مولانا کی سیاست: اصولی یا حصولی؟
مولانا فضل الرحمان کا آج کل ہر طرف طوطی بول رہا ہے، کبھی ایک پارٹی کے لیڈر ان کو سلام کرنے ان کے در پر حاضری دیتے ہیں تو کبھی دوسری پارٹی کے۔ اپوزیشن جماعت کے لیڈرز اور ان کے حامی صحافی، مبصرین اور تجزیہ کار مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری روکنے پر ان کی مدح سرائی کر رہے ہیں اور انہیں جمہوریت کا علمبردار قرار دے رہے ہیں، خود مولانا اور ان کے حامی اسے اصولی سیاست قرار دے رہے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اکثر اصولی کے بجائے حصولی سیاست کرتے ہیں، اور ان کے سابق مخالفین اور حالیہ اتحادی عمران خان ماضی میں اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ وہ اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے اور اس کی تائید میں وہ مثال دیتے رہے ہیں کہ مولانا اور ان کی جماعت 2002 سے لے کر 2018 تک ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں۔
اگر یہ موقف درست مان لیا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ مولانا ان دنوں اقتدار اور برسراقتدار لوگوں سے دوری کیوں اختیار کر رہے ہیں۔ یوں تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ہیں بھی، مگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ برسراقتدار لوگوں سے ان کی سابق بے رخی کی وجہ سے ناراض ہیں اور اسی وجہ سے انہیں سبق سکھا رہے ہیں یعنی بدلہ یا انتقام لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 2024 کے انتخابات کے بعد نواز لیگ اور پیپلز پارٹی نے حکومت سازی میں انہیں مشاورت تک میں شریک نہیں کیا اور اہم عہدے آپس میں ہی بانٹ کر مرکز اور صوبوں بالخصوص بلوچستان میں حکومت سازی کرلی، اب اس کا بدلہ وہ دونوں جماعتوں کے قائدین کو خوار کر کے لے رہے ہیں، مزید برآں مولانا اسٹیبلشمنٹ سے بھی ناخوش ہیں کہ جب الیکشن کے دوران کچھ جماعتوں پر کرم نوازی کی گئی تو ان کی جماعت کو نظرانداز کیا گیا خاص طور پر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی پر عنایات کی بارش کی گئی، مگر دونوں صوبوں میں مولانا کی جماعت کو سیٹوں کی بندر بانٹ سے محروم رکھا گیا، اس بری طرح نظرانداز یا محروم کیے جانے پر مولانا اسٹیبلشمنٹ پر آگ بگولا ہیں تو ساتھ ہی وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی سے سخت بددل اور متنفر نظر لگتے ہیں۔
اس کی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں مگر ایک خاص وجہ قاضی فائز عیسٰی کا عام انتخابات اعلان کردہ شیڈول کے مطابق کرانے کے عمل میں اہم کردار ہے۔ مولانا چاہتے تھے کہ امن و امان کی بدتر صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات کو بہانہ بنا کر عام انتخابات کو ملتوی کر دیا جائے تاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خاتمے اور اسمبلی کی تحلیل کے بعد خیبرپختونخوا میں بننے والا مولانا فضل الرحمان کی ایما اور مرضی سے بننے والا سیٹ اپ چلتا رہے اور مولانا کے رشتہ دار گورنر، ان کے لگائے ہوئے وزیراعلٰی اور دیگر اہم حکام کی حمایت سے ”پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں“ والا منظر برقرار رہے اور مولانا کے حامی اس سے اسی استفادہ کرتے رہیں (بقول سلیم صافی کے اس نگران دور میں مولانا کے حامیوں نے صوبے میں وہ انت مچائی کہ لوگ پی ٹی آئی کا 9 سالہ دور بھول گئے مگر اس بری طرح انت مچانے کا خمیازہ مولانا کی پارٹی کو عام انتخابات میں بھگتنا پڑا) بہرحال مولانا کی دہائیوں اور بد دعاؤں کی باوجود قاضی فائز عیسٰی ٹس سے مس نہ ہوئے اور عام انتخابات اعلان کردہ تاریخوں پر ہو گئے، اب مولانا بدلہ لینے پر آ گئے ہیں اور وہ قاضی فائز عیسٰی کا نام تک سننے کے روادار نہیں ہیں اور ان کے عہدے میں کسی بھی صورت توسیع کے مخالف ہیں اور بقول بلاول بھٹو کے وہ مائنس ون فارمولے کی بات کر رہے ہیں۔ بہرحال اس بحث سے یہ تو ثابت ہوا کہ مولانا کسی اصولی بات کی وجہ سے نہیں بلکہ حصولی یا عدم حصولی کی وجہ سے آئینی ترامیم کی قاضی فائز عیسٰی کی ریٹائرمنٹ تک مخالفت کر رہے ہیں ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ترامیم کی منظوری کی حمایت کا عندیہ دے چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مولانا اصولی سیاست کا نام لے کر کب تک حصولی یا عدم حصولی کی بنیاد پر سیاست کرتے رہیں گے اور وہ درحقیقت کب اصولی سیاست کریں گے؟ مولانا کی سیاست کی بنیاد مذہب ہے، وہ ایک مذہبی سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں، اسلام کے نفاذ کا وعدہ کر کے ان کی جماعت ووٹ لیتی ہے، پھر وہ اپنی سیاست کا محور اسلام کیوں نہیں بناتے، سیاست کے لئے اسلام کا نام لینا اور بات ہے اور اسلام کے لئے سیاست کرنا دوسری بات ہے، ہمارے ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کا المیہ یہی ہے کہ وہ سیاست کو اسلام کے لئے استعمال کرنے کی بجائے اسلام کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کرتی ہیں، اور مولانا کی جماعت بھی یہی کچھ کرتی آئی ہے، ہو سکتا ہے کہ مولانا کی جماعت سمیت دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں نے مشرف دور سے پہلے بنائے گئے اسلامی قوانین وغیرہ کی تبدیلی یا تنسیخ کی مخالفت یا مزاحمت کر کے اسلام کی کسی حد تک خدمت کی ہے مگر عملی طور پر نئے اسلامی قوانین بنوانے یا پہلے سے بنائے گئے قوانین کو بہتر بنانے یا ان پر عملدرآمد کے لحاظ سے کوئی قابل ذکر ہا خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکیں۔
مولانا کی جماعت سترہویں آئینی ترمیم اور اس کے بعد والی ترامیم منظور کرانے کے عمل میں عملی طور پر شریک اور اہم کردار رہی، ان ترامیم کی منظوری میں حمایت کے بدلے مولانا کی جماعت 1973 کے آئین میں درج شقوں کے مطابق قوانین کو اسلامی ڈھانچے میں ڈالنے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے اور وفاقی شرعی عدالت کے کردار کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے اہم اور قابل عمل نکات شامل کروا سکتی تھی مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا، زیادہ سے زیادہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے عہدے کے حصول کو مطمح نظر رکھا گیا یہاں بھی اصولی کی بجائے حصولی سیاست کو ترجیح دی گئی اور لگتا ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اگر مولانا حصولی کی بجائے درحقیقت اصولی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی ذاتی انا، تسکین اور انتقام کے خول سے اور قاضی فائز عیسٰی کی مخالف قوتوں کے حصار سے نکل کر فیصلہ کرنا چاہیے اور مجوزہ آئینی ترامیم بشمول وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کا مشروط اعلان کرنا چاہیے اور یہ حمایت ان نکات کو آئینی ترامیم کا حصہ بنانے سے مشروط ہونا چاہیے جس سے 1973 کے آئین میں درج اسلامی دفعات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد ممکن ہو اور وفاقی شرعی عدالت کو اسلامی تعلیمات و قوانین کے معاملے میں مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے برابر اعلی اور حتمی حیثیت حاصل ہو۔ اگر مولانا یہ نہیں کرتے تو پھر وہ کچھ عرصے تک کچھ مخصوص قوتوں اور لوگوں کے ہیرو رہیں گے اور پھر یہ رتبہ برقرار نہیں رہے گا، یعنی
چار دن کی چاندنی، پھر اندھیری رات!


