علی اکبر عباس :حروف ِتازہ عبارت ہوئے کناروں پر


یقین جانیے، وہ دن ایسے تھے کہ نئی کتاب کی آمد توجہ کھینچ لینے والی خبر ہو جایا کرتی تھی۔ ایسی خبر، جو کسی اخبار رسالے میں چھپنے کی محتاج نہ ہوتی، سینہ بہ سینہ بہت تیزی سے سفر کرتی اور محافل میں موضوع ہو جاتی۔ لگ بھگ پینتالیس چھیالیس سال پہلے میں فیصل آباد کے چوک گھنٹہ گھر کے قرب میں واقع محفل ہوٹل میں بیٹھا تھا، وہیں جہاں شام ڈھلے ریاض مجید، احسن زیدی، انور محمود خالد، افتخار فیروز اور کئی دوسرے ادیب اور شاعر محفل جماتے تھے، وہیں علی اکبر عباس کا نام اور ان کی پہلی کتاب ”برآب ِنیل“ کی آمد کی دھمک سنی تھی۔

کتاب کے حصول کے لیے مجھے لاہور جانا پڑا تھا۔ نیلے رنگ کے سرورق پر جیسے روشنی پھریری لے کر طلوع ہو رہی تھی۔ یہ ایسی کتاب تھی کہ جس میں شاعر نے اپنا کل کلام سمیٹ کر چھاپ نہیں لیا تھا، اس میں منتخب کلام تھا اور پیشکش کا قرینہ بھی ایسا کہ جوں جوں ورق الٹتا آگے بڑھتا توں توں دلچسپی فزوں تر ہوتی جاتی تھی۔ مجھے یاد ہے کتاب کھولتے ہی جو جملہ میرا استقبال کر رہا تھا، وہ تھا:

”آٹھ سمتوں کی ایک سمت سفر: برآب نیل“

کتاب کا مواد چار حصوں میں منقسم کر کے چھاپا گیا تھا:غزل، نظم، غنائی اور کلمات اور یہیں سے کتاب کو دیکھنا ہی اسے مختلف کر دیتا تھا۔ کتاب بھی مختلف تھی اور شاعری کا مزاج بھی؛ انجم رومانی نے تو علی اکبر عباس کو مشکل پسند شاعر کہہ دیا تھا؛ گہری سوچ کا شاعر۔ ایسی گہری سوچ کا، جس کا معاملہ جدید انسان اور انسانیت سے ہے۔ اس شاعر کے سامنے پھیلی کائنات کی کئی جہتیں ہیں اور انسان کو بہت ہی لطیف سطحوں پر، ہر جہت سے اپنا تعلق قائم کرنا ہے۔ وہ اس تعلق کو ہر زاویے سے دیکھتے ہیں۔

نقطہ ایک ہی مرکز کتنے زاویوں کا ہے
زاویوں کے بازوں ہیں کائنات کی جہتیں

انجم رومانی نے اس شاعر کو مشکل کیا کہا، یار دوست اسی کو لے اڑے تھے مگر بہت جلد ان کے ہاں موجود غنایت کے عنصر اور تاثیر کی لپک نے یہ تاثر زائل کر دیا تھا۔

میں صدا جو دیتا ہوں ہونٹ سب کے ہلتے ہیں
روح بن کے میں بے حس پیکروں میں اترا ہوں

”برآب نیل“ کے بعد ”درنگاہ سے“ آئی اور پھر ”چار دن“ اور ہر بار علی اکبر عباس یکساں متوجہ کرتے رہے تاہم 1990 ء میں ”رچنا“ کی آمد کی بات ہی الگ تھی ؛ یہاں وہاں جیسے ہر ایک کی زبان پر اس کتاب کا نام تھا۔ یاد رہے اسی دوران وہ بابا بلھے شاہ کے پنجابی کلام کو اردو میں ڈھال کر پوری اردو دنیا کو چونکا چکے تھے۔ علی اکبر عباس کا کہنا ہے کہ بلھے شاہ کی زبان اردو کے بہت قریب ہے مگر اس میں پنجابی زبان کی ایسی گھنڈی ہوتی ہے جسے کھولنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

اور پھر کافی ایسی صنف سخن ہے کہ اس کی تاثیر اس کی موسیقیت میں چھپی ہوتی ہے لفظوں کی معنویت تال سے ان کا میل کرنے پر آشکار ہوتی ہے۔ علی اکبر عباس کو موسیقی سے بھی رغبت ہے اسی لیے بہ قول اشفاق احمد انہوں نے کمال یہ دکھایا کہ ترجمے کو اس سوز و مستی سے لبریز رکھا جو پنجابی کلام کا وصف خاص تھا۔ انہوں نے محض بلھے شاہ کے کلام کو اردو میں نہیں ڈھالا، کئی مغالطوں کو بھی رفع کیا ہے۔ مثلاً ”تیرے عشق نچائیاں“ میں ”تھیا تھیا“ کے باب میں ان کا کہنا ہے کہ اگر ”تھیا“ کو زیر سے پڑھا جائے تو اس کے معنی ہوں گے ”ہو گیا“ جو اس کا محل نہیں ہے۔

ان کے خیال میں یہ لفظ ”تھتی۔ آہ“ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ کیونکہ تمام کافیاں زبانی روایت سے جمع کی گئی ہیں لہٰذا بولنے والا یا گانے والا اسے ”تھتی۔ آہ“ ہی کہتا ہو گا مگر کتابت میں آ کر ”تھیا“ ہو گیا۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ ”تھتی۔ آہ“ رقص کے توڑے کی آواز ہے جیسے ”تا تھئی تا“ یا ”تک تھئی تا“ ۔ اس میں ”تھئی“ کی آواز تو پوری ادا کی جاتی ہے جبکہ ”آہ“ کی آواز میں ”ہ“ نصف ادا کی جاتی ہے جیسے اردو میں ”نہ“ ، ”پہ“ وغیرہ۔ علی اکبر عباس کا کہنا ہے کہ استھائی میں ”تھئی۔ آہ“ ، ”تھئی آہ“ رقص کی تال ہے جبکہ انترے کے آخر میں ”آہ“ تال کے دور کا ”سم“ ہے اور اس کے بعد تال استھائی کے دور میں جاتی ہے اور رقص کی تکرار بنتی ہے۔

موسیقی سے خاص شغف اور بلھے شاہ کے کلام کی قربت میں جو فضا انہیں میسر رہی اور جھنگ کے جم پل اس شاعر کے اپنے خالص لسانی آہنگ اور تخلیقی وفور نے ان کے ہاں جو کرشمہ دکھایا وہ ”رچنا“ میں ظہور کر کے انہیں ایک نئی پہچان دے گیا۔ اردو غزل کی ایک پہچان اس کی ریزہ خیالی ہے ؛ اس کے مزاج سے فاصلے پر رہنے والوں کے لیے یہ ایک خامی کے طور پر لی جاتی رہی اور اس کا قرب پا لینے والوں کے لیے ایک نادر خوبی، جو کہیں کہیں تو خیال اور احساس کو جمال پارے میں ڈھال کر حیرت انگیز کرشمہ ہو جاتی ہے۔

خیر، ناصر کاظمی کی ”پہلی بارش“ نے غزل میں بھی ایک تسلسل رکھ لینے کے امکانات کی طرف متوجہ کیا تھا؛ شاید اس سے پہلے بھی ایسا ہوا ہو مگر جو فضا بنی تھی اس میں علی اکبر عباس، غلام حسین ساجد اور صابر ظفر بھی کسی نہ کسی حد تک شریک رہے تھے۔ تاہم علی اکبر عباس جو غزل کی مستحکم روایت سے پوری طرح وابستہ تھے اور اپنے احساس کے اعتبار سے قدرے مختلف بھی ”رچنا“ میں کچھ ایسی ادا سے سامنے آئے کہ مقامی ثقافتی زندگی کے سارے مظاہر غزل کی تہذیبی لسان میں بہم ہو گئے۔

یہاں سے ہم اس علی اکبر عباس کو دیکھتے ہیں تو وہ غزل کی مجموعی روایت میں الگ سے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس مجموعے کی غزلیں اپنے اسلوب، لفظیات کے چناؤ اور موضوعات کے اعتبار سے مختلف اور ہمارے روزمرہ کے رنگوں کو ہنر مندی سے شعر بنا لینے میں کچھ ایسے طاق تھیں کہ ان میں ایک تسلسل قائم ہو تا چلا جاتا تھا۔ بہ قول غلام حسین ساجد، ”رچنا“ علی اکبر عباس کا ایسا شعری کارنامہ تھا جس کے ذریعے انہوں نے اْردو غزل کے آوارہ صفت رویّوں کو ایک گھر دیا تھا۔

ایسا گھر، جو صرف ایک قطع ارضی پر کھڑی کی جانے والی بے روح در و دیوار کی عمارت نہ تھی، اپنے مکینوں کی دھڑکتی زندگیوں کی امین بھی ہو گئی تھی۔ جس طرح کوئی عمارت ایک اینٹ کے دوسری اینٹ کو تھام لینے اور ایسے ہی تعلق کے تسلسل کو راہ دینے سے بنتی ہے علی اکبر عباس اس کتاب میں اس تخلیقی اور جمالیاتی تسلسل کو ممکن بنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ بلھے شاہ کی قربت میں زبان کے جس ذائقے نے انہیں لطف دِیا تھا اس میں ان کے اپنے وسیب کا لطف گھل مل کر اس مجموعے کی زبان کو ایک نیا آہنگ عطا کر گیا تھا۔ خیال اور احساس کے تار کو توڑے بغیر غزل کے لیے نئی مگر تہذیبی لسانی منطق کی جمالیاتی سطح پر تشکیل اور تطہیر کی یہ دوسری خصوصیت تھی جو انہیں اپنے ہم عصروں میں الگ کر کے دکھا نے لگی تھی۔

دن چڑھا، گلی آباد ہوئی، بُڑھیوں کی جمی چوپال بھلا
گودوں میں پوتے پوتیوں کی کبھی ناک بہے کبھی رال بھلا
سن پھیری والے کی گھنٹی، کسی بچے نے جو روں راں کی
چُنی کا کونہ کھول کہا، لو ایک ٹکا میرے لال بھلا
کھڑکی سے بہو آوازیں دے، چل اندر آ جا ہُن بے بے
مجھے ہانڈی روٹی کرنی ہے، نِکڑے کو آن سنبھال بھلا

علی اکبر عباس کی اس کتاب کی غزلیات میں پنجاب اور اس کی ثقافت، یہاں کا دیہی ماحول اور رشتے ناتے، یہاں کے کھیت کھلیان اور بدلتے موسم بول رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ خاص رنگ پچکاری تھی جو اس شاعر کے ہاتھ لگی اور اس نے سلیقے سے غزل کی فضا پر اس کے سارے رنگ برسائے تھے کچھ اس طرح کہ یہ تجربہ شعوری کوشش ہو کر بھی شاعر کے اپنے سچے تخلیقی آہنگ کا مظہر ہو گیا تھا۔ ایسے میں اگر علی اکبر عباس کو پنجاب کا نظیر اکبر آبادی اور ”رچنا“ کو ”آدمی نامہ“ جیسی بسیط شعری دستاویز کہا گیا ہے تو یہ نادرست بھی نہیں ہے۔

اس شاعر کی کا سفر یہاں رکتا نہیں آگے بھی چلتا ہے ؛ انہوں نے ”زبور عجم“ سے اقبال کے فارسی کلام کو پنجابی میں ڈھالا، گیت لکھے، حتیٰ کہ ”دریار آئینہ“ تک چلے آئیں گے تو متوجہ ہونے کو بہت سے مقامات آئیں گے۔

غبار نور ہے یا کہکشاں ہے یا کچھ اور
یہ میرے چاروں طرف آسماں ہے یا کچھ اور

ہم سب اپنی بڑھتی ہوئی عمروں کے تنگ ہوتے پنجروں میں قید ہیں ؛ یہی معاملہ یقیناً علی اکبر عباس کو بھی درپیش ہے مگر ان کے اندر اس اسیری میں بھی خواہشِ پرواز پوری طرح بیدار ہے اور پر کھلے ہوئے ہیں :

کوئی کر سکتا نہیں خواہشِ پرواز اسیر
قید ہوتے ہیں تو آواز کے پر کھولتے ہیں

ہم نے انہیں چاق و چوبند دیکھ رکھا ہے۔ اب بھی پہلے کی طرح وجیہہ اور ذہنی اور تخلیقی سطح پر بیدار اور توانا ہیں مگر پچھلے کچھ برسوں سے انہیں سہولت سے چلنے میں دقت ہوتی ہے۔ وہ تھم تھم کر چلتے ہیں مگر ایسے میں بھی وہ ادبی پروگراموں میں چل کر آتے ہیں اور ہمارے درمیان آ بیٹھتے ہیں اور جب یہ کہتے ہیں : ”چلتے رہنے سے غرض ہے کسی منزل سے نہیں /ایک منزل کے لیے کون کہیں جاتا ہے“ تو یقین جانیے ہمارے اندر سست پڑتا وجود بھی حروف تازہ کو عبارت کرنے کا شعار کرنے والے اس توانا تخلیق کار کی صحبت میں نئی زندگی پا لیتا ہے۔ کہہ لیجیے وہ اس اعتبار سے ہمارے محسنوں میں شمار ہوتے ہیں۔

۔

(حلقہ ارباب ذوق، اسلام آباد کے زیر اہتمام علی اکبر عباس کے اعزاز میں خصوصی نشست ”ادب ستارہ“ میں پڑھی گئی سطور)

Facebook Comments HS