دوستی کی راہ میں تحفظ اب بڑا مسئلہ ہے

7 اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے نے ایک بار پھر پاکستان اور چین کی دوستی میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور ایک بار پھر عالمی میڈیا اور پاکستان دشمن عناصر کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ چین پاکستان دوستی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے نمایاں منصوبے سی پیک کے مستقبل پر سوالات اٹھا سکیں۔ کراچی ائرپورٹ کے قریب ہونے والی اس دہشت گردی میں دو چینی اور ایک پاکستانی کے جاں بحق ہونے کے علاوہ ایک چینی شہری اور 17 دیگر شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پورٹ قاسم پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ کے چینی قافلے پر ہونے والے دہشت گرد حملے پر کہا ہے کہ چین اس واقعے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر صدمے میں ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی جلد از جلد تحقیقات کرے اور مجرموں کو سزا دے۔ اس حملے کے بعد چین کی وزارت خارجہ اور پاکستان میں چینی سفارت خانے اور قونصل خانوں نے فوری طور پر ایمرجنسی رسپانس میکانزم کو فعال کیا ہے اور فوری طور پر ردعمل دیا ہے۔ چین کا مطالبہ ہے کہ پاکستان زخمیوں کو بچانے اور ان کے علاج کے لئے ہر ممکن کوشش کرے، فوری اور مکمل تحقیقات کرے اور مجرموں کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری، چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی خامیوں کو موثر طریقے سے دور کر کے مزید موثر اقدامات کرے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سی پیک کو پاکستان میں حکومتی اور عوامی حمایت حاصل ہے اور پاکستان کے اکثریتی عوام یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ اس منصوبے سے ان کے مستقبل کی خوشحالی جڑی ہے سو حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والی بی ایل اے کے اس بیان کی کوئی قبولیت نہیں کہ یہ منصوبہ ملک یا صوبے یا کسی اکائی کے خلاف ہے۔ بی ایل اے اس سے قبل بھی کراچی گوادر اور ملک کے دیگر حصوں میں چینی شہریوں، مختلف منصوبوں میں شامل چینی اہلکاروں اور منصوبوں کو نقصان پہنچا چکی ہے لیکن کیا ان کارروائیوں سے اس کا موقف عوام میں مقبول ہوا ہے؟ میری رائے میں اس کا جواب نہیں ہے۔ پاکستان اور چین کی حکومتیں اور عوام سب اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی تمام انسانیت کی مشترکہ دشمن ہے اور دہشت گرد قوتوں کی جانب سے چین پاکستان باہمی اعتماد اور تعاون کو کمزور کرنے اور چین پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر کو ثبوتاژ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اسلام آباد میں چینی سفارت خانے میں چینی سفیر سے ملاقات میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملاقات میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
حالیہ واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے والی بی ایل اے کے سی پیک اور چینی شہریوں کو ہدف بنانے کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس سال کے شروع میں، بی ایل اے نے چینی مالی اعانت سے چلنے والی اسٹریٹجک بندرگاہ گوادر کے باہر پاکستانی بحری ہوائی اڈے اور ایک سرکاری کمپلیکس پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ مارچ میں ایک علیحدہ واقعے میں، شمال مغربی، پاکستان میں ایک خودکش دھماکے میں پانچ چینی کارکن اور ان کا مقامی ڈرائیور ہلاک ہو گئے تھے، جب ایک بمبار نے کارکنوں کے قافلے میں ایک گاڑی کو ٹکر مار دی تھی جب وہ دارالحکومت سے ملک کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبے داسو ڈیم کی طرف جا رہا تھا۔ نومبر 2018 میں، بی ایل اے نے کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ چھ ماہ بعد ، ایک علیحدگی پسند گروہ نے گوادار کے ایک پرتعیش ہوٹل پر حملہ کیا، جسے اکثر بندرگاہ پر کام کرنے والے چینی شہری استعمال کرتے تھے۔ جون 2020 میں، بی ایل اے نے کہا کہ وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ایک اور مہلک حملے کا ذمہ دار ہے۔ پچھلے سال اگست میں، بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے گوادار میں ایک پاکستانی فوجی دستے پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ چینی شہریوں کے ایک وفد کو ایک تعمیراتی منصوبے پر لے جا رہا تھا۔ پاکستانی فوج کے مطابق اس واقعے میں دو عسکریت پسند مارے گئے اور کسی فوجی اہلکار یا شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ان تمام واقعات کا جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت صاف نظر آ رہی ہے کہ پاکستان کے دشمن کیا چاہتے ہیں؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور اس خطے کی ترقی جنہیں قبول نہیں وہ زبان قوم رنگ مذہب سمیت کسی بھی شکل کو بہانہ بنا کر آئندہ بھی حملے کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمیں اس کا موثر جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ بطور قوم ہمیں اپنی انا، اپنے مفادات اور اپنے عدم تحفظات سے باہر نکل کر ملک کے لئے ایک اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے اور وہ اجتماعی سوچ اس وقت پاکستان کی معیشت اور پاکستان کی ترقی سمیت پاکستان کے مستقبل کے لئے ضروری ہے۔ ملک کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو ایک ایمرجنسی صورتحال کے تحت بڑھانا ہو گا اور اس کے لئے انٹیلی جنس الرٹ اور اداروں کے مابین تعاون کی خاص ضرورت ہے۔ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں روایتی طریقہ کار اور سوچ سے ہٹ کر ”پرو ایکٹو“ سوچ کو اپنانا ہو گا تا کہ کسی بھی واقعے کے ہونے کے بعد اس پر افسوس کی بجائے واقعے کے نہ ہونے کے اسباب پیدا کیے جا سکیں۔ سی پیک اور اس سے جڑی تمام ترقی میں پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دوست ملک کے شہریوں، اہلکاروں تنصیبات اور منصوبوں کی مکمل حفاظت کرے کیوں کہ یہ حفاظت کی ترقی کی ضمانت ہے۔
دنیا کے بدلتے حالات اور معاشی صورتحال میں پاکستان کے لئے اپنی بقا اور ترقی میں سی پیک کا اگلا مرحلہ اور گوادر پورٹ کا بلا خوف و خطر کام کرنا لازمی ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ترجیحات میں ملک دشمن عناصر کی سرکوبی اور ان کا قلع قمع کرنا ہو گا۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور آنے والا ہر لمحہ ہمیں منزل سے دور کرے گا یا قریب اس کا فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔

