ذاکر نائیک کا بیان: ہمارے معاشرے کا المیہ
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پاکستان کے دورے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مباحث جاری ہیں۔ خصوصاً ان کے پاکستان کے متعلق بیان کے بارے میں جس میں انھوں نے پاکستان کو غیر اسلامی معاشرہ گردانا۔ بقول ڈاکٹر صاحب کے وہ پاکستانی معاشرے کو اسلامی معاشرہ خیال کر رہے تھے۔ اس بات کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے خیال میں پاکستان ایک ایسا اسلامی معاشرہ تھا جہاں اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل در آمد ہوتا ہو جو انسانیت پر مبنی ہیں، جن کی بنا پر دو نمبری، دھوکے بازی، طاقت کے غلط استعمال سے اجتناب کیا جاتا ہو، خواہ وہ طاقت کا استعمال کوئی بھی کرے جیسے استاد، شوہر یا باپ، یا جہاں انسانی رشتوں میں احترام برتا جاتا ہو۔
ان کے بیان کا دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں ملائیت رائج ہو جس کا زور اسلام کی سیاسی تشریح پر ہو۔ اگر دیکھا جائے تو ان کے بیان کے دوسرے پہلو کی صورت پاکستان میں دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں اسلام کی سیاسی تشریح رائج ہے، گو کہ ہمارا ایلیٹ طبقہ اس سے بالا ہے، ان کی زندگیوں میں اسلام کا نہ اخلاقی پہلو رائج ہے نہ ہی سیاسی، وہ نہ اسلام کے اخلاقی اصولوں کے مطابق طاقت کے غلط استعمال سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کسی مذہبی بیانیے کے مطابق خود کو قید کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک بذات خود اسلام کی سیاسی تشریح پر عمل پیرا رہے ہیں، جہاں ان کا مقصد صرف غیر مسلموں کو اسلام کے دائرے میں داخل کرنا رہا ہے، انسانوں کے اخلاقی معیار درست کرنے سے علماء کو کوئی سر و کار نہیں اگر کبھی اخلاق کی بات کی بھی جاتی ہے تو وہ بھی معاشرے کا گلا گھونٹنے اور اس پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے جہاں یہ اخلاقیات کی من پسند تعریف بیان کرتے ہیں جبکہ اخلاقیات ہر انسان کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا درس دیتا ہے تاکہ تمام انسانوں کا بھلا ہو سکے۔ لیکن مذہبی افراد اسلام کے اخلاقی پہلو پر شاذ و نادر ہی روشنی ڈالتے ہیں اور کبھی اخلاقیات زیر بحث آئے بھی تو اس سے مقصود انسانوں کی بھلائی نہیں بلکہ ان کو قابو میں کرنا ہوتا ہے۔ ذاکر نائیک صاحب کا پاکستانی معاشرے کے اخلاقی بنیادوں پر غیر اسلامی ہونے کا مشاہدہ درست ہے اور ان کے علاوہ ہندوستان میں اور بھی کئی لوگ ہیں جن کو پاکستانی معاشرے کے حوالے سے غلط فہمیاں ہیں اور کئیوں کی ذاکر نائیک صاحب کی طرح دور بھی ہو چکی ہیں۔
ہندوستان میں مقیم کئی افراد پاکستان کو اسلام کے اخلاقی پہلوؤں کی صورت میں ایک بہترین معاشرہ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہندوستان میں ہونے والے ریاستی جبر کے خلاف آوازیں بلند کرتے رہے ہیں اور پسے ہوئے طبقات کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ ان میں سے ایک ارون دھتی رائے ہیں جو پاکستانی ریاست کو ہندوستانی ریاست کے مقابلے میں بہتر خیال کرتی ہیں۔ ایک مقام پر انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اپنے شہریوں پر ہندوستانی فوج کی طرح ظلم نہیں کرتی۔ یہ بات انھوں نے ہندوستانی فوج کے کشمیریوں کے ساتھ ظلم کے پس منظر میں کہی۔ ان کے اس بیان کے بعد ان پر ہندوستان کے تنگ نظر قوم پرست طبقے نے پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی گڈ بکس میں شامل ہونے کا الزام لگایا۔ لیکن ارون دھتی رائے نے یہ بات بغیر کسی تعصب کے، اپنے مشاہدے سے کی، کیونکہ ان کی پکڑ تاریخ ریاست، اور انصاف کے موضوعات پر کافی مضبوط ہے۔
بلا شبہ، ہندوستانی ریاست کے اہم کرتا دھرتا اونچی ذاتوں سے منسلک ہیں اور ریاست کے قائم ہونے سے پہلے ان کے ظلم کی ایک مکمل تاریخ ہے کہ کس طرح برہمنوں نے معاشرے پر اپنا تسلط قائم کیا اور لوگوں پر جبر کے ذریعے نا انصافی کی اور ان کو وسائل سے دور رکھا۔ یہ تاریخی پہلو آج کل ہندوستانی ریاست میں عیاں ہے اور اسلام اس پہلو کے بالکل برعکس ہے اور کسی بھی شخص یا گروہ کی ملوکیت کے خلاف ہے۔ اسلام کے بنیادی اصولوں سے یہی سمجھ آتا ہے اور ہندوستان میں مقیم انصاف پسند افراد اسلام کو پڑھتے اور سمجھتے بھی ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ریاست کو درست سمت دینے کے لیے اسلام کے بنیادی اصول کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہندوستان میں اسلام اور اس کے اصولوں کے خلاف عمومی طور پر طاقتور افراد ہیں جن کا معاشرے پر تسلط ہندو مت کی اقدار سے قائم ہے اور چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی سیکولر بنیادوں پر قائم ریاست اپنی اقدار برہمنوں کی استحصالی قدروں کے ساتھ تبدیل کر لے۔ سیکولر ازم کا مقصد ریاست کو مذہب کی بنیاد پر شہریوں کے ساتھ تفریق، امتیاز برتنے اور ظلم کرنے سے روکنا ہے جبکہ اسلام معاشرتی سطح پر ہر طرح کی تفریق اور نا انصافی کو ناکام بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کا انصاف پسند طبقہ جس نے اصل اسلام کو سمجھا ہے وہ اسلام کے بنیادی اصولوں کی تعریف کرتا ہے۔
میرے ہندوستان میں کئی دوست ہیں اور ان میں سے ایک وہاں کے با وقار ادارے پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے کے شعبے میں تعلیم یافتہ ہیں، جن کا نام امرت پال سنگھ ہے۔ ان کی پنجاب یونیورسٹی ہماری والی سے قدرے مختلف ہے۔ ان سے ہندوستان اور پاکستان کے حالات حاضرہ اور دونوں ممالک کی تاریخ پر اکثر گفتگو ہوتی کئی مرتبہ بحث بھی ہو جاتی جب مجھے لگتا کہ وہ پاکستانی معاشرے کی بلا وجہ تعریف کر رہے ہیں اور میں بطور معاشرے سے ستائے ہوئے فرد کے ان کی کئی آراء کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا لیکن ان کی گفتگو علمی پس منظر میں ہوتی جبکہ میں معاشرے کے ساتھ اپنے تجربے کو گفتگو کی بنیاد بناتا۔ لیکن تین سال بعد آج وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاکستانی معاشرے سے متعلق خیالات محض تقابلیاتی بنیاد پر قائم تھے۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ جانتے تھے کہ پاکستانی معاشرہ اسلامی اقدار پر قائم ہے لیکن جب پاکستانی معاشرے کو گہرائی سے سمجھا، جب یہاں کے لوگوں سے روابط قائم ہوئے تو ان کو حیرانی ہوئی کہ پاکستانی معاشرہ اسلامی قدروں سے بالکل مختلف فیوڈل روایات پر قائم ہے جس کا مقصد صرف طاقتور کی اجارہ داری قائم کرنا ہے۔ پاکستان میں نہ بچوں کو حقوق حاصل ہیں نہ عورتوں کو اور جس بھی کمزور طبقے کی میں بات یہاں نہیں کر سکتا ان سب کے لیے پاکستان بہترین معاشرہ نہیں کیونکہ یہاں صرف طاقتور کا زور چلتا ہے، اس کی اپنی اخلاقیات ہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں یہاں ہر اس چیز کو سراہا جاتا ہے جو بد معاشی اور غلبے کو فروغ دے یہاں سدھو موسے والا جیسے انتشاری گائیک کو پسند کیا جاتا ہے۔ اسلام امن کا دین ہے لیکن جنگ و جدل کی شوقین پاکستانی قوم یہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ ہمارے ہاں پنجاب کے مشہور صوفیوں سے نفرت کی جاتی ہے اور ان کو کافر گردانا جاتا ہے جنھوں نے انسانیت کا درس دیا اور فرسودہ فیوڈل روایات کے خلاف اپنی زندگیاں صرف کر دیں۔
پاکستان میں اسلام تو ہے لیکن وہ طاقتور کی تشریح اور اس کے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے رائج ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ یہ باتیں کہہ کر دیکھ لیں جو میں نے کیں تو جواب میں اشتعال انگیز طور پر کہا جائے گا یہ دین ہے اور حکم ہے حالانکہ یہ باتیں وہ صرف اس لیے کرتے ہیں کیونکہ مدرسوں میں ان کی تربیت ایسی باتیں کرنے کے لیے ہوئی ہے۔ کبھی کبھار یہ تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ ملا کا اسلام اللہ کے اسلام سے مختلف ہے لیکن میرے نزدیک ابھی اسلام کا درست فہم حاصل کرنے کے لیے مزید گنجائش موجود ہے جو کہ معاشرے کی فیوڈل روایات میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے کیونکہ معاشرے پر تسلط برقرار رکھنے کے لیے یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مولوی اسلام کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے لیکن یہ مجبوری میں مانی گئی باتیں ہیں تاکہ مذہب کے نام پر غلبے کو ٹھیس نہ پہنچے۔
بہرحال، ذاکر نائیک سے نظریاتی اختلاف اپنی جگہ لیکن انھوں نے پاکستانی معاشرے کے حوالے سے جو باتیں کیں وہ کافی حد تک درست ہیں۔ بحیثیت ایک قوم اگر ہم ذاکر نائیک کی باتوں کو پیش کردہ پس منظر میں سمجھیں اور خود کو ان کے مطابق ڈھالیں بجائے ڈھٹائی سے دفاع کرنے کے تو ہمارا معاشرہ ترقی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔


