نوید صادق کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”ارتکاز“ ایک جائزہ

معاصر شعراء کے بارے میں کم لکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نقاد مخالفت مول نہیں لینا چاہتا ہے۔ اگر کچھ لکھتا بھی ہے تو زیادہ تر توصیفی ہوتا ہے۔ وہ حسن و قبح کے اعلٰی معیارات سامنے رکھ کر تخلیقات کا جائزہ لینے کے بجائے مصلحت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ”ارتکاز“ میں معاصر شعراء کی شاعری پر مضامین شامل ہیں۔ یہ کتاب دو اعتبار سے اہم ہے۔ پہلا یہ کہ انھوں نے شعراء کا کڑا انتخاب کیا ہے اور بجا طور پر وہ تنقیدی جائزے کے مستحق ہیں۔
دوسرا یہ کہ انھوں نے انتہائی عمدگی سے شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے بے لاگ رائے کے ساتھ ساتھ مشرقی و مغربی نقادوں کے حوالے بھی درج کیے گئے ہیں۔ ان کا طرز اظہار معاصر تنقیدی اظہار کا پرتو نہیں ہے۔ انھوں نے موجودہ تھیوری تھیوری کھیلنے والے نقادوں سے متاثر ہونے کے بجائے تاثراتی اور تجزیاتی اسلوب اپنایا ہے۔ یوں اپنے اسلوب کی بنا پر وہ الطاف حسین حالی کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ کتاب میں شامل پہلا مضمون بھی حالی کی غزل پر لکھا گیا ہے۔
باقی تمام مضامین معاصر شعراء یا ان کے شعری مجموعوں پر ہیں۔ جن میں شاید ایک دو کے سوا انھیں تمام شعرا سے براہِ راست ملاقات کا موقع ملا ہے۔ ان میں منیر نیازی، توصیف تبسم، رامین چند بانی، احمد مشتاق، خورشید رضوی، خالد احمد، نجیب احمد، اعجاز گل، صابر ظفر، ممتاز اطہر، غلام حسین ساجد، شفیق سلیمی، محسن اسرار، خالد علیم اور اشرف سلیم شامل ہیں۔ معاصر شاعری کے تناظر میں یہ کتاب بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ اہل ادب کو اس کتاب کا کشادہ دلی اور کھلے بازوؤں سے استقبال کرنا چاہیے۔
اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ نوید صادق نے جن شخصیات پر مضامین تحریر کیے ہیں انھیں عمومی تنقیدی جائزوں میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہمارے نقاد نظم و غزل کے باب میں چند نمایاں شعرا کے علاوہ دیگر شعراء کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ نصاب بھی قرار دی جا سکتی ہے۔ یہ کتاب نصاب سے قطع نظر ان منطقوں کی دریافت کا پیش خیمہ ہے جو اہل نقد کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں مگر انھیں توجہ نہیں ملی ہے۔ پہلا مضمون حالی کی غزل پر لکھا گیا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ حالی کا اولین تعارف شاعری ہے مگر نصاب میں حالی سوانح نگار اور نقاد کی حیثیت سے زیر بحث آتے ہیں۔ بحیثیت شاعر انھیں مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ مسدس حالی بھی قصۂ پارینہ ہو گئی ہے۔ وہ مضمون ”سرسری نہیں دل کی واردات“ میں لکھتے ہیں :
” حالی کی غزل لائق مطالعہ و قابل ستائش رہی ہے اور رہے گی۔ اگرچہ میں نے اس مقالہ میں حالی کی غزل میں صرف اس حصے کو موضوع بنایا ہے جسے عاشقی سے تعلق ہے کیوں کہ ہمارے ہاں اس موضوع کی عدم موجودگی اور عدم دلچسپی کو بنیاد بنا کر ہمارے بعض جدید تنقید نگاروں نے حالی کو نیچا ہی دکھایا ہے۔ جب کہ حالی کی شاعری بالخصوص غزل میں جہاں کلاسیکی شعریت کا پر کشش اجمال نظر آتا ہے وہاں ان کی حیثیت ایک مجتہد کے طور پر ضرور دکھائی دیتی ہے جس نے جدید شاعری اور نئی غزل کا راستہ استوار کیا۔“
حالی کے علاوہ تمام مضامین معاصر ادبا پر لکھے گئے ہیں۔ یہ عمومی تاثر ہے کہ ادیب آئندہ زمانے کے لیے لکھتا ہے اور اپنے عہد سے آگے دیکھتا ہے۔ بحیثیت نقاد نوید صادق نے آئندہ شعری منظر نامہ تشکیل دے دیا ہے۔ اس میں مزید اضافے کی گنجائش کے باوجود کسی شاعر کو فکری و فنی اعتبار سے منہا کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ کتاب اس امر کی نشان دہی بھی کرتی ہے کہ کچھ شعرا کو محض زندہ ہونے کی سزا کے طور پر پذیرائی سے محروم رکھا گیا ہے اور ان کی موت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دور کے کئی شعرا کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اہل وطن کے ہاں سنگ زنی اور اعزاز سے دفنانے کی روایت اب بھی موجود ہے۔
نوید صادق کی تنقیدی زبان شستہ اور غیر مبہم ہے۔ وہ آسانی اور روانی سے اظہار پر قدرت رکھتے ہیں۔ وہ گہرا شعری شعور رکھتے ہیں اور شعری موضوعات کی تہ در تہ پرتیں کھولنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انھیں جدید و قدیم اسلوب سے مکمل آگاہی بھی حاصل ہے۔ کئی شعرا کے مضامین میں ذاتی تعلقات کی تفصیلات درج ہیں۔ یوں شعر اور شخصیت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ انھوں نے شعروں کا انتخاب کرتے ہوئے حد درجہ احتیاط سے کام لیا ہے۔ اس انتخاب میں مجھے کہیں بھی کمزور شعر نہیں ملا ہے۔ شعر شخصیت کا آئینہ بھی ہوتا ہے اور اس کے ذریعے شاعر کے باطن کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یوں شعر محض شعر نہیں رہتا ہے بلکہ شاعر کے نفسیاتی تجزیے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ مضمون ”احمد مشتاق کو سمجھنے کی پہلی کوشش“ میں لکھتے ہیں :
” شاعر کے باطن میں ایک جھجک ہے۔ اسے احساس شکست یا انکسار کا نام بھی دیا جا سکتا ہے اور یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ شاعر کے اندر ایک خوف ہے۔ معاشرتی خوف۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر کام بالا ہی بالا ہو جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ اور تو اور محبوب بھی اس بات سے بے خبر رہے تو اچھا ہے۔ اس میں اپنی ذات سے گریز کا ایک پہلو بھی نکلتا ہے اور خود اذیتی کی ایک دبی دبی خواہش بھی۔ یہی رویہ عشق میں اس کی ناکامرانیوں کا باعث بنتا ہے۔ “
وہ غزل کے فنی پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں۔ فن کی باریکیوں سے آگاہ ہیں اور اس باب میں اسلوب، ہیئت اور تکنیک کے مسائل کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ البتہ انھوں نے خیال کو فوقیت دی ہے اور ممکنہ حد تک فکری پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ انھوں نے مغرب سے مستعار تنقیدی اصطلاحات سے تحریر کو متاثر کن بنانے کی شعوری کوشش نہیں کی۔ مجھے جا بجا ان کی تنقید پر تخلیق کا گمان ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ خود بھی بہت اچھے شاعر ہیں۔
جب کوئی شاعر تنقید لکھتا ہے تو از خود اس میں تخلیقی عنصر نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب بیک وقت تنقید و تخلیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ بعض شعروں کی تعبیر و تشریح شعروں کے حسن سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ میں انتہائی ذمہ داری سے کہ سکتا ہوں کہ نوید صادق کا پیرایۂ اظہار حد درجہ خوبصورت اور شاندار ہے۔ میں اپنے مضمون کا اختتام کتاب میں شامل چیخوف کے ایک اقتباس سے کرنا چاہتا ہوں۔
” ادب نہ سماجی تربیتی ادارہ ہے اور نہ پارٹی آفس، نہ تو یہ کھلنڈروں کی تفریح گاہ ہے، نہ تھکے ماندوں کی پناہ گاہ، ادب ایک ایسا نگار خانہ ہے جس کی رونق ان تصویروں سے ہے جو انسانی زندگی کے تجربات کا بیان ہوتی ہیں۔ اس لیے فن کار کی دلچسپیاں جتنی رنگا رنگ اور ہمہ گیر ہوں گی، اتنا ہی اس کا فن جان دار اور متنوع خصوصیات سے تاب ناک ہو گا“

