پشتون تحفظ مومنٹ پہ پابندی کے عوامل


چھ اکتوبر کو پاکستان کی وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کے مطابق وفاقی حکومت نے پشتون تحفظ مومنٹ کو شیڈول ایک میں رکھتے ہوئے کالعدم تنظیم قرار دیا۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے سیاسی امور کے ماہرین کے لئے حکومت کا یہ فیصلہ کافی حد تک غیر متوقع تھا۔ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ پچھلے چند دنوں سے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ سیاسی ماہرین اس فیصلے کی کئی وجوہات بتا رہے ہیں۔ لیکن ایک نقطے پہ سب کا اتفاق ہے کہ پشتون تحفظ مومنٹ پہ لگنے والی پابندی کی بنیادی وجہ گیارہ اکتوبر کو اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے منعقد ہونے والا ضلع خیبر کا جرگہ ہے۔

اگر پچھلے چند دنوں کے واقعات پہ سرسری نظر ڈالی جائے تو اس بات کا باآسانی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس جرگہ کے حوالے سے حکومت کافی سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ سب سے پہلے پانچ اکتوبر کو خیبر پختونخوا پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جلسہ گاہ میں پی ٹی ایم انتظامیہ کے لگائے ہوئے خیمے جلائے۔ اس کے اگلے دن حکومت نے پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم قرار دیا۔ آٹھ اکتوبر کو وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اور براڈکاسٹنگ عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پشتون تحفظ مومنٹ کے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ روابط ہیں۔ اس کے علاوہ عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پشتون تحفظ مومنٹ کی قیادت کے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ روابط ہیں۔ عطا تارڑ نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی ایم ملکی امن اور سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

نو اکتوبر کی صبح پولیس نے دوبارہ جلسہ گاہ پہ کریک ڈاؤن کیا اور فائرنگ کے نتیجے میں پشتون تحفظ مومنٹ کے تین کارکن جان بحق اور دس شدید زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ پولیس نے بنوں اور وزیرستان سے جانے والے قافلوں پہ بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص جان بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس نے شمالی اور جنوبی پختونخوا کو ملانے والی واحد شاہراہ کو کوہاٹ ٹنل کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کیا۔ مزید برآں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں کو پشتون تحفظ مومنٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کے روابط رکھنے اور تعاون کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی اور خلاف ورزی کی صورت میں شناختی کارڈ اور سم کارڈ بلاک کرنے کا امکان ظاہر کیا۔ ان تمام اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر اس جرگے میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے کہ حکومت کو اس انتہائی نوعیت کے اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

اگر پختونخوا کی تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو پچھلے کئی سو سالوں سے اس خطے کے لوگ بڑے اور قومی نوعیت کے مسائل کے حل کے لئے جرگے منعقد کرتے آ رہے ہیں۔ یہ جرگے پاکستان بننے سے پہلے بھی ہوتے تھے اور پاکستان بننے کے بعد بھی تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ اس نوعیت کا آخری بڑا جرگہ سینیٹر عثمان کاکڑ کی وفات کے بعد گیارہ سے چودہ مارچ 2022 کو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بنوں میں منعقد کیا۔ جس میں خیبر پختونخوا بشمول قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے پشتون آبادی والے اضلاع سے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ مذکورہ جلسہ تین دن تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا اور پولیس جرگے کو پوری سیکیورٹی فراہم کرتی رہی۔ اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی بھی کئی جرگے منعقد کر چکی ہے۔ جہاں حکومت جلسے کے شرکاء کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرتی تھی۔ اگر اسی تناظر میں دیکھا جائے تو اس بار بھی حکومت کو جرگے سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن اس بار معاملہ بالکل الٹ ہے۔ حکومت کو اس جرگے سے نہ صرف پریشانی ہے بلکہ حکومت اس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتی نظر آ رہی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ جرگہ دو وجوہات کی بنیاد پر پچھلے جرگوں سے مختلف ہے، پہلی یہ کہ پشتون تحفظ مومنٹ کا بیانیہ عوامی نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مقابلے میں کافی جارحانہ ہے۔ ایک ایسے بیانیہ کو لے کر حکومت پی ٹی ایم یا کسی دوسری تنظیم کو قومی نوعیت کے اتنے بڑے جرگے کی اجازت کسی بھی صورت نہیں دے سکتی۔ دوسری وجہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ پی ٹی ایم کی طرف سے جرگے کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ہر قبیلے کا جلسہ گاہ میں اپنا خیمہ ہو گا۔ پہلے دن انتظامیہ جرگے کے شرکاء کو ایک بڑی سکرین پر پشتون بیلٹ میں جنگ کی تباہ کاریوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قدرتی وسائل کے استحصال پہ ایک تفصیلی پریزنٹیشن دے گی۔ دوسرے دن ہر قبیلے کو ایک نمائندہ مقرر کرنے کا کہا جائے گا جو اس جرگے میں اور جرگے کے بعد اپنے قبیلے کی نمائندگی کرے گا۔ اس کے بعد ان نمائندگان کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ اور تیسرے دن ان سے حلف لے کر یہ ٹاسک دیا جائے گا کہ وہ پشتون قوم کو درپیش چیلنجز کا ایک قابل قبول حل تلاش کریں۔ اس نمائندہ کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ ریاست کے ساتھ پشتون قوم کے عمرانی معاہدے کا اس از سر نو جائزہ لے کر اس نکتے پہ غور کریں کہ کیا اسی عمرانی معاہدے کو جاری رکھا جا سکتا ہے یا اس پہ نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

یہی آخری وہ نکتہ ہے جو ارباب اختیار کو کسی بھی صورت قبول نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ سیاسی نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پشتون قوم کا ریفرنڈم ہو گا جو کہ قوم اور ریاست کے درمیان قائم رشتے کا تعین کرے گا۔ لہٰذا اس نقطے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریاست اس جرگے کو ہر صورت روکنے کی کوشش کرے گی چاہے اس کے لئے پولیس کریک ڈاؤن کرنا پڑے یا پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم قرار دینے جیسے انتہائی نوعیت کے اقدامات۔

Facebook Comments HS