جولگرام کی روخانہ فلاحی تنظیم کے لئے چند تجاویز
کسی فرد یا گروہ کا وہ کام جو وہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور مشکلات کم کرنے کے لیے مفت میں سرانجام دیا جاتا ہے، اس کو رضاکاری VOLUNTEERING کہا جاتا ہے۔
اس کی ابتداء اس وقت سے ہوئی ہے جب سے انسان نے دنیا میں زندگی کا آغاز کیا ہے۔ رضاکاری کا عمل ہر وقت اور ہر زمانے میں وقت کے حالات اور انسانی سوچ کے مطابق ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر رضاکارانہ سوچ اس وقت منظرعام پر آئی جب ریڈ کراس نے ایک قدرتی آفت کے دوران رضاکاروں کو بیرون ملک بھیجنے کا اعلان کیا۔ صدر ایف کینیڈی کے پیس کور 1961 ء جیسی تنظیم کا قیام عالمی سطح پر رضاکارانہ عمل کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
پشتونوں میں رضاکارانہ کام کرنے کا رواج پرانے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ پشتونوں کے اشتراکی معاشرہ کا انحصار رضاکاری پر تھا اور آج تک ہمارے پشتون علاقوں میں رضاکارانہ کام جاری ہے۔ جرگہ، اشر اور غمی کے موقع پر قبر کھودنے سے لے کر کفن و دفن تک پس ماندگان کا ہاتھ بٹانا، اس کی زندہ مثالیں ہیں جو آج تک پشتون معاشرے میں رواں دواں ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک معمولی کام سے ایک بڑا کام نکلتا ہے۔ اس طرح بعض معمولی کام کو شروع کرنے سے مخلص اور ایمان دار لیڈرشپ بھی نکلتی ہے۔
ہوا یہ کہ پچھلے سال میرے آبائی گاؤں جولگرام کے ایک نوجوان نے ایک وٹس اَپ گروپ بنایا تاکہ گاؤں کے مسائل کی نشان دہی کر کے ان کے حل کے لئے مخلصانہ کوششیں کی جائیں اور یہ کام بالکل عملی طور ہو رہا تھا۔ اس کو گاؤں والوں کی خوش قسمتی کہئے کہ اچانک گاؤں میں چوری اور ڈکیتی کی واردات میں اضافہ ہوا اور اس وٹس اَپ گروپ کو چلانے والوں نے گاؤں میں پہرے دینا شروع کیے اور پھر انہوں نے ضروری سمجھا کہ رسمی طور پر ایک تنظیم کا قیام بھی ضروری ہے جو گاؤں میں امن و امان اور دوسرے درپیش آنے والے مسائل کو ایک منظم طریقے سے اپنی مدد آپ کے تحت حل کرنے کی کوشش کرے۔
اس سوچ کے تحت جولگرام میں ”فلاحی روخانہ تنظیم“ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے لئے باقاعدہ طور پر کابینہ تشکیل دی گئی جو نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اتفاقاً وہ تمام اس محلے سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں میں نے اپنی زندگی کے تقریباً چالیس سال گزارے ہیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ سب نوجوان ہمارے سامنے پھلے پھولے ہیں۔ وہ سب معتبر اور قابل اعتماد نوجوان ہیں۔
روخانہ تنظیم کو بنے ہوئے ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا ہے لیکن اس وقت اس تنظیم کے تحت گاؤں کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں بہت کچھ کیا گیا ہے۔ ہمارے گاؤں کا ایک خوب صورت اور محنتی نوجوان مزدوری کے دوران سمندر میں ڈوب کر شہید ہوا تھا۔ اس کو ایران سے لانے سے لے کر جنازے تک میں ”روخانہ تنظیم“ نے ایک مثالی کردار ادا کیا تھا۔
کسی قوم یا ملک کی ترقی اور خوش حالی کا بالواسطہ تعلق کتابیں پڑھنے سے ہے جس کا رواج ہمارے ملک اور ہمارے صوبے میں بہت کم ہے۔ اس اہم مسئلے کی طرف دھیان دیتے ہوئے تنظیم نے ایک عوامی لائبریری قائم کی ہے۔ اس سلسلے میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ لائبریری اس وقت تک اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتی جب تک اس میں ہر موضوع پر کتابیں موجود نہ ہوں۔ مثلاً اس لائبریری میں قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، تاریخ، جغرافیہ، نفسیات، فلسفہ، فنونِ لطیفہ اور موسیقی جیسے موضوعات پر کتابیں موجود ہونی چاہئیں۔ میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ تنظیم کی انتظامیہ ہر قسم کی کتابیں پڑھنے کی حوصلہ افزائی کرے۔
درخت موسمیاتی جبر کا مقابلہ کر کے ماحول بہتر بنانے میں ناقابل یقین کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ شدید گرمی کو کم کرتے ہیں اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے بہت قیمتی زمین تباہی سے بچاتے ہیں۔ اس سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم نے اپنی مدد آپ کے تحت شجرکاری کی ایک کامیاب مہم چلائی جو قابل ستائش ہے اور اس کو جاری رکھنے کے لئے تنظیم کی مالی، سماجی اور اخلاقی مدد کرنا چاہیے۔
صفائی ہمارے دین کا حصہ ہونے کے علاوہ صحت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ تنظیم اس سلسلے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں اور گلی کوچوں میں پڑی ہوئی گندگی کو صاف کرنے کے لئے مخلصانہ کوشش کرتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں گندگی پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
آج کل جو بھی تنظیمیں ہیں، خواہ وہ مذہبی ہوں، سیاسی ہوں یا فلاح و بہبود کے ادارے ہوں۔ ان سب کا وجود اُس وقت خطرے میں پڑ جاتا ہے جب تنظیم میں مختلف اور متضاد مکتب فکر کے لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور ہر ایک یہ کوشش کرے کہ اس کو اس طرح چلایا جائے جس سے اس کی مخصوص فکر، خیالات اور فلسفے کو تقویت ملے۔ اس کے علاوہ مالی مفادات اور انانیت بھی اس قسم کی تنظیموں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مذکورہ تنظیم گاؤں کی فلاح و بہبود کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہ کسی کی ذاتی تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ گاؤں کی پراپرٹی ہے۔ اس میں گاؤں کے ہر پیشہ ور، تجربہ کار اور مخلص لوگوں کے مشوروں کو شامل کیا جائے۔ اگر ہو سکے تو اس میں خواتین سے بھی نمائندہ لیا جائے۔ اس سے نہ صرف ہمارے گاؤں کی خواتین کا اعتماد بڑھ جائے گا بلکہ خواتین کو اپنے سماجی مسائل کو ایک مناسب فورم میں لانے کا موقع بھی ملے گا۔
گاؤں کے لوگوں اور خاص کر نوجوانوں کو اس تنظیم کو آگے بڑھانے میں مخلصانہ کوشش کرنی چاہیے۔ اس کی کارکردگی میں بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے تمام انتظامی اور سماجی امور کے علاوہ اس کو ملنے والے عطیات میں شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ میری ناقص رائے یہ ہے کہ سب کو ”روخانہ فلاحی تنظیم“ کو فعال بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے مدمقابل دوسری تنظیم بنانے سے نوجوانوں کی توانائی تقسیم ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں انانیت اور ذاتی نمود و نمائش کا مقابلہ شروع ہو جائے گا جس سے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جائیں گے۔


