سنہری آنکھوں والی لڑکی: بالزاک کا ہم جنس پرستی پر لکھا جانے والا حیرت انگریز ناول
سُنہری آنکھوں والی لڑکی بالزاک کے ناول ’دا گرل ود دا گولڈن آئیز‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ہم جس ترجمے سے مستفید ہوئے ہیں وہ روف کلاسرا نے کیا ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1835 میں فرانسیسی زبان میں چھپا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1930 میں نیویارک سے شائع کیا گیا۔ بالزاک نے ناول میں انیسویں صدی کے فرانسیسی معاشرے بالخصوص پیرس کے سیاسی و اخلاقی حالات، کو انتہائی گہرائی اور وسعت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اُس نے ناول کے ذریعے انسانی تعلقات کی نوعیت اور سماجی مسائل کو محبت، طاقت اور خواہشات کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔
ناول پیرس کے اعلیٰ طبقے کے طرزِ زندگی اور مشاغل کے پسِ منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ یہ ایسے سماج کی عکاسی ہے جہاں اخلاقیات کی سرحدیں دھندلاہٹ کا شکار ہیں، جہاں دولت اور طاقت کے نشے میں دھت افراد کی جسمانی خواہشات ان کے فیصلوں پر نظر انداز ہوتی ہیں۔ مصنف نے فکری انداز تحریر اپناتے ہوئے سماج کو بگڑے ہوئے اور شہوت پرست معاشرے کے طور پر پیش کیا ہے۔ جہاں لوگ مادیت پرست ہیں اور جسمانی آسودگی حاصل کرنے کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔
ناول کی کہانی خوب صورت اور دولت مند ہنری ڈی مارسائے کے گرد گھومتی ہے۔ لارڈ ڈیڈلے کے انتقال کے بعد ہنری خودمختار ہو جاتا ہے۔ وہ حد درجہ نرم خو ہے مگر ساتھ ہی شہوانی جذبات میں ڈوبا ہوا بھی ہے۔ وہ عورتوں کو متوجہ کرنے میں دل چسپی رکھتا ہے اور انہیں جسمانی آسودگی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ وہ اپنی رنگین زندگی میں اُس وقت مسائل کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ سُنہری آنکھوں والی ایک پُراسرار اور خوب صورت لڑکی کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ اس پر دل و جان سے فدا ہو جاتا ہے۔ لڑکی کا نام پاولیٹا ہے جو الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ ہنری کی خواہشات کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہے مگر جلد ہی محبت کی یہ داستان اپنے بھیانک انجام کو جا پہنچتی ہے۔
ناول کا انجام حیران کُن طور پر المناک ہے۔ جیسے ہی ہنری کو پاولیٹا کی خفیہ زندگی کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو اُس پر اپنی بے حسی اور محبت کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے۔ کہانی کا انجام مصنف کے فکری فہم کا عکاس ہے۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ مادیت پرستوں کے تعلقات جھوٹ، فریب اور بے وفائی پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ کہ سماجی پابندیاں اور اخلاقی قدریں اکثر خواہشات اور جذبات کے ہاتھوں شکست کھا جاتی ہیں۔ ناول کے اختتام پر قاری انسانی فطرت کے اُن پہلووں کو بھی با آسانی سمجھ لیتا ہے جو اکثر پوشیدہ ہی رہتے ہیں۔
ناول کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم محبت اور جسمانی خواہش کے درمیان فرق کرنے سے قاصر ہیں۔ ہنری جسے محبت کا نام دیتا ہے دراصل وہ اس کی جسمانی خواہش ہے جو اس کی شہوت کو ابھارتی ہے۔ یہاں ہم اس باریک فرق کو جانتے ہوئے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ محبت میں قربانی، باہمی احترام اور جذباتی وابستگی واجب ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس محض جسمانی خواہشات وقتی لذت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہنری سماجی اور معاشی طور پر مضبوط ہے اور وہ کامیابی کے حصول کے لیے اپنی طاقت اور حیثیت سے غلبہ پانا چاہتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہنری کو یقینِ کامل ہے کہ وہ پاولیٹا کے مزاج کو سمجھتا ہے اور اُس پر بڑی آسانی سے قابو پا سکتا ہے۔ مگر مختصر وقت میں ہی اُسے اپنی خود فریبی کا احساس ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ پہلو بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ہم خود کو حقیقت سے دُور رکھنے کے لیے خود کو بھی فریب دینے پر مائل دکھائی دیتے ہیں۔ مگر حقیقت جتنی بھی تلخ کیوں نہ ہو اس کا سامنا کرنا ہی راہِ نجات ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انسانی تعلقات پیچیدگیوں کا شکار رہتے ہیں۔ بالزاک نے اسی ضمن میں جذبات پر مبنی تعلقات کے نازک توازن پر بھی بات کی ہے۔ پاولیٹا اور مارکیز کے ہم جنسی مراسم بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ انسانی تعلقات نظر آنے سے کہیں زیادہ گنجلک ہو سکتے ہیں مگر ہم احساسیت اور نوعیت کو سمجھے بنا ہی وابستہ ہو جاتے ہیں۔
بالزاک نے اپنے فکشن میں فرانسیسی معاشرے کو اکثر ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ وہ ایسے سماج کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں مادی آسائشیں اور جسمانی لذتیں ماحول میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ لوگ لذت پسندی کو اخلاقی اقدار پر ترجیح دیتے ہوئے روحانی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ خوشیوں سے محروم ہیں۔ یہ ناول انسانی فطرت کے تاریک اور پوشیدہ پہلووں کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتا ہے۔ یہ ہمیں محبت، طاقت اور خواہشات کے بارے میں غور و فکر کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ ناول کے مطالعہ کے بعد باآسانی یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جذباتی تعلقات اور مادی دنیا میں توازن برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔
بالزاک کی مہارت ہے کہ وہ سیدھی سادی کہانی میں بھی وزنی مکالمے لکھتا ہے۔ کہانی کی شروعات دھیمے انداز میں ہوتی ہے جو سست روی سے آگے بڑھتے ہوئے اچانک ختم ہو جاتی ہے۔ وہ کرداروں پر خصوصی توجہ دیتا ہے، وہ انہیں پیچیدہ بنانے کے بجائے حقیت پسندانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
یوجین گرینڈ کے بعد اس ناول نے بھی جہاں فرانس میں تہلکہ مچایا وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی شناخت قائم کی اور بالزاک کے مداحوں میں اضافہ کیا۔ دونوں ناول مختلف ہیں، ان کی کہانیاں مختلف ہیں مگر ایک چیز مشترک ہے کہ وہ حقیقت نگاری کرتے ہوئے انیسویں صدی کے فرانسیسی معاشرے کی تصویر بخوبی پیش کرتا ہے۔


