یہ ہے ایران اور یہ ہے اس کا اسٹیٹس


ایران نے یہ جانتے ہوئے بھی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے جوابی کارروائی کی تو ایران ایران نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ بنے گا یا کم از کم پتھر کے زمانے میں چلا جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود ایران نے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا؟ کیوں؟ کیونکہ ایران کسی ملک کا مقروض نہیں ہے، ایران کو لیڈ کرنے والے نہ تو کسی ملک کے ایجنٹ ہیں اور نہ ہی ان کی خارجہ پالیسی میکر امریکن ہیں۔ وہ ایک آزار قوم بن چکے ہیں، انہوں نے مشکل وقت بھی دیکھے ہیں، انہوں نے بین الاقوامی تجارتی پابندیاں بھی دیکھی ہیں، وہ بھوک پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی سمجھ چکے ہیں۔

انہوں نے اپنے ملک کے قوانین کو اپنے ایمان کا حصہ بنا رکھا ہے اس لیے وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ ایٹم بم کا بھی سامنے کرسکیں گے اور اس کے بعد جاپان کی طرح پھر سے دنیا میں واپس آئیں گے۔ ایران نے اتنی ہمت اس لیے دکھائی کہ ان کے لیڈروں کی امریکہ، لندن میں جائیدادیں ہیں اور نہ ہی سوئس بینک میں اکاؤنٹ ہولڈر ہیں۔ وہ بہادر، دیانتدار اور اپنی قوم سے مخلص ہیں، ورنہ امریکہ انہیں پہلے ہی دھمکی دے چکا ہوتا کہ اگر تم نے میزائل داغے تو ہم تمہیں پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے۔ اور آپ ایران کا کمال دیکھیں کہ انہوں نے پہلے امریکہ کو بتایا کہ ہم نے اب اسرائیل پر حملہ کرنا ہے۔

یہ ہے ایران اور یہ ہے اس کا اسٹیٹس، اور اب آپ ہماری بہادری کا ایک جھلک بھی دیکھ لیں کہ جب آصف علی زرداری نے اپنے پہلے دور صدارت کے آخری دنوں میں صحافیوں کو انٹرویو دیا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ امریکی ڈرون کیوں نہیں گراتے؟ تو صدر نے کہا کہ وہ احمق تھوڑی ہے کہ وہ ایسا کرنے کی اجازت دے دیں یا وہ ڈرون کوئی پرندہ ہے کہ اس سے مار کے گرایا جائیں، یہ امریکی ڈرون ہے، اگر ہم نے اسے غلطی سے گرا دیا تو اس کے بعد ہمارا کیا بنے گا، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟

ان دو پیراگراف میں آپ ایران اور پاکستان کا موازنہ کر سکتے ہیں کہ آپ آج کہاں کھڑے ہیں اور ایران کہاں کھڑا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے تو گلگت شہر ہوائی فائرنگ سے لرز اٹھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اچانک ہی اتنی زیادہ فائرنگ کیوں ہوئی؟ میں اپنے مکان کی چھت پر نکلا تو پورا شہر پٹاخوں اور کارتوسوں کے شعلوں سے بھر گیا تھا۔ ایک دو کارتوس تو میرے قریب سے ایسے گزری کہ مجھے ملک الموت  نظر آنے لگے۔

خیر فائرنگ کی وجہ پوچھنے پہ کسی نے بتایا کہ ایران نے اسرائیل پہ حملہ کیا ہے۔ میں بھی جذباتی انسان پھر سے مکان کی چھت پہ گیا کہ کچھ پٹاخے ہی جلا دوں لیکن مجھے پھر خیال آیا کہ میں کس خوشی میں پٹاخے پھاڑ دوں؟ میں تو ایک این سی پی ( نان کسٹم پیڈ) پاکستانی ہوں۔ حملہ ایران نے کیا ہے اس میں میری کیا کنٹریبیوشن ہے؟ اسرائیل پہ حملہ کا مطلب امریکہ پہ حملہ ہے جبکہ میرے دادا سے لے کے آنے والی سات آٹھ نسلوں تک ہم امریکہ اور آئی ایم ایف کے قرض دار ہیں تو اس حملے پر میں کیسے خوشیاں منا سکتا ہوں۔ جب یو ایس کے حکم کے بغیر ہمارے حکمران آئین میں ترمیم تک نہیں کر سکتے، بجلی کے بلوں تک آئی ایم ایف کی مداخلت ہوتی ہے تو میں کیسے پٹاخے آسمان میں اڈا سکتا ہوں۔

مجھے پھر خیال آیا کہ اسرائیل اور ایران کی جنگ کی اصل وجہ تو فلسطین ہے جبکہ میرے گلگت بلتستان ہی خود مجھے مستقبل کا فلسطین نظر آ رہا ہے تو میں کیسے ہوائی فائرنگ کر دوں۔ آج سے سو سال ڈیڑھ سو سال پہلے فلسطین بھی ایک ریاست تھی وہاں کے لوگ اپنی زمینوں کے خود مالک تھے لیکن انہوں نے اپنی زمینوں کو بالکل اس طرح غیروں کو فروخت کرنا شروع کیا تھا جو ہم آج کر رہے ہیں۔ ان کا مذہبی عقیدہ ہم سے بھی مضبوط تھا، وہاں سنی شیعہ کی کہانیاں بھی نہیں تھی وہاں نہ تو شناخت کے بعد گلے کاٹے جاتے تھے تو نہ ہی سانحہ انیس سو اٹھاسی ہوا تھا لیکن پھر بھی آج فلسطین جل رہا ہے جبکہ ہم پہلے ہی سے فرقہ واریت اور قومیت کی آگ میں جل رہے ہیں تو ایسے حالات میں ہم خوشیاں کیسے منائیں؟

یقین ماننے ہم وہ قوم ہیں جن کا خود کو اپنے آنے والے مستقبل کا معلوم نہیں ہے اور ہم دوسروں کے غم اور خوشیوں میں کود جاتے ہیں۔ المختصر یہ کہ گلگت بلتستان کے لیے فلسطین ایک آئینہ ہے اور ایک سبق ہے۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو حقیقت جاننے کی توفیق عطا فرمائیں اور اللہ کرے کہ ایران پہ جوابی وار نہ ہو، ورنہ افغانستان کی جنگ کے اثرات سے یہ خطہ ابھی تک باہر نہ نکل سکا ہے پھر سے ایک اور دلدل میں پھنس نہ جائے۔

Facebook Comments HS