علامہ محمد اسد: شاہراہ مکہ کا سیماب صفت راہی

آزادانہ تحقیق کے سرخیل داعی، یہودی خاندان کے چشم و چراغ لیوپولڈ ویس ( 2 جولائی 1900۔ 20 فروری 1992 ) عبرانی، عربی، آرامی، انگریزی اور متعدد دیگر زبانوں کے ماہر، صحافی، مہم جو، مصنف، سفارت کار، شارح، مترجم اور مذہبی مفکر شعوری طور پر 1926 میں ایک ہندوستانی دوست کے ہاتھ اسلام قبول کر کے محمد اسد پکارے گئے۔ متعدد یورپی، عرب ممالک، امریکہ، افغانستان اور ہندوستان میں وقت گزارنے کے بعد تاریخی شہر غرناطہ میں داعی اجل کو

Read more

میر ولی اللہ : زندگی نامہ اور کاس الکرام

چالیس سے زائد کتب کے مصنف، فارسی ادبیات کے استاد ِکامل اور جامعہ کراچی شعبہ فارسی کے صدر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی ( 1941۔ 2 ستمبر 2020 ) شارحِ رومی، حافظ و خیام میر ولی اللہ ایبٹ آبادی ( 10 جون 1887۔ 13 دسمبر 1964 ) کی کتاب ’کاس الکرام‘ کے مقدمہ میں میر صاحب کی حیات مستعار سے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ: ’میر ولی اللہ کے اسلاف ترکستان کے مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ہجرت

Read more

فیض کی ’نقش فریادی‘ کے پشتو نقوش

ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق ’خون جگر کے بغیر تمام نقش ناتمام ہیں مگر بعض نقوش رنگِ ثبات رکھنے کے باعث مداومت کے خوگر ہو جاتے ہیں۔ اردو شعری روایت میں فیض احمد فیض کا اسلوب اور موضوعاتی امتیاز و تخصص اتنا مسحورکن اور متنوع ہے کہ مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ آپ کا حلقہ اثر جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے۔ آپ کے خاص لفظیاتی نظام اور اسلوب نے ایک عہد کو متاثر کیا

Read more

عبدالرحیم مجذوب : شاعر ِ خوش نوا 2  

مجذوب اپنے فکری میلان، انداز و اطوار، ہیئت و موضوع، لفظیاتی نظام اور تخیل کے بنیاد پر پشتو شعر گوئی میں ایک جداگانہ اسلوب کے حامل ہیں۔ یونانی، ہندی دیومالائی اور اساطیری داستانوں، مغربی اور فارسی ادب کے گہرے مطالعہ کی بدولت انہیں پشتو کے باقی شعراء سے امتیاز اور انفرادیت حاصل ہے۔ دیشنت اور شکنتلا، شیکسپئیر کے وینس اور ایڈونس، کیٹس کے یونانی اساطیری کردار ’لیمیا‘ اورکیتھ ایف بی کی تخلیق کا منظوم پشتو ترجمہ ان کے فکری تکامل،

Read more

عبدالرحیم مجذوب: شاعر خوش نوا ( 1 )

پشتو رومانوی شاعری کے اپنے ہی سبک کے سرخیل، یونانی، ہندی اور انگریزی اساطیری داستانوں کے مترجم اور شاعر بے بدل عبدالرحیم مجذوب ( 14۔ جنوری 1935۔ 23 اکتوبر 2021 ) ، لکی مروت، نار صاحبداد میداد خیل میں عبدالکریم خان کے ہاں متولد ہوئے۔ برصغیر کے باقی علمی گھرانوں کے تتبع میں ابتدا ہی سے، بٹوارے سے قبل ایک ہندو اتالیق گھر پر آ کر انہیں پڑھاتے رہے جس سے انہیں ہندو اساطیری داستانوں سے شناسائی ہوئی۔ ایک مقامی

Read more

میر حسن بابا کے چاربیتے : مختصر تجزیہ

مرحوم پروفیسر ہمایوں ہمدرد اپنے پی ایچ ڈی مقالہ میں بحوالہ سید انصار ناصری کے ایک مضمون ’سرحد کی موسیقی‘ سے عبارت نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ’پشتو چاربیتہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ اس میں چار شعر ہوں اس کے اشعار کم از کم سولہ اور زیادہ کی کوئی قید نہیں‘ ۔ موصوف پروفیسر کے خیال میں تا حال فنی طور پر معلوم کامل پشتو چاربیتہ نویس فدا گل پیڈیا بابا تھے جو با روایت

Read more

پشتو ادب میں چاربیتہ نویسی : مختصر مطالعہ

پاکستانی زبانوں کے روایتی ادب میں رو بہ زوال شعری صنف چاربیتہ پشتو روایتی ادب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ یہ صنف محض ایک تخلیقی عمل اور شعر گوئی نہیں بلکہ پشتو ٹپہ کی طرح متعلقہ ادوار کی سیاسی، مذہبی، ثقافتی، ادبی، اور سماجی تاریخ کو بھی اپنے دامن میں سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ماضی قریب میں جہاں ایک شاعر کے شعری قد و قامت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ اس کی چاربیتہ گوئی سے لگایا جاتا تھا،

Read more

گل ورین اشاعت خاص اور مجلاتی صحافت

پشتو افسانہ نویس فہمیدہ کمال کی ادارت اور جوان سال نثر نگار آفتاب گلبن کی سعی تمام سے تسلسل اور جدت و تنوع کے ساتھ شائع ہونے والا پشتو سہ ماہی۔ ’گل ورین‘ ( گل پاش) گزشتہ کئی سالوں سے علم و ادب کی آبیاری کر رہا ہے۔ مردان سے شائع ہونے والے اس ادبی، علمی اور ثقافتی کتابی سلسلے کی خاص بات مختلف موضوعات جیسے کرونائی ادب، خواتین افسانہ نویس نمبر، اور دوسری متفرق اشاعتیں ہیں۔ موضوعات اور ادبی

Read more

جدید لسانیاتی اور اسلوبیاتی تصورات: ایک مطالعہ

جنہوں نے خوش گفتار اور خوش شکل ڈاکٹر عامر سہیل کو صرف پڑھا ہے، سنا نہیں، وہ احباب تاحال آپ کی کثیر الجہت شخصیت کے بارے میں جزوی علم رکھتے ہیں۔ بیک وقت ایک اچھے لکھاری اور مقرر کی صفات سے متصف ڈاکٹر عامر بولنے پر آ جائے، تو وہ بولے اور سنا کرے کوئی۔ قلم ہاتھ میں لیں، تو سحر بیانی سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ موصوف کا ہزارہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد الطاف یوسف زئی کی نگرانی میں

Read more

ہزارہ داستان اور ادبی میلہ

خیبر پختونخوا کا ہزارہ تاریخی، سیاسی، علمی، ادبی اور ثقافتی جہتوں سے مالامال ہے۔ دوسری صدی عیسوی کے راجہ رسالو کے داستان اور ذکر، اپریل 326 قبل مسیح میں سکندر یونانی کے ضلع بٹگرام تھاکوٹ کے مغرب میں، حالاً ضلع شانگلہ میں واقع ’پِیر سر‘ یا موجودہ بونیر کے کوہ ایلم کے آخری محاصرہ، جس کو یونانی مورخین بلندی اور الگ تھلگ ہونے کے باعث ’اورنوس‘ یعنی ’ماورا پرواز‘ لکھتے ہیں، سے لے کر مانسہرہ میں اشوکا سے منسوب خروشتی،

Read more

ڈاکٹر محمد حمید اللہ: ایک عبقری شخصیت

مردِ قانع، زاویہ نشین، جلوہ نمائی سے گریزاں، پندرہ سے زیادہ زبانوں میں سو سے زیادہ کتب، نو سو اکیس علمی مقالات کے مصنف، قرآن کریم، امام محمد ابن حسن الشیبانی کی کتاب السیر الکبیر اور شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کے فرانسیسی زبان کے مترجم ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے بارے میں شاہ بلیغ الدین رقم طراز ہیں کہ ان کی پیدائش فیل خانے کے اپنے آبائی مکان، جس کا نام آپ کے والد خلیل اللہ نے

Read more

اعجاز نامہ (معجزات) : ایک مطالعہ و تجزیہ

خانوادہ خوشحال خان خٹک نے پشتو شعر و ادب، سِیَر و تاریخ، ترجمہ و توضیح، تاریخ گوئی، وقائع نویسی، سیر و سیاحت اور نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا ہے کہ اس کی تشریح و توضیح کے لئے تاحال ایک زمانہ درکار ہے اور باوجود مستند اہل قلم اور شارحین کے سالہا سال کی ریاضت اور علمی مشقت کے ان کے کیے گئے کام اب بھی مزید شرح و بسط کے متقاضی ہیں۔ متن شناس محقق پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ

Read more

ذِکرِ غنی، فکرِ غنی، شعر غنی

قدیم پشکلاوتی اور آج کے ہشت نگر ( چارسدہ) کے اس زرخیز اور مردم خیز خطہ نے جہاں اپنے ارد گرد کے علاقوں کو زندگی کے رمز آشنا گر سکھا دیے وہاں اصلاحی تحریک انجمن اصلاح الافاغنہ ( 1921 ) ، خدائی خدمتگار تحریک، فضل واحد المعروف بہ حاجی صاحب ترنگزئی ( 1859 ) کی اصلاحی تحریک، ہشت نگر کسان تحریک اور دیگر اجتماعی کوششوں کا مرزبوم بھی ہشت نگر ہی رہا ہے۔ مجسمہ ساز، عکاس، منفرد لہجے کے شاعر،

Read more

جواں مرگ افغان قصہ نویس کا قصہ

افغان محقق سید محی الدین ہاشمی اور ڈاکٹر بریالی باجوڑی وغیرہم کے مطابق افغانستان میں ناول کی ابتدا 1938/39ع میں برہان الدین کشککی او ر محمد رفیق قانع کے ناولوں۔ ’پوشیدہ محبت‘ اور ’دو عاشق بھائی‘ سے تصور کیا جاسکتا ہے جو بعد میں اشتراکی فکر کے سرخیل نور محمد ترہ کئی نے ’بے تربیت بیٹا‘ کے ذریعے آگے بڑھایا۔ تاہم اولین پشتو ناول کے درج بالا ظنی رائے کے ساتھ اختلاف کی کافی گنجایش ہے۔ بعد ازاں فارسی، روسی،

Read more

کتاب آشفتہ بیانی: ایک مختصر تجزیہ

شاید وہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے جب نوکر شاہی یا سول سروس سے وابستہ افراد اپنے تجربات و حوادث کی شکل میں اپنا سیکھا ہوا نوواردانِ جستجو و طلب کو لوٹا دیتے۔ ماضی قریب میں خارجی محققین اور تاج برطانیہ کے متعین افسران نے یہاں کے فن حکومت، ثقافت، تاریخ، جغرافیہ، قانون، علم الانساب، اور زبان و ادب پر وہ کچھ لکھا جو تاحال معتبر و مستند ماخذات سمجھے جاتے ہیں۔ ستم ظریفی مگر یہ

Read more

فاطمہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے

مرحوم ڈاکٹر محمد اقبال کے ہاں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ مکرر ماضی پرستی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ بسا اوقات حکمتِ گم گشتہ کی بازیافت اور تاریخی واقعات کو تلمیحاتی رنگ میں نظم کر کے حاضر و موجود سے جوڑنے میں انہیں بے مثل ملکہ حاصل ہے۔ خطبات کی بات البتہ مختلف و منفرد ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے مولانا جلال الدین رومی کے بعد پوری اسلامی دنیا میں فکری اور نظریاتی اعتبار سے ان کے فکر و

Read more

پشتو ادب میں بیدل شناسی ( 1 )

علمی و ادبی طور پر ایک حیران کن امر ہے کہ شہرۂ آفاق ’چار عنصر‘ ، ’نکات بیدل‘ ، ’عرفان‘ ، ’محیط اعظم‘ ، ’طور معرفت‘ اور ’طلسم حیرت‘ کے خالق ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل ( 1644 ع۔ 1720 ع ) کی وفات کے فوراً بعد ان کے افکار پشتو شعر ادب میں دیکھے جا سکتے ہیں، ’نغز بیدل‘ کے نام سے بیدل کے منثور و منظوم اردو مترجم ڈاکٹر سید نعیم حامد علی الحامد کے مطابق ’بیدل کی زندگی

Read more

حب: باد نسیم کا تازہ جھونکا

خیبر پختونخوا میں نوجوان اردو لکھاریوں کی تعداد بوجوہ نسبتاً کم اور خواتین لکھاریوں کی تعداد تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماضی قریب میں بے بدل پشتو افسانہ نویس زیتون بانو اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں بڑی روانی سے لکھا کرتی تھیں۔ پشتو افسانہ پر تو آج بھی اس کہنہ مشق اور رجحان ساز افسانہ نگار کی چھاپ محسوس کی جا سکتی ہے۔ علمی اور ادبی خانوادہ کے چشم و چراغ اور شاعر و دانشور مرحوم سلیم راز

Read more

علامہ فضل حق خیر آبادی، الثورۃ الہندیہ اور جنگ آزادی

ہندوستان میں مغلوں کی تمکنت اور جلالت کے ٹمٹماتے چراغ ابھی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ جو اگرچہ زمانے کے دستبرد او ر تند و تیز ناموافق ہواؤں سے دور رکھے گئے تھے۔ تاہم ان کا گل ہو نا نوشتہ تقدیر ٹھہرا تھا۔ جا بجا انسانی سروں کے مینار بنا کر اور سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہند پر قبضہ کرنے والے ظہیرالدین بابر کے خانوادہ کے آخری تاجدار کی زمام اقتدا ر محض اپنے قلعہ کی چاردیواری

Read more