ایک قراردادِ غیر مقاصد


ایک فُل بٹہ فُل پروفیسر اپنے وائس چانسلر کے حضور حاضر ہوئے، تو ادب کی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لا کر بولے، ”سر! آپ کی ٹائی بہت پیاری ہے، آپ پر بہت سُوٹ کر رہی ہے!“ وی سی صاحب حسبِ عادت بہت خوش ہوئے اور وی سی آفس میں داخل ہوتے ہی انٹرکام پر پی اے کو حکم کیا، باہر منتظر پروفیسر عبدالگپ پگنگف خان کو اندر بھیج دیجئے۔ پروفیسر ذی وقار نے گفت و شنید کی ابتدا اپنے روایتی جملے، تذکرۂ ٹائی اور ڈائنائمک پرسنیلٹی کی بسم اللہ سے کی، کام نکالا، اور چلتے بنے۔ وہ چلے گئے تو شیخِ جامعہ کو خیال آیا، اوہ، ہم نے تو ٹائی لگائی ہی نہیں، جمعۃ المبارک کی یونیفارم پہن رکھی ہے سو شلوار سوٹ پر ٹائی اور ٹائی کی تعریف کیسی؟

وہ دن، اور یہ دن، وہ پروفیسر، اپنی صلاحیتوں، روایتوں اور رعائتوں سے پروفیسر امرائٹس ہو گئے، لیکن دونوں ایک دوسرے کی حاضر دماغی سے خار کھاتے ہیں، آج بھی کسی سنڈیکیٹ میں وہ اکٹھے ہو جائیں تو ایک دوسرے کی ٹائی دیکھتے دیکھتے اچھے بھلے پاک صاف سنڈیکیٹ کو کرائم سنڈیکیٹ بنا دیتے ہیں۔

اڑتی ہوئی ملی تھی خبر بزمِ ناز سے کہ وہ دونوں ٹائی زدہ آج کل وائس چانسلرز کی سرچ کمیٹی میں ہیں۔ چلو، اللہ بھلا کرے ان کا ، اور کچھ کریں نہ کریں، کر پائیں نہ کر پائیں ملک کا مستقبل تو سنوار رہے ہیں۔

یادِ ماضی سے نکل کر ، حالات حاضرہ کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔ قوم خوش قسمت ہے میاں شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ میں یونیورسٹیوں کے سب کیمپس بنانے کا اصولی فیصلہ ہوا، اس کے بعد سے دھڑا دھڑ یونیورسٹیوں کو بنایا، اُگایا، سہلایا، رُلایا، ترسایا اور چمکایا جا رہا ہے کہ سیاست میں دم خم رہے۔ اس سے انکار نہیں، یونیورسٹیوں کو بنانے، سجانے اور دکھانے کی سیاست نہیں چمکی کئی شہروں کی قسمت بھی چمک اٹھی، جس میں شاہینوں کا شہر سرگودھا، اپنی شاہین سازی کی وجہ سے اتنا مشہور نہ ہوا جتنا کیمپس سازی سے مقبول ہو گیا، پنجاب بھر میں در و دیوار پر سرگودھا لکھا ملتا۔ یہ تو کچھ اہل بے مروت نے ظلم کیا ورنہ سرگودھا یونیورسٹی سے الحاق شدہ کا جملہ دہلی تک پہنچ گیا تھا۔ جدید تاریخ میں سرگودھا کی فتوحات کے سنہری حروف کو کسی نیلی پیلی سیاہی سے مٹانا ممکن نہیں۔ اسی طرح جی سی یو ایف نے بھی سرگودھا یونیورسٹی کے نقشِ قدم کو بقا جانا، اور کمال کر دیا۔ سنجیدہ بات یہ کہ دونوں یونیورسٹیوں نے روزگار اور تعلیم کے دریچے کھولے تاہم سسٹم کے اعتبار سے سرگودھا کثرتِ اولاد ہونے کے باوجود آج بھی مثالی ہے، رنجیدہ بات یہ کہ جی سی یو ایف دس سال بعد امتحانی نظام کو صراطِ مستقیم پر لانے کے درپے ہے ورنہ: رینکنگ تو بنالی تھی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے / من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں امتحانی بن نہ سکا۔

حکیم الامت سے معذرت کہ آج ہم ترقی کی ضمانت کی مساجد یونیورسٹیوں ہی کو سمجھنے پر مجبور ہیں۔ بہرحال آپ کا فرمان اپنی جگہ معتبر کہ: مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے / من اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

اب عالم یہ ہے کہ ملک بھر میں یونیورسٹیاں دس گنا بڑھنے کے درپے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد پنجاب سویا ہوا محل ہے تاہم سندھ اپنے صوبائی ایچ ای سی کو 37 ارب تک دے چکا۔ پیارا پنجاب اپنے ہاتھوں سے بانٹنے کا شوقین ہے، وہ اربوں ہاتھوں سے بانٹنے گئے ترستے صوبائی ایچ ای سی کو تیس پینتیس کروڑ تک بھوکا ننگا رکھے گا کہ کیونکہ ہم ”منصوبہ بندی“ کے قائل اور قابل ہی نہیں کہ اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ پنجاب ترقیاتی کام ضرور چاہتا ہے لیکن رعایا رئیلائز کرا کے، کیوں کہ تخت لاہور جانتا ہے یہ کون سی تھائی لینڈ یا ترکش قوم ہے جس کی تاریخ نے غلامی نہیں دیکھی۔ ان کو دو جیسے خیرات دیتے ہو، اور اوپر ڈنکا بجاؤ، پنجاب ایچ ای سی کو دیا تو کون روز روز ہمیں دیتا اور رعایا کو لیتا دیکھے گا۔ عنقریب پنجاب گورنمنٹ۔ مساجد، خانقاہوں، پبلک بیت الخلاؤں، ساجھے کے کوٹھے اور ماجھے کے مکان پر بھی بینر آویزاں کرے گی ہم یہ یہ چن چڑھا رہے ہیں جو عمران خان نہیں چڑھا سکا کیونکہ پنجاب حکومت کا فرض ہے وہ پنجابیوں کی خدمت کرے نہ کرے لیکن عمران خان کو ان کے دل و دماغ سے نکال کر دم لے گی، بھلے ہی اپنا دم نکل جائے۔

ہم پھر حالاتِ حاضرہ بتاتے حالاتِ غیر حاضرہ کی جانب چل نکلے۔ اصل میں تو ہم اپنی ہی ”قراداد“ کا ڈھنڈورا پیٹنے کی سعی میں ہیں۔ عرض کیا ہے :

پہلے 100 دن مکمل ہونے سے قبل کسی ”نو منتخب“ محترم وائس چانسلر کی کارکردگی پر تبصرہ نہ تحریر کرنے کی ”ذاتی قرارداد“ پاس کر رکھی ہے۔ ابھی وہ ہنی مون پیریڈ میں سوشل میڈیا، اپنے شعبہ صحافت، یونیورسٹی لیکچرار/ پروفیسر کالم نگاروں کو انجوائے کریں۔

ہم وی سی حضرات کے لئے دعاگو ہیں کہ بس وہ وی سی آر نہ بنیں بے شک ان کے بہی خواہ اور سب۔ آرڈینیٹ ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیں۔

تسلی رکھئے پہلے 100 دن کیا پورے 4 سال بھی آپ ”اپنی جامعہ“ کے ساتھ جو مرضی جائز و ناجائز تعلقات استوار رکھیئے، سسٹم میں آپ کو ہلانے، آپ کی اصلاح کرنے یا جزا و سزا دینے کی مطلوبہ سہولت ہی موجود نہیں۔

فی الحال دو کام خشوع و خضوع سے جاری رکھئے :
1) بیوروکریسی اور سیاستدان کو اچھی بہو کی طرح راضی رکھیئے، تابعداری کا م٘وڈ آن رکھیئے۔

2) رج کے کھائیے، دب کے وہائیے اور ٹَکا کر جھوٹ بولیئے کاسہ لیس قدم قدم پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح آپ کے ساتھ ہیں اور غیر ضروری و غیر اہم رینکنگ کے لئے کمانڈو ریڈنگز فِٹ کیجئے، شماریات کا بندہ ہائر فرمائیے، اور لائف انجوائے کیجئے کہ وزیرِ اعلیٰ سے وزیرِ تعلیم تک سب ٹِک ٹاکر ہیں، پروفیسر دور کی سب محرومیوں کو بھول جانے کا سنہری موقع ہے۔

درج بالا ہدایات پر عمل کرنے کے تناظر میں میڈیا، نیب، عدالت، مخالفین اور حاسدین آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔

Facebook Comments HS