سوئٹزرلینڈ میں پہلا دن
ساڑھے گیارہ بارہ بجے کے قریب کولمار سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں عمیر کے ایک دوست کا فون آ گیا جو پچھلے ہفتے سوئٹرزلینڈ سے ہو کر گیا تھا۔ وہ اس سلسلے میں اپنی معلومات شیئر کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب آپ سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوں تو بارڈر سے 45 یورو میں ونگٹ ضرور خرید لیں۔ یہ دراصل ٹول ٹیکس کی ادائیگی کی رسید ہے جو ایک سال کے لیے جاری کی جاتی ہے اور ہر سال فروری کے آخر میں اس کی میعاد ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی اگر آپ فروری میں سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوتے ہیں تو یہ ونگٹ صرف فروری کے بقیہ دنوں کے لیے ہی کارآمد ہو گا لیکن اگر آپ مارچ میں وہاں جاتے ہیں تو یہی ونگٹ اگلے سال کے آخر تک یعنی سال بھر کے لیے کار آمد ہو گا۔
عمیر نے اُسے بتایا کہ ہم لوگ پہلے بھی یہاں دو تین بار آچکے ہیں لیکن علم نہ ہونے کی وجہ سے پہلے تو نہیں خریدا اور نہ ہی کسی نے ہمیں پوچھا تو وہ بولا کہ بہتر ہے کہ آپ ونگٹ لے ہی لیں ویسے یہ بارڈر سے لینا بھی ضروری نہیں ہے یہ ہر پٹرول پمپ پر بھی دستیاب ہوتا ہے۔ بڑے سٹوروں سے بھی مل جاتا ہے۔
اتنی دیر میں ہم سوئٹزرلینڈ کے سرحدی شہر باسل (Bassel) پہنچ چکے تھے۔ یہاں پر ماحول کچھ ایسا تھا کہ معلوم ہو رہا تھا کہ ہم دو ملکوں کی سرحد پر کھڑے ہیں۔ یہاں پر تین چار الگ الگ داخلی دروازے بنے ہوئے تھے اور ہر دروازے کے سامنے پولیس کے سپاہی کھڑے ہوئے تھے لیکن ہماری پولیس کے برعکس نہ تو وہ کسی گاڑی کو روک رہے تھے اور نہ ہی کسی سے کاغذ یا ٹوکن وغیرہ کا پوچھ رہے تھے۔ بلکہ پورے یورپ میں ہی پولیس کا رویہ ہمدردانہ اور سہولت کارانہ ہوتا ہے۔ یہاں پر عمیر نے گاڑی ایک طرف روک دی اور اتر کر یہیں سے ہی ونگٹ خرید کر لے آیا اور اس کے بعد ہم آگے بڑھ گئے۔
سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوتے ہی زمینی مناظر ایک دم تبدیل ہونے لگے۔ سڑک کے ایک طرف بلند و بالا پہاڑ تھے جو سرسبز و شاداب فلک بوس درختوں سے اس طرح بھرے پڑے تھے کہ آسمان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے معلوم ہوتے تھے اور سڑک کے دوسری طرف درختوں کے ساتھ اٹے ہوئے نشیب ایک انوکھی جہت اور دل کشی کے ساتھ موجود تھے۔
ویسے تو لکسمبرگ سے لے کر سوئٹزرلینڈ تک کا سارا علاقہ ہی بہت خوب صورت تھا لیکن لگتا تھا کہ یہاں پر تو زمینی حسن و خوبصورتی کے مناظر اپنی انتہا پر ہیں۔ عجیب سحر انگیز سماں تھا۔ آسمان پر بادلوں کا راج تھا اور زمین پر جس طرف نگاہ جاتی ہر طرف سبزے کی حکمرانی تھی اور چھوٹی سی سڑک پر دوڑتی ہوئی ننھی منی گاڑیاں بچوں کے کھلونوں کی طرح معلوم ہو رہی تھیں۔ سنگل سڑک تھی جس پر دونوں اطراف سے گاڑیاں اپنی اپنی لائن میں بڑے سکون اور اطمینان سے چلی جا رہی تھیں۔ لگتا تھا کسی کو بھی کہیں پہنچنے کی جلدی نہیں ہے۔ کیونکہ کوئی بھی گاڑی کسی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش نہیں کر رہی تھی۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا ہوں۔
قدرت کے حسن لازوال کی رنگینیاں ہر طرف بکھری پڑی تھیں۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ جس نے ماحول کی خوبصورتیوں کو چار چاند لگا دیے تھے۔
اچانک ایک طرف کے مناظر تبدیل ہونے لگے اور نشیب میں سے پہاڑ نمودار ہو کر اوپر کی طرف اُٹھنا شروع ہو گئے او تھوڑی دیر کے بعد ہم دو اونچے پہاڑوں کے درمیان محوِ سفر تھے اور سڑک کے ساتھ ساتھ پانی سے بھری ہوئی ایک جھیل جھلمل جھلمل کر رہی تھی۔ ایک جگہ پر جھیل ختم ہو گئی اور یہاں پر ایک چھوٹی سی وادی شروع ہو گئی جہاں پر انگور اُگائے ہوئے تھے ہم یہاں پر رُک گئے۔
درختوں کے نیچے لکڑی سے بنا ہوا ایک بنچ پڑا ہوا تھا یہاں پر ہم نے تھوڑی دیر چل پھر کر ٹانگیں سیدھی کیں۔ ضوحا کے ساتھ فوٹو گرافی کی اور کچھ انگور توڑ کر بھی کھائے اور اس کے بعد دوبارہ عازم سفر ہوئے۔
ایسے ہی خوبصورت مناظر کے سحر میں گرفتار تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہم سوئٹزرلینڈ کے ایک شہر لوسرن (Lucern) پہنچ گئے۔ سوئٹزرلینڈ میں پارکنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی گوگل بی بی کی راہنمائی میں ہم لوگ پارکنگ تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
گاڑی پارک کرنے کے بعد جب ہم واپس مڑے تو اپنے آپ کو ایک بہت بڑی جھیل کے کنارے پر کھڑے پایا۔ حالانکہ یہاں پر بارش کافی مقدار میں ہوتی رہتی ہے لیکن یورپ کے شہروں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو پانی کے ساتھ عشق ہے۔ بیشتر شہروں کے درمیان سے دریا گزرتے ہیں۔ یا شہروں کو دریا کے کناروں پر بسا دیا گیا ہے اور اگر کہیں ایسا ممکن نہیں تھا تو شہروں کے عین درمیان میں پانی کی جھیلیں بنا کر اس کی شاخیں پورے شہر میں پھیلا دی گئی ہیں۔
یہاں بھی صورت ِ حال کچھ ایسی ہی تھی۔ ایک بہت بڑی جھیل تھی جس کی تین چار شاخیں مختلف سمتوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور ان جھیلوں کے اُوپر جگہ جگہ لکڑی کے پل اس طرح لگے ہوئے تھے کہ دور سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ پل رنگ برنگے پھولوں سے بنائے گئے ہیں۔
یورپ کی سر زمینوں کو حسن و خوبصورتی سے نوازنے میں جہاں قدرت نے بڑی فراخ دلی سے کام لیا ہے۔ وہیں اس کے باشندوں نے اس خوبصورتی میں اضافہ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں جہاں موقع ملتا ہے اسے سجاتے اور سنوارتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں پر سیاحوں کا بہت ہجوم تھا بچے جھیل کے کنارے پر کھڑے آبی پرندوں کو چوگا ڈال رہے تھے۔ چڑیا سے لے کر بڑی بطخ تک ہمہ قسم کی جسامت کے بھانت بھانت کے پرندے یہاں پر موجود تھے۔ بلکہ کھانے کے حصول کے لیے کبوتروں نے بھی اپنے آپ کو انہی آبی پرندوں میں شامل کر لیا تھا۔ ہم نے پھولوں سے لدے ہوئے لکڑی کے پل کو ایک بار پار کیا تو یوں لگا کہ ابھی سیری نہیں ہوئی تھوڑی دور آگے جا کر ایک اور پل کو دوبارہ عبور کر کے اپنی اس تشنگی کو مٹانے کی کوشش کی۔
واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ گوگل بی بی کی راہنمائی میں دو منٹ میں ہی واش روم کے سامنے کھڑے تھے۔ یہاں سے فارغ ہو کر پرانے شہر میں آ گئے۔ جہاں پرانی عمارتیں اپنی اصلی شکل و صورت میں نہ صرف موجود تھیں بلکہ انہیں تازہ تازہ رنگ روغن کر کے نئے انداز میں سجایا ہوا تھا۔
ہم یہاں گھوم رہے تھے کہ سامنے ایک گر جا گھر نظر آ گیا۔ بلاخوف و خطر اندر چلے گئے۔ وہاں اندر ایک لڑکا اور ایک لڑکی غالباً کئیر ٹیکر کے طور پر موجود تھے۔ ہم بے تکلف وہاں گھومتے پھرتے رہے۔ وہاں دیواروں پر جگہ جگہ مختلف اقسام کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ ہم ان تصویروں کا بغور جائزہ بھی لیتے رہے اور ان کی فوٹو گرافی بھی کرتے رہے۔ جب ہم باہر آئے تو عمیر نے بتایا کہ یہ تو چھوٹا سا گرجا گھر ہے۔ یہاں قریب ہی ایک اور بہت بڑا گرجا گھر ہے۔ آئیے آپ کو وہ بھی دکھاتا ہوں۔ وہ واقعی بہت بڑا گر جا گھر تھا اور وہاں اور بھی بہت سے لوگ گھوم پھر رہے تھے۔ ہم یہاں سے باہر آئے تو مختلف دکانوں میں جھانکتے ہوئے پھر مٹر گشت کرنے لگے۔
یورپ کے باسیوں کا وتیرہ ہے کہ انہوں نے اپنی پرانی ثقافت رہائشی بستیوں، مکانوں اور گلی کوچوں کو ان کی اصلی شکل و صورت میں نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اُن کی تزئین و آرائش سے اُن کی خوبصورتی کو مزید بڑھاوا بھی دیتے رہتے ہیں۔
ہمیں یہاں گھومتے پھرتے کافی وقت گزر چکا تھا۔ بھوک بھی چمک اُٹھی تھی۔ فوراًہی حلال کھانے کے متعلق گو گل بی بی سے رجوع کیا تو اس نے قریب ہی تندوری بوفے کا پتہ دیا۔ جس میں اس وقت آٹھ مختلف کھانے ہمارے منتظر تھے۔ گوگل نے ہمیں اپنی انگلی سے لگا کر تندوری بوفے کے دروازے پر لا کھڑا کیا۔ یہ ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ جس کے آدھے حصے میں پانچ چھ میزوں کے ارد گرد کرسیاں رکھی ہوئی تھیں اور باقی نصف حصہ کچن تھا اور درمیان میں پتھر کی ایک چار ساڑھے چار فٹ اونچی سلیب پر کھانے کی مختلف ڈشیں پراتوں میں رکھی ہوئی تھیں۔ ہم شیشے کے ساتھ پڑی ہوئی ایک میز پر بیٹھ گئے جہاں سے ہمیں بازار کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔
ہمارے بائیں ہاتھ پہ ایک نوجوان خوبصورت جوڑا کھانا کھا رہا تھا۔ نوجوان لڑکے کی ساری کی ساری توجہ کھانے پر تھی۔ جب کہ لڑکی کی توجہ کھانے سے زیادہ لڑکے پر تھی۔ دوسری طرف ایک فیملی تھی جہاں میاں بیوی اور ایک اُن کا بچہ تھا وہ کھانا کھا کر فارغ ہو چکے تھے۔ انہوں نے بل دیا اور چل دیے۔
ایک بات بتاتا چلوں کہ جونہی آپ سوئٹزرلینڈ میں قدم رکھتے ہیں تو کھانے پینے اور رہائش کے دام یک دم ہی دو گنے ہو جاتے ہیں۔ ویٹر ہماری طرف متوجہ ہوا اور وہاں پر پڑی ہوئی ڈشوں کے بارے میں بتانے لگا اور ساتھ ہی پوچھا کہ آپ روٹی لیں گے یا نان۔ ہم نے ہاتھ وغیرہ دھوئے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ کھانا کھانا شروع کر دیا۔ ہمارے ساتھ بیٹھا ہوا یورپین جوڑا بھی کھانا کھا کر جا چکا تھا۔
اب ویٹر ہمارے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ مجھے لگا کہ وہ ہم سے بات کرنا چاہ رہا ہے لیکن جھجک رہا ہے۔ میں نے خود ہی اُس سے بات چیت شروع کردی اس کا نام اشفاق تھا اور وہ گجرات سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ پہلے سپین میں آیا تھا وہاں پندرہ بیس سال رہا اور اس کے بعد یہاں پر آ گیا۔ پچھلے آٹھ دس سالوں سے یہاں پر تھا۔ اس کے بیوی بچے پاکستان میں تھے وہ اپنی کہانی سنا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اس آدمی کی عمر پچپن ساٹھ سال کے قریب ہو گی وہ عین جوانی کے وقت اپنے گھر سے نکلا اور اپنی زندگی کے بہترین سال جو اُسے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ گزارنا تھے محض روٹی کمانے کے لیے دیارِ غیر میں تنہائی میں گزار دیے اور اس کی بیوی پاکستان میں سسک سسک کر زندگی گزارتی رہی۔ اس کے بچے اپنے والد کی محبت سے محروم اس کی جدائی کا غم سہتے رہے۔ ایک پورے خاندان کا زندگی بھر کے لیے استحصال ہوتا رہا بلکہ اب بھی ہو رہا تھا۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔
ہماری دھرتی ماں بھی اتنی بانجھ نہیں ہے کہ اپنے بچوں کو روٹی مہیا نہ کر سکے۔ تو پھر اس اشفاق اور اس جیسے دوسرے لاکھوں لوگوں کے حصے کی روٹی کون ظالم ان سے چھین کر لے جا رہا ہے اور انہیں اسی روٹی کے لیے کیوں دیارِ غیر میں دکھے کھانے پڑتے ہیں۔ اشفاق نے مجھے بہت اداس کر دیا تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ اپنی زبان میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بات چیت کر نے کو ترسا ہوا ہے۔
وہ مسلسل بولے جا رہا تھا وہ ہمیں بتا رہا تھا کہ یہ جو نوجوان لڑکا اور لڑکی بیٹھے تھے اس لڑکے کا والد پاکستانی تھا اور ماں جرمن تھی اور اس کے ماں باپ فوت ہو گئے ہیں اور یہ اکیلا ہی یہاں رہ رہا ہے اور اس نے عمیر سے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔ عمیر نے اُسے بتایا کہ میں لکسمبرگ میں ہوں اور وہاں ایک کمپنی میں آئی ٹی سے متعلقہ ملازمت کر رہا ہوں۔ تو وہ کہنے لگا کہ آئی ٹی میں تو سارے یورپ میں ہندوستان بھرا پڑا ہے۔ ساری کی ساری اچھی ملازمتیں وہی لوگ کر رہے ہیں بہت کم پاکستانی ہیں جو آپ کی طرح اچھی ملازمت کر رہے ہیں۔
وہ کسی میٹنگ کا ذکر کر رہا تھا جس میں انڈین اور پاکستانی دونوں ہی آئے ہوئے تھے اور پاکستانیوں کا برا حال تھا۔ ہم کھانا کھا کر فارغ ہوچکے تھے لیکن اشفاق تھا کہ باتیں کیے ہی جا رہا تھا میں نے جان بوجھ کر اُسے دل کھول کر باتیں کرنے کا موقع دیا۔ اگر درمیان میں اُسے کسی جگہ جھجک محسوس ہوتی تو میں کوئی نہ کوئی سوال پوچھ کر اس کی حوصلہ افزائی کر دیتا۔ کافی دیر کے بعد عمیر نے اُسے بل لانے کو کہا۔ بل وصول کرنے کے بعد اُس نے بڑی محبت سے ضوحا کو چاکلیٹ کا تحفہ دیا اور رخصت کے وقت وہ مجھ سے جھپی ڈال کے ملا۔ اُس کی آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے آنسو مجھے اپنے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے اور وطنِ عزیز کے اُن تمام پالیسی سازوں کے لیے میرے دل سے بددعائیں نکل رہی تھیں جن کی وجہ سے اشفاق اور ان جیسے لاکھوں لوگ دیارِ غیر میں دھکے کھانے پر مجبور تھے۔
باقی سارا وقت انہی جذبات کے ساتھ نہایت اداسی میں گزرا ہم نے کیا دیکھا کہاں کہاں گئے کسی طرف بھی دھیان نہیں گیا۔ رات گئے ہم اپنے ہوٹل میں پہنچے اور سارا دن کے تھکے ہارے لمبی تان کر سو گئے۔


