تلخ سیاسی منظر نامہ


پچھلے کافی عرصے سے جاری سیاسی کھیل تلخ ہوتا جا رہا ہے۔ گورنمنٹ آئینی ترمیم پاس کروانا چاہتی ہے جس کے تحت چیف جسٹس کی تبدیلی کے باوجود وہ اپنے آپ کو مستحکم رکھنے کی تگ و دو میں ہے تاکہ نیا آنے والا چیف جسٹس آٹھ فروری کو ہوئے عام انتخابات کی سکروٹنی کی طرف نہ چل پڑے اور بہت سے حلقوں میں رزلٹ کالعدم نہ قرار پائیں۔ آئینی ترمیم کو پاس کرانے کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی اور اس کو پورا کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جس نے پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان بانٹ دیں اس طرح حکومت کو بآسانی دو تہائی اکثریت مل گئی تھی۔

مگر الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ ہائی کورٹ سے ہوتا ہو سپریم کورٹ تک پہنچا اور وہاں پر بیٹھے اکثریتی ججوں نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر تمام آزاد امیدواران کو پی ٹی آئی کا امیدوار قرار دے دیا اور ان کو اختیار دیا کہ وہ ایک بیان حلفی دے کر تحریک انصاف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ فیصلہ حکومت کو کسی طرح قابل قبول نہیں تھا۔ لہذا دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لئے دوسرے طریقوں کو آزمایا جانے لگا جس میں جیتے ہوئے امیدواروں کو دوبارہ گنتی کے ذریعے ڈی نوٹیفائی کرنا بھی تھا۔

جس سے سیاسی ماحول میں تلخیاں گھلتی گئیں اور سیاسی پارہ بلند ہوتا گیا۔ حکومت نے ایک سادہ قانون سازی کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلے کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی مگر ججز نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کی وضاحت مانگنے پر ایک فیصلہ جاری کیا اور الیکشن کمیشن کو فوری طور پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرنے کا حکم دے دیا مگر ابھی تک سپریم کورٹ کا فیصلہ پینڈنگ پڑا ہوا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے بعد حکومت اور ججز کے درمیان بھی ٹھن گئی۔ اس دوران پی ٹی آئی کے کچھ اراکین اور مولانا فضل الرحمان کی مدد سے اس آئینی ترمیم کو منظور کروانے کی کوشش کی گئی مگر حیران کن طور پر آئینی قرارداد کا مسودہ خفیہ رکھا گیا اس پر مولانا نے اس کی حمایت سے صاف انکار کر دیا اور یہ آئینی ترمیم پہلی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکی۔

حکومت نے ایک اور قانون کے ذریعے بنچز بنانے کا اختیار دوبارہ چیف جسٹس کے ہاتھ میں دے دیا کہ وہ ایک اپنی مرضی کا جج اس میں ڈال سکتے ہیں جس کے بعد تریسٹھ اے کی تشریح کے فیصلہ کا ریویو کرتے ہوئے منحرف اراکین کے ووٹ گنتی میں شامل رکھنے کا فیصلہ دیا گیا۔ معترضین کے مطابق اس سے ہارس ٹریڈنگ بڑھنے کا امکان پیدا ہوا ہے۔ اسی دوران پی ٹی آئی کے بانی نے ملک بھر کے مختلف شہروں میں پہلے جلسوں کے ذریعے اور پھر غیر اجازت احتجاج کی صورت ماحول کو اور گرما دیا اور بالآخر اپنے خیبر پختونخوا کے وزیراعلی علی امین خان گنڈاپور کو اسلام آباد ڈی چوک میں احتجاج کا کہاُ گیا اور لگتا یہ ہے کہ دھرنے کا پروگرام بھی دیا گیا تھا۔

اگرچہ حکومت نے اسلام آباد اور پنڈی کو مکمل سیل کیا ہوا تھا اور شدید ترین شیلنگ کی گئی مگر عمران خان کے ہزاروں کارکن تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ڈی چوک کے قریب پہنچ گئے اور کچھ کارکنوں نے ڈی چوک کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ مگر اسی دوران علی امین گنڈا پور اپنے ہزاروں کارکنوں کو چھوڑ کر غائب ہو گئے اور اس کے بعد اس احتجاج کا اینٹی کلائمکس شروع ہو گیا۔ اور آہستہ آہستہ یہ احتجاج ہوا میں تحلیل ہو تا گیا۔

لاوارث کارکنوں کو پولیس کی بے رحم مار کھانا پڑی اور سینکڑوں کارکن ابھی جیلوں میں بند پڑے ہیں اور چند لیڈرز کے علاوہ تمام لیڈرز اس احتجاج سے غائب پائے گئے۔ اگرچہ کارکنوں نے لیڈروں کے بغیر ڈی چوک پہنچ کر تاریخ رقم کر دی۔ ابھی تک پارٹی کے اندر بھی کنفیوژن پائی جاتی ہے کہ علی امین گنڈاپور نے اس طرح کیوں کیا۔

ایک اور قابل ذکر بات کہ اس احتجاج کے دوران حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ محسن نقوی ہی پیش پیش رہے اور انھوں نے گنڈا پور کو جب وہ رستے میں تھے اس وقت بھی افہام و تفہیم سے احتجاج روکنے کی کوشش کی جبکہ وزیراعظم اور نون لیگ کی دوسری قیادت منظر عام سے غائب رہی۔ بعد میں مسلم لیک نون کے ایک دھواں دار قسم کے رہنما جو نواز شریف کے نظریے کے قریب سمجھے جاتے ہیں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو گرفتار نہ کرنے پر اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

جبکہ گنڈاپور نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذمہ دار آئی جی اسلام آباد کو ٹھہرا دیا۔ مگر لوگوں کو علی امین گنڈاپور مطمئن نہ کر سکے اور باخبر سمجھے جانے والے حلقوں کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے ایک دفعہ پھر اپنی دھاک بٹھا دی اور پی ٹی آئی عوامی سپورٹ کے باوجود بھی کچھ نہ کر پائی الٹا اس احتجاج کے بعد بانی پی ٹی آئی کو بہت سی پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس ماحول میں نون لیگ جو عوامی جذبات کی اب پرواہ ہی نہیں کر رہی اور ان کے سپریم لیڈر کبھی کبھی مجھے کیوں نکالا کا نعرہ لگا کر پھر لمبی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو اس حکومت کا سارا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

نون لیگ کی دیکھا دیکھی بلاول بھٹو بھی عوامی لیڈر بننے کی خواہش سے دستبردار لگتے ہیں اور آئینی ترامیم کے لئے ان کی بھاگ دوڑ بتاتی ہے کہ وہ طاقتور حلقوں کو خوش کر کے وزیراعظم لگنے کے رستے پر گامزن ہو چکے ہیں۔ حکومت کے لئے کچھ ریلیف اقتصادی میدان میں آیا ہے۔ آئی ایم ایف کا قرض منظور ہو چکا ہے۔ اور مہنگائی میں کچھ کمی آئی ہے اگرچہ فصلوں کے نرخوں میں کمی اور موسمی اثرات کی وجہ سے کسان بدحال ہوا ہے مگر شہری طبقہ کے حالات مہنگائی میں کمی کے باعث کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ مگر بلوچستان اور سرحد میں حالات کافی خراب ہیں غیر ملکی سرمایہ کار خاص کر چینی سرمایہ کاری کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے اس لیے تمام محب وطن جماعتوں کو مل جل کے بیٹھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS