔ گنڈاپور نے اس حرکت پر پردہ ڈالنے کے لئے موقف اختیار کیا کہ افغان حکومت کو پاکستان کے قومی ترانے میں موسیقی پسند نہیں جس کی وجہ سے وہ ترانے کے احترام میں کھڑے نہیں ہوئے۔ بیرسٹر سیف الرحمن کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ کو احتجاج میں شریک ہونے کی دعوت کو کیا حب الوطنی کا نام دیا جاسکتا ہے؟ خدا کرے کہ خان صاحب خود پسندی کے زعم سے نکل کر حقائق کا سامنا کریں اور نرگسیت کے خوفناک مرض سے نجات حاصل کر کے ملک و قوم کی ترقی میں شریک ہوں۔


