لگے رہو منے بھائیو!


گنڈا پور صاحب آج کل پھر ٹاپ ٹرینڈ پہ ہیں۔ میڈیا میں کچھ حضرات ان کی گمشدگی کو سکرپٹ کے مطابق قرار دے رہے ہیں تو کوئی اسے جبری گمشدگیوں کی فہرست میں ڈال رہے ہیں۔ خیر جو بھی ہو رہا ہے، جو کوئی بھی کر رہا ہے یہ وفاق کے لیے نیک شگون نہیں ہے کیونکہ پنجاب اس کو ایک صوبے کے طرف سے خود پہ چڑھائی سے تشبیہ دے رہا ہے اور خیبرپختونخوا مظلومیت کا کارڈ کھیل رہا ہے۔ ایک صوبے کے سارے وسائل جلسے جلوسوں کے انعقاد اور دوسرے کی روک تھام پہ استعمال ہو رہے ہیں۔ ایک طرف تو صوبوں کے درمیان نفرتوں کی خلیج بڑھ رہی ہے دوسری طرف گردن تک قرضوں میں ڈوبی ہوئی حکومتوں کے وسائل عام آدمی پر خرچ ہونے کی بجائے لاحاصل مشقوں پہ برباد ہو رہے ہیں۔

قیدی نمبر 804 کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس میں تو ذرہ بھر بھی شک نہیں ہے کہ یہ نواز شریف اور زرداری کے ساتھ جو کچھ ماضی میں ہوا تھا اس سے مختلف ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کل طاقتوروں کا لاڈلا کوئی اور تھا اور آج کوئی اور۔ بس مہرے بدل گئے ہیں کھیل اور کھلاڑی تو وہی پرانے ہیں۔ طاقت کے اس کھیل میں ہمیشہ سے جو جیتتا چلا آ رہا ہے وہ آج بھی نہ صرف جیت رہا ہے بلکہ مزید مضبوط ہو رہا ہے، کیونکہ قیدی نمبر 804 اور حکومت دونوں نے خود سے قسم کھائی ہے کہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے طاقتوروں کو کسی بھی قیمت پر ساتھ ملا کر ایک دوسرے کو زیر کریں گے۔ اس میں جو طاقتوروں کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہوتا ہے تو دوسرا تحفظ آئین اور سول سپرمیسی کا علم بلند کر تا ہے۔

سویلین بالادستی کے یہ دلکش خوش نما نعرے سیاستدان حضرات کو اس وقت یاد کیوں نہیں آتے جب وہ پاور میں ہوتے ہیں یا پاور میں آنے کے لیے کچھ بھی کر گزر رہے ہوتے ہیں۔ ماضی قریب کا سویلین بالادستی کا خواہاں نواز شریف صاحب کبھی یہ بتانا پسند کریں گے کہ میثاق جمہوریت ہونے کے باوجود میمو گیٹ سکینڈل میں کالا کوٹ پہن کر طاقتوروں کا مہرہ کیوں بن گئے، انیسویں آئینی ترمیم پر سپریم کورٹ کے ہم خیال کیسے بن گئے، ایک منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جوڈیشل ایکٹویزم کی نذر کیوں کر گئے۔ اس سے کیا ملا آئندہ ٹرم کی و زیر اعظمی اور وہ بھی کمپرومائزڈ اور محدود اختیارات کے ساتھ۔ اس لیے جب پر پرزے نکالنے کی کوشش کی تو طاقتوروں نے اسی جوڈیشری کو استعمال کرتے ہوئے آپ کو بھی کوڑے دان میں ڈال دیا اور آپ صاحب جزوقتی نظریاتی بن گئے۔

آج خود نمائی کی طور پہ خود کو نیلسن منڈیلا کے ہم پلّہ تصور کرنے والا قیدی 804 پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر یہ تو دیکھے کہ نواز دور حکومت اور بعد میں خود اپنی ٹرم میں ایسا کون سا موقع نہیں تھا جب جب وہ طاقتوروں کے آلے کے طور پہ استعمال نہ ہوئے۔ مشہور دھرنے 2014 سے بلوچستان حکومت گرانے اور سینٹ سیٹیں چرانے تک، پانامہ لیکس سے ڈان لیکس تک، 2018 کا دھاندلی زدہ الیکشن سے سنجرانی کے دھونس دھاندلی زدہ سینیٹ چیئرمین بننے تک، میڈیا پر کنٹرول سے سپریم کورٹ میں قاضی فائز عیسیٰ پر ریفرنس بجھوانے تک۔

اس بد نصیب ملک کو کیا کہا جائے جب آئین ساز ادارے جبری گمشدگیوں کا بل خود گمشدہ کر دیں، سیاست میں پاؤں سے سر تک ڈوبے ہوئے ایک جرنیل کی توسیع کے لیے ایک ہی صف میں کھڑے ہوں، سیاستدانوں کا مراعاتی پیکج متفقہ طور پہ منظور ہو، نوکریاں، ٹھیکیداریاں، صنعتیں، جاگیر داریاں سیاست دانوں کی آل اولاد کے لیے ہو پھر بھی عام کارکن سڑکوں پہ چوکوں پہ تھانوں میں ڈنڈے کھا رہے ہوں اس لیے کہ پنکیوں، گوگیوں، ملک ریاضوں کو دن دگنی رات چوگنی ترقیاں حاصل ہوں۔ عام کارکن یہ سوال کیوں نہیں اٹھاتے کہ سول سپرمیسی کا خواب ہمارے آنکھوں میں سجا کر ہم اس کی تعبیر کیوں دیکھ نہیں پاتے۔ پیارو! یہ کوئی نظریات کا کھیل نہیں ہے یہ پاور کی گیم ہے اور وہ بھی صرف اپنی ذات کی حد تک تاکہ دوسروں کو زیر اور اپنے اپنے الووں کو سیدھا کرسکیں۔ سو اگر دوسروں کو طاقت بخشنے میں خود کو خوار و رسوا اور ذلیل کرنے کا شوق ہو تو لگے رہو پیارے منے پختون بھائیو!

Facebook Comments HS