آپ مجھ سے دوستی کریں گے؟


میں نے جاب ملنے کے بعد کچھ لڑکوں کے ساتھ دفتر کے پاس ہی چار کمروں کا ایک گھر کرائے پر لے لیا۔ ہر کمرے میں دو دو لڑکے رہ رہے تھے۔ ماسوا میرے کمرے کے۔ جس کے لیے ایک اور لڑکے کی تلاش جاری تھی۔ میرا کمرہ بیٹھک نما تھا اور خاصہ بڑا تھا۔ سو شروع کے دنوں میں میں وہاں اپنی کتابوں کے ساتھ تنہا اور آزاد رہنے لگا۔

جاب کے ابتدائی دنوں میں مجھے نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کے لیے آفس میں زائد وقت گزارنا پڑتا تھا۔ شام کے وقت ہال خالی ہو جاتا۔ لیکن میں اپنے کمپیوٹر پر اسائنمنٹ بنانے میں منہمک ہوتا۔ جب کام سے تھک جاتا تو سستانے کے لیے راحت فتح علی خان یا مصطفی زاہد کے گانے لگا لیتا۔ رات کا کھانا سب لڑکے گھر میں اکٹھے کھاتے۔ اور گفتگو کا موضوع ایک ہی ہوتا: میرے روم میٹ کی تلاش۔ کچھ لڑکوں نے کمرے کی درخواست کی تھی۔ لیکن میں نے کوائف سن کر انہیں رکھنے سے انکار کر دیا۔

چھٹی والے دن میں دیر سے اٹھتا۔ اپنے لیے ناشتہ تیار کرتا۔ کمرے کی چیزوں کی ترتیب ٹھیک کرتا۔ شیلف سے کوئی کتاب نکال کر پڑھنا شروع کر دیتا۔ یا لیپ ٹاپ پر ہالی وڈ کی مووی لگا لیتا۔ دن یوں ہی گزر جاتا۔ شام کو ہم سب مل کر کھانا تیار کرتے۔ دسترخوان پر ایک دائرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے کھانا تناول کرتے۔

ایک روز گھر کے سب سے بڑے لڑکے نے بتایا کہ اس نے میرے ساتھ رہنے کے لیے ایک موزوں لڑکا تلاش کیا ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج بالکل مجھ سے میل کھاتا ہے۔ اور میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے بہت اچھا محسوس کروں گا۔ ہم میں لین دین میں سب سے اچھے لڑکے نے بھی بڑے لڑکے کی تائید کی۔ آس پاس بیٹھے باقی لڑکوں کے چہروں پر بھی یہی آثار تھے کہ میں اب مان جاؤں۔ سو میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ مجھے اندیشہ تھا کہ مزید طوالت سے سب ایک حصے کا زائد کرایہ دینے سے معذرت کر لیں گے۔

اس موزوں لڑکے نے میرے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ نرم خو، نوزائیدہ داڑھی، مخصوص رنگ کی پگڑی اور ڈگری کا آخری سال۔ مجھے حیرت ہوئی کہ بڑے لڑکے کو ہمارے بیچ کیا مشترک نظر آیا تھا۔ خیر اس کمرے میں ہم اپنی اپنی دنیا میں ہنسی خوشی رہنا شروع ہو گئے۔ کچھ ہی روز بعد مجھے کچھ عجیب چیزوں کا مشاہدہ ہوا۔ فجر کے وقت دروازے، کھڑکیاں اور دراز زور زور سے بجنا شروع ہو جاتے۔ شام کے وقت میں دفتر سے واپس آتا تو میری کتابوں کی ترتیب بدلی ہوئی ملتی۔ یہ کون سی مخلوق تھی جو میرے معاملات میں دخل اندازی کر رہی تھی؟ میں تعجب میں خود سے سوال کرتا۔

پھر مجھے سمجھ آئی کہ یہ سب میرے روم میٹ شریف کر رہے تھے۔ ایک دن میں نے تنگ آ کر استفسار کیا تو وہ بولے کہ آخر میں صبح نماز کے لیے کیوں نہیں اٹھتا؟ میں نے جواب دیا کہ مجھے جب اٹھنا ہو گا تو میں موذن کی آواز سے اٹھ جاؤں گا۔ آپ کو شور شرابا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور کتابوں کی بے ترتیبی کا یہ سبب معلوم ہوا کہ ان پر جاندار اشیاء کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ سو وہ نماز پڑھتے ہوئے ان کا رخ تبدیل کر دیتے تھے۔

اب کیا ہو سکتا تھا زندگی سمجھوتے کا نام ہے میں نے ان چیزوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ میرے روم میٹ کی عادت تھی کہ وہ کھانے کی میز پر کوئی نہ کوئی مذہبی بحث چھیڑ دیتا تھا۔ ایک روز مرد و خواتین کے ساتھ کام کرنے پر وہ بولا کہ پردے کے احکامات اتنے سخت ہیں کہ صنف مخالف کی لکھائی بھی ہمارے لیے نا محرم کا درجہ رکھتی ہے۔ نا محرم کا درجہ؟ سب نے حیرت سے پوچھا۔ کیوں؟ میرے زبان سے اچانک نکل پڑا۔ میرے روم میٹ نے میری طرف گردن موڑتے ہوئے آہستہ سے کہا کہ صنف مخالف کی لکھائی کو دیکھ کر مرد کو شہوت محسوس ہو سکتی ہے۔ اور اس مخصوص لفظ پر اس نے کافی زور ڈالا۔ اس کو ادا کرتے ہوئے اس کی آنکھیں اور ہونٹ مزید کھل گئے۔

ایک روز میں اور میرا روم میٹ کمرے میں بیٹھے اپنا اپنا کام کر رہے تھے کہ وہ اچانک مجھ سے مخاطب ہوا۔ ”آپ مجھ سے دوستی کریں گے؟“ مجھے اس سوال کی سمجھ نہیں آئی۔ ہم دوست ہی ہیں میں نے اٹکتے اٹکتے جواب دیا۔ نہیں، ہم دوست نہیں ہیں۔“ وہ احتجاجاً بولا۔ ”دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کا سچا خیر خواہ ہوتا ہے۔ اسے آپ کی فکر ہوتی ہے۔ میں نے بڑی مشکل سے موضوع تبدیل کیا۔ اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔

ایک روز شام کے کھانے پر گفتگو کا موضوع تھا مختلف فرقوں کے بدعتانہ عقائد۔ میرے روم میٹ نے فتویٰ صادر کیا کہ فلاں فرقہ واجب القتل ہے۔ کیونکہ وہ فلاں فلاں کام نہیں کرتے۔ سب لڑکے آنکھیں پھاڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔ میرے روم میٹ کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے جو ایک انتہائی معقول اور منطقی بات کرنے کے بعد کسی کے چہرے پر ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ لیکن اس کی باڈی لینگویج یہی کہہ رہی تھی کہ بس میں نے جو کہہ دیا وہی سچ ہے اور حتمی ہے۔

مجھے گھبراہٹ محسوس ہونے لگی۔ اتفاقاً میرا تعلق بھی اسی معتوب فرقے سے تھا۔ میں نے دوسرے لڑکوں کی طرف مظلوم نظروں سے دیکھا۔ ان کے چہروں پر بھی میرے لیے ہمدردی کے تاثرات تھے۔ وہ رات میں ٹھیک سے سو نہیں سکا۔ نیند ٹوٹ ٹوٹ کر آتی رہی۔ خوابوں میں چاقو، چھریاں چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ فجر کی اذانیں شروع ہو گئیں۔ میں نے وضو کر کے باجماعت نماز ادا کی۔

خدا کی کرنی یوں ہوئی کہ میرے روم میٹ کی جاب لگ گئی۔ وہ ہمارا گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کی جگہ ایک نیا روم میٹ آ گیا۔ گرج دار آواز، بڑی بڑی مونچھیں، گورا رنگ اور دفتری کولیگ۔ پرانا روم میٹ کوئی حرکت کرتا تھا تو میں تنگ ہوتا تھا۔ نئے روم میٹ کا صرف وجود بیشتر میرے آرام میں مخل ڈالنے لگا۔ آخر میرے ساتھ کیا مسئلہ تھا؟ پھر گھر میں لڑکوں کے رد و بدل کی بدولت میں دوبارہ اس کمرے میں اکیلا رہنے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب کسی کو روم میٹ نہیں رکھنا۔ کسی سے ”دوستی“ نہیں کرنی۔ سو میں وہاں اپنی کتابوں کے ساتھ اکیلا رہنے لگا۔ کیونکہ کتابیں بہترین رفیق تھیں۔

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid