گاؤں سے پرائے دیس تک
11 اکتوبر کی رات، سیاہ چادر تانے، 12 اکتوبر کی صبح کی سپیدی میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ لائبریری سے باہر کی فضا میں گہرا سکوت، گہری خاموشی، مستزاد اس پر شب کی سیاہی چارسُو پھیلی ہوئی ہے۔ لائبریری میں ہندو پاک کے مختلف شہروں، علاقوں سے اُردو زبان بولنے والے، بدخشان و خراسان کے فارسی و دری زبان والے، تُرک و آذری، فرانسوی، روسی زبان بولنے والے، مختلف تہذیب و ثقافت، زبان و ادب کے متوالے، مختلف اندازِ بُود و باش، وضع قطع کے حامل متلاشیانِ علم و دانش اپنی اپنی دُنیا میں مستغرق ہیں۔
کوئی فلسفہ و منطق کی کتاب کھولے، کوئی اصول و فقہ کی کتاب کھولے علم و دانش کی موتی چُننے میں مصروفِ عمل ہیں۔ مرے سامنے بھی فقہ و اصول فقہ کی کتابیں موجود ہیں۔ ماہرین اصول و فقہ کی علمی موشگافیوں، نکتہ افرینیوں، اچھوتے بیان، ادق و مغلق عبارتوں، متقدمین و متاخرین کے مشہور و شاذ آرا پر نقد و تبصروں پر مشتمل عبارتیں طبع آساں طلب پر گراں ہو کر، طبیعت تھک کر، لائبریری سے باہر نکل کر صحن میں بنے حوض کے کنارے بیٹھ گیا۔ اتنا رونق افروز ماحول سے طبیعت اُکتا کر بقول ناصر ؛
بھری دُنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
مسرت و اُداسی کی ملی جلی کیفیت میں کچھ سطور مرقوم کرنے جا رہا ہوں۔
ابھی تک جانے کس چیز کی کمی ہے۔ لیکن تحریر ختم ہوتے ہوتے غیر ارادی طور پر اُس کمی کے بارے میں بات واضح ہو جائے گی۔
مرے اطراف میں انگور، انار، شہتوت، انجیر کے شجر سایہ فگن ہیں۔ خزاں کے آثار ہویدا ہونے لگی ہیں۔ درختوں کے پتے مائل بہ زرد ہیں۔ لیکن خزاں اپنی جوبن پر نہیں۔ بلکہ مدھم روشنی میں ہوا کی ہلکی لمس سے جھولتے سُرخ و احمریں انار کے دانے نظروں کے سامنے ہے۔
میں جس عمارت میں مقیم ہوں۔ اس عمارت کی آرائش و زیبائش، قدامت و کلاسیک عہدِ قاجار کی یاد تازہ کر رہی ہے۔
یہ ہواؤں میں خُنکی کے آثار، یہ ایران کے شہر قُم کی فضا، یہ اطراف میں زرد ہوتے پتوں کی سرسراہٹ مجھے یادوں کی رنگین وادی میں لے جا رہی ہے۔
میں اونچے نیچے ٹیلوں، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز کھیتوں، خواب ہوتے گلی کوچوں میں پلا بڑھا پہاڑی لڑکا کہاں شہروں کے جھمیلوں میں پھنس گیا ہوں۔
صبح کی سپیدی پھیلتے ہی چرواہوں کے بھیڑ، بکریوں کو ہانکنے کی آواز، چڑیوں کی چہچہاہٹ، کوئل کی گیت سُن کر جاگنے والا لڑکا اب شہروں کے شور و غل، موٹر کاروں، گاڑیوں، ٹرکوں، بسوں کے ہارن سُن کر جاگ رہا ہوں۔
یادوں کے دریچوں میں جھانک کر دیکھتا ہوں تو میرا اور مرے گاؤں کے درمیاں صدیوں کا فاصلہ، پُشتوں کی دوریاں پیدا ہو گئی ہیں۔
میں سوچتا تھا کہ شہروں کی زندگی میں سکون ہو گا، راحت ہوگی۔ یہ رونقیں، زرق برق لباس سب بناوٹ ہیں۔ سب جھوٹے روپ ہے۔ سکون تو گاؤں کی سادگی، تصنع و بناوٹ سے عاری زندگی میں ہے۔
وہ صدیوں کا فاصلہ، وہ پُشتوں کی دوریاں کیسے؟ دیکھیں مرے اس نظم معرا میں۔
خزاں کی شام
گاؤں کے بڑے بوڑھے
کسی چوپال پر بیٹھے
جدید تہذیب کی رنگینیوں سے تنگ آ کر
عہدِ رفتہ کی حسیں یادوں لے کر گنگناتے ہیں
اسی چوپال سے تھوڑا پرے
عہدِ رواں کے نوجواں سارے
موبائل میں گھسے
اطراف سے یوں خبر ہے
جیسے دنیا میں کوئی انساں نہیں
پتھر کی دنیا ہو
اُسی چوپال کے دائیں طرف
خوابوں کی نگری میں
کنارِ نہر
کچھ شہزادیاں
کُوزوں میں پانی بھر رہی تھیں
اور اتنے میں
فضائے سرد میں اذانِ مغرب کی صدا گونجی
یکا یک تاریکی نے گھیر لی
ہُو کا سماں پیدا
سُنا ہے اب اُسی چوپال پر
سرمایہ داروں نے
نویدِ امن دے کر
اور ترقّی کی ضمانت پر
”سُپر مارکیٹ“ کے عنواں سے
بلند، بالا
عمارت کی نئی بنیاد رکھی ہے۔
لڑکپن شہروں کی نم آلود و غم آلود فضا میں کھو گیا۔ اب جوانی پرائے دیس میں کٹ رہی ہے۔
لبنانی عربی ادیب و مصور خلیل جبران کے پچھلے صدی میں لکھے خطوط کا مجموعہ پڑھ رہا تھا۔ وہ کبھی قاہرہ میں موجود اپنی محبوبہ ”می زیادہ“ کے نام خط لکھتے ہیں۔ کبھی اپنی ماں دھرتی لبنان میں موجود، دوستوں اور دیگر احباب کے نام خط لکھتے ہیں۔ ہر خط میں اک حساس ادیب اپنے علاقے کی دلفریبیوں، قدرت کے حسین منظروں کو یاد کرتے ہیں۔
اپنے اک عزیز ”امین جرائب کے نام لکھتے ہیں“ تم لبنان کی دلفریب وادیوں میں زندگی سے محظوظ ہو رہے ہو، میں یہاں اس شہر میں ہوں کہ جہاں شور و غل بپا ہے، تمہیں سکون میسر ہے اور میں اضطراب کی آگ میں پھنک رہا ہوں۔ ”
آگے لکھتے ہیں ؛
”لبنان ان دنوں کس حال میں ہے؟ کیا اسی طرح دلفریب ہے؟ جیسے کہ پہلے تھا؟ یا کسی بے آب و گیاہ صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے کہ جہاں وحشت و جمود کے سائے رقصندہ ہیں۔ کیا لبنان اب بھی وہی لبنان ہے۔ کہ جس کے حسن و رعنائی کے قصیدے حضرت داود علیہ السلام نے گائے تھے کیا اس کی وادیاں اور چوٹیاں پہلے ہی کی طرح سرسبز اور دل کش ہیں یا خشک میدانوں اور جھلتی ہوئی چٹانوں میں تبدیل ہو گئی ہیں؟“
اب خلیل جبران کو کیا جواب دوں؟
تیرا لبنان پر اب اسرائیلی غنڈوں، وحشیوں کی نظریں ہیں۔ اب اس دلفریب وادیوں پر گولے برسا رہے ہیں۔ اب اس کی عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل کر رہے ہیں۔ لیکن اب بھی ترے شہر کے غیرت مند جوان اپنے سرحدوں پہ کھڑے ہیں۔
اسی طرح چند سال قبل روسی آوار زبان کے شاعر و ادیب رسول حمزہ توف کی کتاب ”میرا داغستان“ پڑھتے ہوئے بھی طبیعت پر اُداسی کی کیفیت چھا گئی تھی۔ رسول حمزہ توف نے بھی شہروں اور پرائے دیسوں کے خاک چھاننے، تصنع بھری زندگی گزارنے کے بعد ”میرا داغستان“ لکھ کر بوجھل من کو ہلکہ کرنے اور ”آوار“ گاؤں کی سادگی و دلفریبی کو بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھے یاد کرنے کی کوشش کی۔
آج میں بھی پرائے دیس میں بیٹھ کر اپنے گاؤں کی یاد میں کچھ سطور مرقوم کر رہا ہوں۔

