چوؔن برس قبل سوات اور باجوڑ میں


مردان سے گزرتی مرکزی سڑک کے ہوٹل میں کھانا کھا کچھ دیر آرام کے بعد ہمارا قافلہ سوات کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ ہم سالار قافلہ تھے اور دو سال پرانی ہو چکی بیگم، بڑی آپا، سات سے تیرہ برس عمر تک کی ایک بھانجی تین بھتیجے اور دو بھتیجیوں سمیت کل نو افراد اڑسٹھ ماڈل ٹویوٹا کرونا میں سیٹوں کے پاؤں میں بھی رکھے سامان کے اوپر یوں ٹھنسے تھے کہ کار کی چھت پہ لگے جنگلے میں دو بستر بند اور تین بڑے اٹیچی کیس بندھے تھے۔

ڈگی میں باقی سامان اور ضروری احتیاطی سپئر پارٹس کے علاوہ مٹی کے تیل والا چولہا، تیل، مرچ مصالحہ اور شاید پیاز تک موجود تھے۔ ایک روز قبل لائل پور سے سحری کے وقت نکلے کھڈے مٹی گڑھوں والی جی ٹی روڈ پہ چلتے دس گھنٹے میں ہم راولپنڈی بیگم کے ننھیالی گھر سیٹیلائٹ ٹاؤن پہنچے تھے۔ پھر علی الصبح وہاں سے نکل ٹیکسلا کے کھنڈرات میں گھومتے مقامی خالص پوٹھو ہاری گائیڈ سے سری کپ، اور سری کو کپے جانے ( سر کاٹے جانے ) کی کہانیاں اور دوسرے مقامات کی سیر کراتے مشہور پوٹھوہارانہ گائیڈاتی تاریخی واقعات سے بچوں کے ذہنوں میں اجالا کرواتے دوپہر مردان آ رکے تھے۔

سوات کے رستے کا کچھ اندازہ تھا کہ سات برس قبل دوستوں کے ہمراہ مری سے گورنمنٹ بس سروس کی ٹورسٹ بس پہ تین روزہ دورہ کر چکے تھے۔ اُس وقت یعنی انیس سو تریسٹھ میں ابھی سوات، دیر، چترال، امب پاکستان میں الحاق شدہ مگر علیحدہ ریاستیں تھیں اور جاتے آتے درگئی سے پہلے بارڈر چیک پوسٹ پہ سامان کی تلاشی ہوتی اور سوات میں کی گئی خریداری پر ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔ اور ریاست میں جا بجا کیے جانے والا سوال ”کیا آپ پاکستان سے آئے ہو“ ہمارے لئے شدید ذہنی الجھن کا باعث بنا رہا تھا۔

انہتر میں پاکستان میں ضم کیے جانے کے بعد اب ہمیں اس سوال کا خدشہ نہ تھا۔ درگئی پہنچتے پہنچتے ٹنکی میں پٹرول کم کی بتی جل اٹھی اور پیٹرول پمپ کا کہیں نشان تھا ہی نہیں۔ پہاڑی سے دوسری طرف اترائی میں پٹرول پمپ کی موجودگی کی خبر آسرا بنی۔ پہاڑی رستہ شروع تھا۔ خوش کن نظارے بھی تھے اور دل کی دھڑکن بھی۔ جہاں اترائی ہوتی، سیکھے سبق کے مطابق پاؤں پیڈل سے اٹھا لیا جاتا۔ ایک موڑ مڑے تو تو پٹرول پمپ سامنے تھا اور پٹرول موجود تھا۔ اب سوات کی مینگورہ جاتی اعلی ہموار سڑک دونوں طرف ترتیب سے لگے درخت دائیں بائیں کے نظارے دور نزدیک نظر آتے پہاڑ کہیں دریائے سوات کی چمکتی لہریں ہمارا استقبال کرتی خوش کرتی جا رہی تھیں۔ بچے چہکنے، سری کپنے اور اور ٹیکسلا کے سنے واقعات کی ریہرسل کرتے ایک دوسرے سے چھیڑ خانی میں مصروف تھے۔

ہماری آج کی منزل مینگورہ نہ تھی۔ ہم چکدرہ کی طرف مڑتے دریا پار کرتے فوجی چوکی کے بیریئر پر کھڑے تھے۔ اور چوکی انچارج کے سامنے کھڑے ہو بتا رہے تھے کہ بیگم کے بھائی جان، باجوڑ سکاؤٹس کے ”خار“ کیمپ میں متعین کپتان جی کا بلاوا ہے اور ان کی ہدایت کے مطابق آپ سے اجازت نامہ لینے اور وائر لیس پر انہیں ہماری آمد کی اطلاع کی درخواست کرنے پہنچے ہیں۔ رستوں کے موڑ توڑ کو ذہن نشین کرتے اور سڑک پکی اور اچھی ہونے کی خوش خبری لیتے اب ہم خشک پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتے بڑھ رہے تھے کہ اچانک پکی سڑک تو باجوڑ اور دیر کی راہوں کو مڑ گئی اور خار کی نشاندہی کرتے بورڈ سے آگے کچی چھوٹے بڑے رنگ برنگے پتھر ادھر اُدھر سجائے سڑک ہمیں خوش آمدید کہہ رہی تھی۔

ہماری رفتار آہستہ ہو چکی تھی۔ ٹائروں سے پھسل اڑتے کار کے نیچے ٹھاہ ٹھاہ کرتے پتھر کسی بھی لمحہ ٹائر سے بھی ٹھاہ کی آواز نکال سکتے تھے۔ اور ہم ہر ممکن احتیاط کرتے جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو، کہتے دعائیں پڑھتے دائیں بائیں کے نظاروں سے لطف اندوز بھی ہوتے ”باجوڑ سکاؤٹس کیمپ، خار“ کی طرف اشارہ کرتی تختی کی جانب مڑ سامنے ایک خاصا چوڑا برساتی نالہ دیکھ رہے تھے۔ ڈوبتے سورج کی کرنیں نالے کے پانی کے پتھروں اور ریت کے موتیوں سے ٹکراتی لہروں سے سنہری شعائیں نکالتی مسحور کن نظارہ بنی تھیں۔

مگر ہماری جان پہ بنی تھی۔ کہ یہ سرخ سنہری رنگ نکالتا پانی اب ہمارے لئے آگ کا دریا تھا اور تیر کے جانا تھا ”۔ اتنے بوجھ اور نو سواروں سے لدی یہ کار۔ اُف۔ دوسرے کنارے پر اب تماشائی کھڑے ہو کے یہ عجوبہ دیکھنے کو اکٹھے ہو رہے تھے۔ پیچھے سے ایک بس آئی اور شڑاپ شڑاپ کرتی نالے سے آرام سے گزر گئی۔ سوچا چلو یہ سڑک بنا گئی اب اسی امام کے پیچھے چلو۔ یاد آیا کہ جلال الدین خوارزم شاہ پہاڑی سے چھلانگ لگا گھوڑے سمیت دریائے سندھ عبور کر چکا ہے۔

تو ہمیں ڈر کاہے کا۔ ڈال دی کار جانے والی بس کے قدموں کے نشانوں پہ۔ کوئی نصف نالہ پار کیا ہو گا کہ کار کے ٹائر ریت میں دھنس گئے اور وہ اڑیل ٹٹو کی طرح آگے جانے سے انکاری ہو گئی۔ کار بند کر باہر پنڈلی تک پہنچتے پانی میں کھڑا ہو گیا۔ تماشائی ہماری مشکل سمجھ، ہماری طرف بڑھنے لگے۔ اور ہدایات دینا شروع کیں۔ اب“ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم ”والا معاملہ تھا۔ ان کی بولی ہمارے پلے پڑنے سے معذور تھی۔

ایک لڑکے کی آواز آئی، کہ جیک لگاؤ جیک۔ اسے کچھ زبانی کچھ اشاروں سے سمجھایا کہ ریت میں جیک کام نہیں کرے گا اور اشاروں سے دھکا لگانے کی درخواست کی۔ اپنے قافلے والے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے دوسرے ہاتھوں جوتیاں پکڑے پایاب پانی سے گزر دوسرے کنارے کی طرف بڑھ رہے تھے اور پانچ چھ مقامی مہربان دھکا لگانے پہنچ چکے تھے اور چند منٹ بعد ہم کنارے پہنچ کار سے اتر مصافحہ کرتے اشاروں اشاروں میں تشکر کے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔

سورج غروب ہو اندھیرا ہونے کو تھا اور ہم باجوڑ سکاؤٹس کیمپ کے باہر بے چینی سے ٹہلتے اپنے کپتان سالا جی سے گلے مل رہے تھے۔ اور وہ بتا رہے کہ وائرلیس پیغام دیر سے ملا تھا اور انہوں نے فوراً رستہ میں ایک چوٹی پہ واقع چوکی کو ہمیں وہیں روک جیپ پہ پہنچانے کی ہدایت کی تھی۔ مگر ہم شاید پہلے ہی اسے کراس کر چکے تھے۔

کھانے کی میز پر روسٹ مرغ، تکے، کباب اور چانپیں اور پلاؤ وغیرہ انواع و اقسام کے کھانے کھاتے جب یہ پتہ چلا کہ ہم تو قبائلی علاقے میں ہیں۔ تو ایک مرتبہ تو پسینے چھوٹ گئے۔ وہ اغوا کاروں کی کہانیاں۔ بھتہ اور بیچے جانے کے روز سنے جاتے قصے آنکھوں میں پھر گئے۔ مگر پھر برساتی نالہ میں سراپا محبت بنے مددگار دوست نگاہوں کے سامنے گھومنے لگے۔ ہم تو بالکل اپنوں میں تھے۔ غیر یا علاقہ غیر میں نہیں۔

صبح بھرپور اعلی ناشتہ کے بعد واپسی شروع تھی۔ فوجی جیپ ٹو کرنے کے رسے سمیت برساتی نالہ تک ہمیں الوداع کہنے آئی۔ اب کے ”ان ہی پتھروں پہ چل کر اگر جا سکو تو جاؤ“ گنگناتے چھوٹے چھوٹے پتھروں پر گزرتے ہم آرام سے نکل چکے تھے اور کوئی گھنٹہ بھر بعد چکدرہ چیک پوسٹ پہ بخیریت واپسی کی اطلاع نوٹ کرواتے مینگورہ کی طرف رواں تھے۔ پہلے چکر میں بھی اور اب بھی صاف دونوں طرف درخت لگی سڑکیں، جگہ جگہ سکول اور ڈسپنسریاں، سبزہ اور بغیر کوڑے کچرے کے ماحول سے اندازہ ہو رہا تھا، کہ یہ ریاست پاکستان کے باقی علاقوں سے بہت زیادہ آگے تھی۔

دوپہر کے لگ بھگ ہم مینگورہ کے ایک بازار میں ایک ہوٹل کے مسقف گیٹ کے اندر جا کار پارک کر کے کمروں کا پوچھ رہے تھے اور رجسٹر اندراج کرواتے ہمارے منہ سے نکلا کہ اس وقت تو ہم خار سے آرہے ہیں تو اس کے حیرت سے کھلے منہ سے بے ساختہ چیختی لمبی آواز نکلی ”کیا“ ؟ اور جب بتایا کہ اسی کار پہ پہنچے تھے تو اس نے قلم رکھ دیا اور سامنے موجود سارے عملے کو بلا لایا۔ انہیں یقین دلاتے وقت لگا کہ ہم اسی کار پہ اسی حالت میں وہاں بخیریت پہنچ بخیریت واپس بھی آ گئے تھے۔ سڑک کی حالت اور قبائلی علاقہ۔ دونوں کے قصے جاری تھے۔

دوپہر کے بعد ہوٹل مینیجر سے رہنمائی لیتے سیدو شریف کا چکر لگاتے جہاں زیب کالج اور دوسری سرکاری و پرائیویٹ عمارات دیکھتے گھومتے، لوگوں سے باتیں کرتے واقعی قائل ہو چکے تھے کہ میاں گل جہانزیب والئی سوات کی حکمرانی کا دور عوامی فلاح و ترقی کا دور تھا۔ اور علاج اور تعلیم تک میں باقی پاکستان کے اکثر علاقوں سے بہت آگے تھا۔ شام دریائے سوات کے خوبصورت پل کے قریب دریا کنارے دوسری طرف کے پہاڑوں کے نظارے اور پانی اور آسمان پہ پھیلی بادلوں کی ٹکڑیوں سے ٹکراتی غروب آفتاب کی کرنوں کے جادو دیکھتے گزری اور واپسی پہ مینگورہ کے بازاروں میں کہ بہر حال خواتین اور لڑکیوں کو شاپنگ کیے بغیر نیند کہاں آتی۔

اگلی صبح مرغزار کا پروگرام تھا۔ خوبصورت پہاڑیوں سے نکلتے آبشاریں بناتے پانی سے بنا بہتا برساتی نالہ۔ سڑک کے ایک طرف نوادرات و موتی گھونگھوں قیمتی پتھروں سے بنے تحائف و کپڑوں، شالوں واسکٹوں ٹوپیوں کے سٹال اور نالہ پار اونچی جگہ بنا والئی سوات کا وسیع محل ایک عجیب خوش کن نظارہ تھا۔ عرف عام میں والئی سوات بادشاہ صاحب کہلاتے اور یہ محل بادشاہ صاحب کا محل کہلاتا۔ تریسٹھ میں جب ہم یہاں آئے تو سرخ و سفید چہرے اور داڑھی والے بادشاہ صاحب میاں گل عبدالحق جہاں زیب محل کے صحن میں تشریف فرما تھے۔ اور کئی سیاح بلا روک ٹوک جا ادب سے مصافحہ کرتے نظر آرہے تھے۔ ہم تینوں دوستوں کو بھی مصافحہ کرنے اور دعائیں سمیٹنے کا شرف حاصل ہوا۔ مگر اب وہ صحن اور محل خالی خالی اداس اداس نظر آ رہا تھا۔ یہ محل بادشاہ صاحب کے والد محترم میاں گل عبدالودود نے انیس سو اکتالیس میں دس سال زیر تعمیر رہتے بنوایا تھا اور دور دراز کے شہروں ملکوں سے پتھر اور دیگر سامان آیا تھا۔ تین وسیع حصے، ایک بادشاہ صاحب کی رہائش، دوسرا انگریز حکمرانوں کے لئے اور تیسرا باقی معزز مہمانوں کے لئے۔ اب سوات نہ ریاست تھا نہ اس کا وہ والی۔ یہ اب پاکستان تھا۔

سب افراد پہاڑیوں پہ چڑھنے، ادھر اُدھر گھومنے کے بعد واپس آچکے تھے اور ہم ہوٹل کی طرف رواں تھے۔ سامان اور سواریاں پھر کار میں ٹھونستے اب ہماری منزل کالام تھی۔ مدائن میں شور کرتے گونجتے چھلانگیں لگاتے دریا کے کنارے بیٹھ سٹال سے بنوا کھائے کھانے کا اپنا ہی سواد تھا۔ کچھ دیر یہاں اور بحرین میں رک چائے کے بعد ہم ایک بار پھر کچی سڑک کے رحم وکرم پہ تھے۔ مگر یہاں مصطفے زیدی کے پتھروں سے محفوظ تھے۔ سہ پہر کے قریب ہمیں دور اوپر چڑھائی پہ پی ٹی ڈی سی کا موٹل نظر آ رہا تھا۔

وہاں پہنچے تو کوئی کمرہ خالی نہ تھا۔ اور اس وقت قصبہ میں رہائشی ہوٹل کوئی اور تھا نہیں۔ نیچے آ دریا پار پہنچ ایک چائے خانے پہ رکے اور اس نے ایک آدمی بلوایا۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایک بہت شاندار کمرہ میں اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، جی ہاں۔ کالام کے بازار میں واقع انتہائی اعلی، لکڑی کی پچی کاری سے بنی بہت قدیم مسجد کہ چنیوٹ کا فن بھی اس کے آگے مات تھا، سے آگے گزرتے قصبہ کے تقریباً آخری کونے پر دو دکانوں کے اوپر بنا فلیٹ ہمیں مبلغ آٹھ روپے روز کے خطیر کرایہ پہ مل چکا تھا۔

دکانوں کے ساتھ اوپر جاتی کچی سیڑھیوں سے دکانوں کے اوپر کی چھت وسیع صحن تھا اس کے پیچھے برآمدہ اور پیچھے پھر بہت وسیع کمرہ۔ یہ پہاڑی ڈھلوان پہ تھے۔ مالک ہمارے ساتھ مل کے کار سے سامان اوپر لا رہا تھا۔ کمرہ بالکل خالی تھا۔ پینے کا پانی ہمیں مسجد کے کنویں سے لانا تھا اور حوائج کے لئے برآمدے کے کونے پہ لگی لکڑی کی سیڑھی پہ چڑھتے چھت سے گزر پیچھے جنگل کا ایکڑوں پہ پھیلا ٹوائلٹ تھا۔ بستر وغیرہ ہمارے اپنے اور ایک روپیہ فی رات فی چارپائی کے حساب سے چھ چارپائیاں گھنٹہ بھر بعد ہمارے اس ہوٹل کمرے کی زینت بن چکی تھیں۔

اب کار سے تقریباً تمام سامان اوپر آ چکا تھا اور مٹی کے تیل کا چولہا جلا کر دال کی ہانڈی پکنا شروع تھی۔ بھوک زوروں پر تھی اور دال گلنے کا نام نہ لے رہی تھی۔ اچانک ذہن نے جھٹکا دیا ”سُن بابو سُن، پہاڑوں کے گُن۔ چھ ہزار سے زائد فٹ کی بلندی پہ ہو یہاں تمہاری دال دیر سے گلا کرے گی۔ “ روٹیاں پک چکی تھیں اور بستر کھول کے لگائے جا چکے تھے۔ اب کالام کی کی خنکی اور تھکاوٹ نے وہ مزے کی نیند دی کہ بھول نہیں پائے۔ صبح اٹھ باقی افراد تو لکڑی کی سیڑھی چڑھ چھت کے ساتھ ہی سے شروع ہوتے وسیع جنگل کو ٹوائلٹ بنا، اسے سرفراز کرنے چلے گئے اور ہم دو بھتیجوں کو ساتھ لے ہوٹل انتظامیہ کی مہیا کردہ بالٹی اور اپنے جگ وغیرہ لے مسجد کے کنویں سے پانی کا مٹکا بھرنے لگے۔

ناشتے کے بعد اب اسی جنگل کو اپنی پہلی سیر گاہ بنایا۔ پہلا تجربہ جنگل گھومنے کا۔ ابھی تک چند فلموں میں جنگل میں ہاتھ پکڑے ناچتے گاتے نام کھودتے جوڑے یا شیر سے مقابلہ کرتا ہیرو دیکھا تھا۔ مگر اب پورے کنبہ سمیت صرف دور نزدیک نظر آتے نظاروں اور ٹھنڈی ہوا سے لہراتی شور مچاتی ٹہنیوں کے لطف سے ہی محظوظ ہونے پہ گزارا تھا۔ دوپہر کے بعد میلے کپڑوں کی گٹھڑیاں اٹھا نیچے دریا کنارے جا خواتین مقامی خواتین کے قریب بیٹھ دریا کے پانی سے کپڑے دھوتے اشاروں کنایوں لفظوں دوسری خواتین تعارف اور دوستیاں بڑھا رہی تھیں اور لڑکے ٹھنڈے یخ پانی میں ڈبکیاں لگا سردی سے کانپ رہے تھے۔ شام کو کار پہ سڑک پہ چلتے گھومتے، رکتے ہی ارد گرد کی خوبصورتی اور قدرت کے نظاروں کا مزا لیا جا رہا تھا۔

اگلے روز بازار میں مرغی فروش کی دکان سے مرغی خرید اسے ذبح کر کے گوشت بنانے کی درخواست کی تو جواب تھا کہ گوشت تو ہم بنا دیں گے مگر مرغی ذبح کروانے کے لئے کسی مولوی صاحب کی خدمت میں جائیں۔ بڑی مشکل سے با بار تکبیر سنا کر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ ہم تو بقرعید پہ بھی بکرا ذبح خود کرتے ہیں۔ یوں ذبح ہم نے خود کیا اور گوشت مرغی کا کھایا ورنہ مولوی کب کہاں ملتے۔ کیا پتہ۔ ہانڈی چولہے پہ رکھ دی جاتی اور دو تین گھنٹے سیر کے بعد آ کے بھونا جاتا۔

دریا کنارے ایک ڈھابے کا پتہ چلا تو اس کے کھانوں کا بھی مزا اٹھایا۔ تیسرے روز اوشو کی سیر کا پروگرام تھا۔ مگر کار کا پہیہ پنکچر نظر آ رہا تھا اور اوشو کی چڑھائی خستہ کچی سڑک پہ بغیر سٹپنی جانا خطرناک تھا۔ پروگرام منسوخ کیا۔ ٹائر پنکچر دکان کا پتہ کیا تو پتہ لگا وہاں ایک ہی دکان سائیکل اور کار پنکچر کی ہے مگر وہ پانچ دن ہفتہ میں بحرین میں دکان کھولتا ہے اور دو دن کالام میں۔ خوش قسمتی کہ اگلے دن دکان کھلی اور ہم پنکچر لگوا کچھ مطمئن ہوئے۔

اگلی صبح جنگل سے نکل سیر کرتے پہاڑ کے پیچھے کی طرف جانے کا پروگرام تھا۔ جنگل کے اختتام کے قریب تھے کہ چھوٹے بھتیجے کی چیخ سنائی دی ”چچا وہ شیر“ سب خوف کے مارے سن ہوچکے تھے۔ مڑ کے دیکھا تو واقعی شیر کی ران اور دم درخت کے پیچھے سے نظر آ رہی تھی۔ فوراً حواس مجتمع کرتے ”مرد بن مرد“ کی آواز خود کو سنائی۔ اور ایک دوشاخہ ذرا مضبوط ٹہنی ہاتھ میں پکڑی۔ سب کو جنگل سے باہر کی طرف بھاگنے کو کہا اور خود الٹے پاؤں پیچھے چلتے نسیم حجازی کے ناول آخری معرکہ کے ہیرو رام ناتھ کو یاد کرتے حملہ کی صورت شیر سے مقابلہ کی ٹھانی۔

اچانک کچھ ورلی طرف سے آتے بڑے بھتیجے کی آواز سنائی دی۔ ”چچا یہ تو گائے ہے“ آگے بڑھ دیکھا تو پیچھے صرف ران کا اوپری حصہ اور دُم نظر آنے سے بنا شیر واقعی گائے تھا تھا۔ قہقہے لگاتے اپنے آپ پہ ہنستے پچھلی طرف گاؤں میں جا پہنچے۔ چھوٹی دیواروں والے مٹی اور پتھر سے بنے گھروں میں سیب ناشپاتی اور دیگر پھلوں کے درخت۔ ہم پچھلی وادی کے نظارے کر رہے تھے اور چادروں سے ناک تک چہرہ چھپائے لڑکیاں اور خواتین دیواروں سے جھانکتی ان پاکستانی عجوبوں کا نظارہ کر رہی تھیں۔

بچوں کی فرمائش خود سیب توڑ کھانے کی ہوئی تو ایک طالبعلم لگتے لڑکے سے بات کی۔ چند منٹ بعد ایک گھر میں لگے سیب کے درختوں سے بچے خود توڑ کے کھا رہے تھے۔ اور آخر میں حسب وعدہ قیمت پوچھی تو مبلغ ایک روپیہ کی خطیر رقم کا مطالبہ سامنے آیا مگر ساتھ ہی قہوہ پئے بغیر نہ جانے دینے کی پابندی لگ گئی۔ اتنی دیر بچے ان کے لڑکوں سے پشتو سیکھتے اور خواتین ایک آدھ لفظ سمجھتی یا اس لڑکے کو ترجمان بنا ایک دوسرے کے رہن سہن سے متعلق گپیں لگاتی رہیں۔

نمک لانے کے لئے شاید مالگا روڑا تھا۔ ابھی یاد ہے۔ اگلی صبح کار پھر لادی جا چکی تھی۔ کھانے پینے پکانے کی اشیاء کا بوجھ کم ہو چکا تھا اور ہم واپسی میں پھر بحرین مدائن اور دوسری جگہوں رکتے درگئی پاور ہاؤس جا باہر سے جو نظر آ سکا اور پہاڑی سرنگ سے نکلتی نہر کا عجوبہ دیکھتے قصہ خوانی بازار پشاور کا رخ کرتے شام سے قبل ڈھونڈتے ڈھانڈتے اپنی بھابھی کی خالہ کے گھر میں مزیدار کھانوں کا چسکا لے رہے تھے۔

چند روز قبل گوگل فوٹوز نے نہ جانے کہاں سے ڈھونڈ میرے موبائل فون پر پرانے البموں سے لوڈ کیا ایک فوٹو ڈھونڈ کے سامنے رکھ دیا۔ آگے آپا اور سب سے پیچھے بیگم، درمیان میں بچے ایک ہاتھ دوسرے کے ہاتھ میں دیے اور دوسرے ہاتھ میں جوتے اٹھائے خار، باجوڑ کا پایاب برساتی نالہ عبور کر رہے ہیں اور نالے کے شفاف پانی کے نیچے پتھر اور ریت ڈوبتے سورج کی کرنوں کو واپس اچھالتے پھوار بنا رہے ہیں۔ یہ فوٹو یادوں کی گنگا بہاتے برساتی نالہ سے کار نکال سب کے نالہ پار کرتے فوٹو لیتے خود کو سامنے لا کھڑا کر گیا۔

چوؔن برس گزر چکے؟ زمانے کی ٹھوکریں اور خوف کی آزمائشوں کے بعد کہاں کہاں دنیا بھر کی رنگینیاں اور سیاحت اور نظارے خدا تعالی نے ہمارے لئے مسخر کر دیے۔ سمندروں جھیلوں، جنگلوں ملکوں ملکوں شہروں شہروں پھرنا نصیب میں لکھا۔ آج اکتوبر کی خزاں میں کینیڈا میرے گھر کے ارد گرد رنگ بدلتے پتوں کی رنگینیاں ہیں، ایک طرف چند منٹ پیدل چلتے ویسا ہی جنگل ہے دوسری طرف چل وسیع پارک میں سے گزرتا اسی دریا جتنا کریڈٹ دریا روزانہ میرے ذوق کی پیاس بجھاتا ہے۔ سب بچے ساٹھ سے اوپر جا چکے، آپا خدا کے حضور جا چکیں۔ مگر یہ فوٹو سامنے رکھے انیس سو ستر کی اس سیاحت کی یادیں جہاں جہاں پہنچا گئیں ان کی لذت ان سب سے زیادہ ہے۔

( اس سفر کی پشاور اور واپسی ایبٹ آباد نتھیا گلی ابھی زیر تعمیر ایوبیہ، خیرا گلی مری اور منگلا ڈیم گھومتے ہوئی۔ اس کی داستان پھر کبھی۔ بس سولہ دنوں میں شاید سولہ سو میل کے لگ بھگ یہ سیاحت کل خرچہ پٹرول ہوٹل کھانا، شاپنگ کو چھوڑ دو ہزار روپے سے بھی خاصے کم خرچ میں ہوئی تھی )

Facebook Comments HS