کتاب آشفتہ بیانی: ایک مختصر تجزیہ
شاید وہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے جب نوکر شاہی یا سول سروس سے وابستہ افراد اپنے تجربات و حوادث کی شکل میں اپنا سیکھا ہوا نوواردانِ جستجو و طلب کو لوٹا دیتے۔ ماضی قریب میں خارجی محققین اور تاج برطانیہ کے متعین افسران نے یہاں کے فن حکومت، ثقافت، تاریخ، جغرافیہ، قانون، علم الانساب، اور زبان و ادب پر وہ کچھ لکھا جو تاحال معتبر و مستند ماخذات سمجھے جاتے ہیں۔ ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ مقامی دانش و بینش اور تاریخ انہی مستشرقین کی اسناد تک محدود ہے۔ آگے جانے اور جاننے کی فکری او ر علمی صلاحیت و سکت شاید ہم میں باقی ہی نہیں رہی۔ متاعِ کارواں کے چھن جانے کا احساس ہی نہیں۔ ِ
لیکن با ایں ہمہ، خاکستر میں سے کوئی چنگاری چمکنے لگتی ہے۔ مشفق و کہنہ مشق محقق ڈاکٹر سید چراغ حسین شاہ نے از راہ عنایت جناب حبیب اللہ خان خٹک کی لکھی ہوئی کتاب آشفتہ بیانی ( ایک بیوروکریٹ کے مشاہدات و تاثرات) بغرض مطالعہ عاریتاً دی۔ کئی نشستوں میں کتاب کے مطالعہ نے آگہی اور خود شناسی کے طبق روشن کیے ۔ موصوف مصنف بھلے وقتوں کے جہاندیدہ اور گرم و سرد چشیدہ بیورو کریٹ ہیں۔ ان کا ایک شخصی اختصاص یہ بھی ہے کہ ان کے بقول شاعر سیف و قلم خوشحال خان خٹک کے بڑے بیٹے اشرف خان ہجری کی اولاد میں سے ہیں۔ پس ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ’۔ اے گل بتو خورسندم تو بوئے کسے داری‘ ۔ اس خانوادے کو سیادت و قیادت کے علاوہ علم و فضل میں وہ امتیازات حاصل ہیں کہ پشتو ادب کو شعر گوئی، تاریخ نویسی، ترجمہ نگاری، سیاحت نویسی، سیرت نگاری اور علوم و فنون میں صف اول کے ایسے مستند لکھاری فراہم کر دیے کہ تاحال ان کا مثل بمشکل نظر آتا ہے۔
پیشہ کے لحاظ سے انجنیئر خٹک صاحب صوبائی سول سروس میں کامیابی کے بعد قومی سطح پر منعقدہ مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر ڈی ایم جی گروپ میں چن لئے گئے۔ صوبے کے طول و عرض میں تعیناتیوں، کوسوو کی خانہ جنگی اور افغان مہاجرین کی آبادکاری کے مختلف مراحل میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، واقعات، مقامی زعماء سے ملاقاتوں کے احوال، اور پیشہ ورانہ فرائض کی کامیاب تکمیل کی دلکشا کہانیاں اس کتاب کی زینت ہیں۔ اس دیدہ ور لکھاری کے ہاں مقامیت کے عناصر بھی ہیں اور بین الاقوامیت کے نسخہ ہائے کیمیا سے بھی لیس ہیں۔ معروف پشتو گلوکارہ مرحومہ قمر گلہ کی پشاور آمد سے متعلق تحریر فرماتے ہیں :
’قمر گلہ کو رہائشی مکان ایک ہفتہ کے اندر خالی نہ کرنے کی صورت میں گھر کا سامان باہر پھینکنے کا کہا گیا تو حبیب اللہ خان نے ڈی سی پشاور کی حیثیت سے ایک اہلکار کے ذریعے ایک ماہ کی مہلت دینے کا کہلوایا۔ ساتھ ہی قمر گلہ کو اپنی ضروریات لکھ کر بھیج دینے کا کہا گیا۔ ایک چھوٹی سی پرچی پر ایک شکستہ تحریر موصول ہوئی۔
پلاسٹک کی دو دریاں، ایک بڑی چینک چائے کی، کھانا پکانے کی دو دیگچیاں، پلاسٹک کی چھ پلیٹیں، چھ پیالیاں، ۔ خٹک صاحب آگے تحریر فرماتے ہیں :بعد میں گھر کھانے پر بلایا، میری بیوی نے انہیں اور ان کے بچوں کو بہت سارے تحائف دے کر رخصت کیا، گاڑٰی میں بیٹھتے ہوئے انہوں نے سلام کے لئے چادر سے ہاتھ باہر نکالے، لب خاموش تھے، آنکھیں پھر ابل پڑیں۔
فاضل مصنف اور ہمہ جہت علمی شخصیت ڈاکٹر فصیح الدین اشرف اس کتاب سے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ ان مشاہدات و تاثرات نے شاعری کی بجائے ایک ایسی نثر کا روپ اختیار کیا ہے جو شعور کو جلا اور قلب کو ضیاء بخشتی ہے۔
مختلف موضوعات و عنوانات پر شہ پاروں کے علاوہ دیدہ بینا، میر کارواں، سرابوں کے دیس میں، سپیدہ سحر، حوا کی بیٹی، لمحے شناسائی کے، سر راہے اور متفرقات کے عنوان سے دین و دانش کے بحر ذخار موجزن نظر آتے ہیں۔ خٹک صاحب دین اسلام کی تعلیمات کا عمیق مطالعہ رکھنے کے ساتھ ساتھ پشتونولی اور مقامی دانش کا بھی ایک قابل قدر علم اور تجربہ رکھتے ہیں۔ ہر بحث کے آخر میں قرآن و سنت سے استناد و استشہاد کرتے نظر آتے ہیں۔ جو کہ آج کے دور میں شاذ ہی ہے۔ اسلوب میں سادگی، سلاست، روانی، اخلاص، محبت اور اپنائیت کے سمندر موجزن نظر آتے ہیں۔ اس سرگزشت کا مطالعہ کسی بھی صورت فیض و استفادہ سے خالی نہیں۔ شناخت کے المیہ کے اس دور میں اس کتاب کے اندر من کی دریافت کے دلائل بھی ہیں اور پیش آمدہ آزمائش و ابتلا سے نبرد آزما ہونے کے گر بھی۔
۔ ’البانوی شاعری‘ کے زیر عنوان البانوی شاعر نعیم فرشاری (1846۔1900) کی ایک طویل نظم۔ ’کربلا‘ کا ایک حصہ یوں ترجمہ کرتے ہیں :
ہم سچے خدا پر یقین رکھتے ہیں
ہر سو بس اس کا وجود ہے
اس کے ماسوا کچھ بھی نہیں
وہی اول ہے وہی آخر ہے
وہی ہر طرف جلوہ افروز ہے
یہ زندگی اسی کے دم سے قائم ہے
وہی سچا خدا ہے
کھلے ہوئے پھولوں میں اس کا حسن جھلکتا ہے
وہی گلاب ہے، وہی بلبل ہے
اور جب سچے خدا نے چاہا
مجھے پہچانا جائے
تب انسان کو تخلیق کیا


