ہجر و وصل


ہجر کیا ہے؟ اور وصل کیا ہے؟ اس پر بات کرنا اور اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنا تو آسان ہے لیکن اس کی حقیقت کو جاننا اتنا ہی مشکل ہے۔ ہجر و وصل کی گہرائیوں میں اتر کر اس کو سمجھنا نہایت مبہم عمل ہے۔ ہجر کا معنی فراق، جدائی، دوری، کے ہیں۔ یہ دوری محب کی محبوب سے عاشق کی معشوق سے اور طالب کی مطلوب سے ہے۔

سب سے پہلے اس کو سمجھنا ضروری ہے کہ محب کون ہے؟ اور محبوب کون ہے؟ عاشق کون ہے؟ اور معشوق کون ہے؟ طالب کون ہے؟ اور مطلوب کون ہے؟ جب تک محب محبوب سے عاشق معشوق سے اور طالب مطلوب سے ملا نہیں تو اس وقت تک ہجر ہے۔ یہ انسان جو باہر موجود حسن پر مر رہا ہے یہ درحقیقت اس کے اندر کی خوبصورتی ہے یعنی انسان خود ہی خود پر فدا ہے۔ جب انسان اپنے اندر کے حسن کو باہر دیکھتا ہے تو اسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ جب تک یہ اپنے اندر کے حسن کو باہر دیکھتا رہتا ہے تو یہ پرسکون رہتا ہے جب یہ اندر کی خوبصورتی اسے باہر نظر آنا بند ہو جاتی ہے تو یہ پریشان ہو جاتا ہے۔ اسے میں اپنے لفظوں میں ہجر کا نام دوں گا۔

یہ حسن کسی انسان کے روپ میں بھی ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ کائنات کے قدرتی مناظر فطرت میں بھی پوشیدہ ہو سکتا ہے یہ ظاہری حسن انسان کے باطن میں بھی پوشیدہ ہے اگر یہی حسن انسان اپنے اندر تلاش کرنا شروع کر دے تو اسے اپنی ذات کے اندر سے ہی تسکین ملنا شروع ہو جاتی ہے جب انسان اپنے اندر حسن کو تلاش کر لیتا ہے تو یہ وہ مقام ہے یہاں پر انسان کا اپنے اندر کے انسان سے وصل ہو جاتا ہے۔ انسان کا اپنے اندر کے انسان سے مل جانا ہی حقیقی وصل کہلاتا ہے۔ جب تک انسان کو اپنے اندر کا انسان نہ ملے تو انسان کی ذات اس وقت تک فراق میں مبتلا رہتی ہے۔ اب یہ فراق رونے دھونے سے ختم نہیں ہوتا یہ کسی کامل کی نگاہ سے وصل میں بدل جاتا ہے۔

جو لذت انسان کو اپنی ذات کے وصل سے میسر آتی ہے وہ دنیا کی تمام لذتوں سے ارفع ہے۔ یہ وہ لذت ہے جو بیان سے باہر ہے یہ وہ نشہ ہے جو کبھی اتر نہیں سکتا۔ اس نشے نے بہت سے لوگوں کو مست کیا ہے جسے اپنی ذات کا وصل نصیب ہوا وہ ہر چیز سے بے نیاز ہو گیا۔ جسے اپنی ذات کا وصل ہوا وہی جا کر خدا سے واصل ہوا۔ جب انسان کو اپنی ذات کا وصل عطا ہو جائے جب اپنی ذات کی معرفت نصیب ہو جائے تو پھر ہجر ختم ہو جاتا ہے۔

انسان کے اندر کا انسان سب سے بڑا ولی کامل ہے۔ اگر اس سے جیتے جی ملاقات ہو سکتی ہے تو کر لو یہ آپ کے لیے سب سے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اس کی زیارت کرنے کی کوشش کرو باقی تمام زیارات آپ کو اس وقت تک کچھ فائدہ نہ دیں گی جب تک آپ اپنے اندر کے انسان سے بے خبر ہیں۔ جسے اپنے اندر کا انسان مل گیا اس کو سب کچھ مل گیا۔ انسان کامل کو تو باہر سے تلاش کر رہا ہے وہ تو تیرے اندر موجود ہے تو محبوب کو باہر سے تلاش کر رہا ہے وہ تو تیری ذات ہی کے اندر موجود ہے۔ لہذا تو اپنے محبوب سے وصل چاہتا ہے تو اپنے اندر نگاہ ڈال۔ تیرا محبوب تجھے تیرے اندر سے ہی ملے گا حقیقی وصل اپنی ذات سے آشنائی ہے حقیقی ہجر اپنی ذات سے بے خبری ہے۔

Facebook Comments HS