سوشل میڈیا کے نوسرباز


ایک اچھا نوسرباز بننے کے لئے اِنسانی نفسیات پر عبور حاصِل ہونا بنیادی شرط ہے جب کہ موقع محل کے مطابق اُسے استعمال میں لانا آپ کو کامیابی سے قریب تر کر دیتا ہے۔ دوسرے نمبر پر اہمیّت ہے اُس چورن یا منجن کی جو آپ بیچیں گے یعنی آپ کے پاس کوئی ایسی ترکیب یا آئیڈیا ضرور ہونا چاہیے جِس کو سُن کر لوگ آپ کی طرف دوڑے چلے آئیں۔ اگر یہ دو اہم چیزیں آپ کے پاس نہیں ہیں تو آپ اِس معاشرے میں کبھی بھی کامیاب فراڈ نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر یہ دونوں چیزیں آپ کے پاس ہیں تو پھِر مبارک باد قبول فرمائیے، آپ بغیر کچھ کیے بھی نوّے فیصد کامیاب ہیں۔

وطنِ عزیز میں غُربت، تنگدستی، معاشی بدحالی اور بے روزگاری نے جہاں تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں پر نوسربازوں کی ایک بہت بڑی فوج کے قیام میں بھی یہی عوامِل کار فرما ہیں۔ یہ نوسرباز وطنِ عزیز کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہیں۔ لیکن اِن دھوکہ بازوں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت آپ کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر فعال نظر آئے گی۔ یہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر بے روزگار افراد اور خصوصاً نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل نوسرباز ماضی کے ٹھگّوں سے زیادہ ہوشیار، ظالم اور بے حِس ہیں۔ اور کیونکہ یہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ورغلا رہے ہیں اِس لئے اِن کا دائرہ کار بھی پوری دُنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ کسی بھی خاص طبقے یا صِنف کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ جو بھی اِن کے افکار سے متاثر ہو جائے وہ اپنا قیمتی وقت اور پیسہ برباد کر کے ہی اِس بات کو سمجھ پاتا ہے کہ اُس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

اِن کا مشہور طریقہ واردات یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں یہ لوگ عموماً یوٹیوب پر ایک چینل بناتے ہیں اور اُس چینل کو کامیاب کرنے کے لئے صبح شام اپنی ویڈیوز میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ گھر بیٹھے بِٹھائے ایک مہینے میں چار پانچ لاکھ روپیہ کمانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ اپنے ناظرین کو مختلف قِسم کی ویب سائٹس، ٹولز اور ایپلیکیشنز کی مدد سے پیسہ بنانے کے مختلف طریقوں پر کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اِن سب نوسربازوں کی طرف سے یو ٹیوب پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے تھمب نیل کچھ اِس طرح کے ہوتے ہیں۔ بغیر کسی اِنویسٹمنٹ کے گھر بیٹھے لاکھوں کمائیں۔ روزانہ آدھا گھنٹہ کام کر کے 30 سے 50 ہزار کمائیں۔ عمر کی حد 18 سے 60 سال، تعلیم کی کوئی قید نہیں۔ تجربے کی ضرورت نہیں ہے۔ نوکری ایک خاندان پالتی ہے جب کہ کاروبار نسلیں پالتا ہے۔ پورے پاکستان کے میل فی میل آن لائن کام سے فائدہ اُٹھائیں۔ سٹوڈنٹس اور گھریلو خواتین کو ترجیح دی جائے گی۔ وقت کی کوئی پابندی نہیں۔ روزانہ کے 6000 کماؤ پیمنٹ پروف کے ساتھ، وغیرہ وغیرہ۔

اِس طرح یہ لوگ مسلسل جھوٹ بول کر اور سادہ لوح عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنے چینل کی سبسکرپشن بڑھا لیتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ یوٹیوب کی پالیسی کے مطابق تمام شرائط پوری ہونے پر اِن کا چینل مونیٹائز ہو جاتا ہے اور اِن کی نوسر بازی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے۔ یعنی پہلے مرحلے میں اِن کو یوٹیوب کی طرف سے پیسے مِلنا شروع ہو جاتے ہیں یہ اپنی ویڈیوز کے دوران مختلف قِسم کے اشتہارات چلا سکتے ہیں۔ جب کہ اِن کے چینل کی ریٹنگ بھی بڑھ جاتی ہے۔ اِس طرح لوگوں کو کچھ مِلے یا نہ مِلے اِن کا کام چلنے لگ جاتا ہے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ جب تک یہ پہلے مرحلے میں کامیاب ہوتے ہیں تب تک اِن کو اپنے ناظرین کی نفسیات پر مکمل عبُور حاصِل ہو چکا ہوتا ہے کہ لوگ کس چیز کے بارے میں زیادہ جاننا پسند کرتے ہیں اور کِس ایپ، ویب سائیٹ یا سروِس کی جانِب لوگوں کا رجحان زیادہ ہے۔

دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کی نسبت زیادہ محنت طلب لیکن نفع بخش ہوتا ہے۔ اِس مرحلے میں یہ لوگوں کو مختلف قِسم کی ایپس کے بارے میں گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور واردات بھی ڈالتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ جِن ایپس کے بارے میں لوگوں کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اور لوگ کمنٹس میں اُن ایپس کے بارے میں مختلف قِسم کے سوالات کرتے ہیں تو یہ اُن ایپس کے بارے میں آن لائن کورسز کروانا شروع کر دیتے ہیں۔ جِس کی فیس ادا کرنے کے بعد لوگ اُس میں آن لائن شِرکت کر سکتے ہیں اور اگر کمنٹس وغیرہ نہ بھی آ رہے ہوں تو یہ فراڈئیے پھِر بھی کوئی نہ کوئی کورس ضرور کرواتے ہیں۔ اور اپنی ویڈیوز میں یہ بتاتے ہیں کہ فلاں ایپ کے بارے میں ہم اِتنے دِن کا آن لائن کورس شروع کروا رہے ہیں جِس کی رجسٹریشن فیس اِتنی ہے اور اِس کورس میں ہم آپ کو وہ گُر بتائیں گے جو آپ کی زندگی بدل دیں گے اور آپ آسانی سے اپنے کام کو ترقّی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ نہ صِرف خود یہ کام کر سکتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو ہماری طرح آن لائن لیکچر دے کر پیسے بھی کما سکتے ہیں۔ یعنی دوسرے مرحلے میں یوٹیوب کے ساتھ ساتھ عوام کی جیب سے بھی پیسے نکلوائے جاتے ہیں۔ اِس طرح اِن کا یہ فراڈ چلتا رہتا ہے۔ جبکہ اِن کورسز سے کامیاب ہو کر بغیر انویسٹمنٹ اور تجربے کے لاکھوں کمانے والا بندہ آج تک ہماری نظر سے تو نہیں گزرا۔

تیسرے مرحلے میں پرانے کورسز کی ریکارڈنگ بیچی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ ترغیب بھی دی جاتی ہے کہ یہ کورسز خریدنے کی صورت میں فلاں فلاں سروسز آپ کو ہماری طرف سے مفت مہیّا کی جائیں گی۔ مارکیٹ میں یہ سروسز اِتنی قیمت میں مِل رہی ہیں جب کہ ہمارے پلیٹ فارم کی طرف سے یہ سب آپ کو مفت مہیّا کیا جائے گا۔ الغرض جو کوئی بھی اِن سے رابطہ کر لے، اِن کے پاس پیسوں کے عِوض، بقول اِن کے، ہر مشکل کا حل موجود ہوتا ہے اور یہ کسی بھی کاروبار کی ترقّی کے لئے اپنی سروسز کو لازم قرار دیتے ہیں۔ یعنی آسان لفظوں میں یہ اپنا چُورن اور منجن ہی بیچتے ہیں اِس کے علاوہ اِن کا مطمح نظر اور کچھ نہیں ہوتا۔

اب سب سے زیادہ قابلِ تو جّہ بات یہ ہے کہ ہمارے وہ نوجوان جنہوں نے ابھی اپنی عملی زندگی میں قدم نہیں رکھا اور ایک بہتر مستقبل کی آس لگائے تعلیم حاصِل کر رہے ہیں وہ اِن نوسربازوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں اکثریت ان بچّوں کی ہی ہے۔ لیکن اُن کو اِس طرح کی بے سروپا اور جھوٹی سچی کہانیاں دِن رات سُنا سُنا کر ان کے لاشعور میں یہ بات راسخ کی جا رہی ہے کہ کسی نوکری اور کاروبار کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کے دور میں بس آن لائن کام ہی سب کاموں سے آسان اور سب سے زیادہ آمدن دینے والا کام ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب ہمارے نوجوان یہ سوچ لے کر عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو کیا وہ معاشی طور پر کامیاب زندگی گزار سکیں گے یا پھر وہ بھی نوسربازوں کی اِس فوج میں شامِل ہو کر سادہ لوح عوام کو لُوٹنے کے لئے مصروفِ عمل ہوں گے؟

Facebook Comments HS