پھولوں بھری منڈیر


میں شکستہ قدموں کے ساتھ چلتا جا رہا تھا۔ نظریں جھکائے ہوئے جیسا میں ہُوں۔ پھر مجھے وہ گیٹ دکھا پھولوں کی بیلیں اس پر سے جھک رہی تھیں۔ مجھے یاد ہے کیسے میں نے تعلیم کے لیے شہروں کی خاک چھانی اور اب برسوں بعد واپسی پر بھی یہ گیٹ اپنی خوبصورتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب پانچویں کلاس میں سکول پارٹی ہوئی تھی اور پھولوں والے گھر کی لڑکی نے ڈانس کیا تھا۔ اپنے سرخ فراک میں مجھے نظر کیوں نہیں آئی اور مجھے ٹیچر نے باہر کام سے بھیج دیا۔ میرے گھر کی دیواریں وتھیرنگ ہائٹس کی طرح اونچی ہیں جہاں کتابیں، مشینیں اور خاموشی ہے۔ کسی لڑکی کی چوڑیوں کی کھنکھناہٹ نہیں، کوئی رنگ نہیں، موسیقی نہیں بالکل میرے ضمیر کی طرح اندوہناک سناٹا ہے۔ میری غیر موجودگی میں وہ ذرا نہیں بدلی۔ ان پھولوں سے لیس دیواروں کے پیچھے اک سوچ کار فرما ہے جو مجھے چاہیے۔ جس حسرت کو کاندھوں پہ اٹھائے میں در بہ در پھرتا رہا۔ جسے بھینچنے کی مجھے اجازت نہیں۔ جو تین بھابیوں کے بعد بھی میرے گھر نہ آئی۔ اور قدرت نے بھی میرے جھولی میں جس کے مرجھائے ہوئے پھول ہی ڈالے۔

جب پہلی پالکی گھر اتری تھی۔ مجھے ابا کی عینک ڈھونڈنے نے دلہن کو دیکھنے تک نہیں دیا جیسے کل لکس سٹائل ایوارڈ میں سجاد علی کا گانا نہیں دیکھنے دیا۔ یہ دوغلا پن میری ذات کا حصہ بن گیا ہے۔ تم سے دور میں نے کتنی ہی حسین کلیوں کو پیسے دے کر موبائل سکرین پر بلایا مگر میری آنکھوں نے روشنی کی بارش میں بند ہونے کی ہی ٹھانی۔ اب بھی میں تمہارے جھوٹے بھرم اٹھائے پھرتا ہوں حالانکہ تمہاری چوکھٹ سے پار بھی کتنے ہی نخلستان ہیں۔ جن کی اشتہا انگیز رونق مجھے زمانوں سے اپنی طرف بلاتی ہے۔

کوئی عید کارڈ کی طرح، ہتھیلی پہ مہندی لگانے جیسی وہ مہین سی موتیے کی خوشبو۔ چھٹی کے بعد کندھے پر بستہ ڈالے کسی وجود کی تلاش میں سرگرداں عباد جسے تم نے کنک کہہ کر میرے جذبات کی دل شکنی کی۔ میری راتیں اس کی تلاش میں سرگرداں گزریں تو تم نے گناہ کی تہمت لگائی مگر حقیقت تو یہ ہے تم میرے قدرتی تجسس سے خوفزدہ ہو۔ پھر تم نے مجھے دیکھتے ہی ناک پہ نقاب درست کر ہی لیا۔

اگر تم خوابوں میں ہاتھ تھام لیتیں تو شاید میں اتنا در بدر نہ پھرتا۔ مگر تم نوافل میں دیوتاؤں کو خوش کرتی رہیں اور میں تمہارے چوڑی دار کے بل گننے کو ترستا رہا۔ آج بھی اس اونچی فصیل کے پیچھے وہی اُداسی ہے۔ بعض دفعہ عورتوں کی چیخ چنگھاڑ سنائی دیتی ہے مگر مرد وہی انسٹاگرام پر ، گھروں سے باہر کسی پھولوں بھری منڈیر کے منتظر ہیں۔ بکسوں میں بند عروسی جوڑے کون سے تہوار کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک دیگچی، جوتے اور چند گز کپڑے کی لڑائی میں تمہارا سہاگ بھوک کی چبھن لیے پھرتا ہے۔ تمہاری اپنی، پھولوں بھری منڈیر کا کیا فائدہ۔

Facebook Comments HS