بے رحم ماضی اور پُر امید مستقبل: کتاب ”دی ریشنل آپٹمسٹ“


کسی دن مطالعہ کرتے ہوئے یہ پیرا نظر سے گزرا کہ کیا یہ کسی معجزے سے کم ہے کہ آپ تقریباً آٹھ ارب لوگوں اور بے شمار زندہ مخلوقات کے ساتھ ایک بڑی چٹان پر سوار ہیں، جو خلا میں تیر رہی ہے اور ایک عظیم آگ کے گولے کے گرد گھوم رہی ہے۔ پھر بھی آپ مزید معجزات کی تلاش میں ہیں؟ ہماری زندگی، ہمارا وجود، اور یہ کائنات خود ایک عظیم معجزہ ہے۔

حال ہی میں، میں نے میٹ رڈلی کی کتاب ”دی ریشنل آپٹمسٹ“ پڑھی تھی۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد دل و دماغ سے مایوسی کے بادل کسی حد تک چھٹ گئے۔ کس طرح ماضی کی تلخ حقیقتوں کے باوجود انسان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے اور اب ہمارا مستقبل زیادہ امید افزا ہے۔ عام طور پر دنیا کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی پائی جاتی ہے، مگر رڈلی یہ باور کراتے ہیں کہ تاریخ کے تلخ تجربات کے باوجود انسانیت کی ترقی ایک مثبت سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ انسان کی قابلیت اور سائنسی ترقی کی بدولت ہم ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے تاریخی تجزیے ہمیں بتاتے ہیں کہ انسانوں نے اپنی ذہانت، سائنسی ترقی، اور تعاون کے ذریعے کئی مسائل پر قابو پایا ہے۔ رڈلی کا نظریہ ”ریشنل آپٹمسزم“ ہے، اور یہ محض خوش فہمی نہیں بلکہ حقیقی امید ہے۔

کتاب کے پہلے باب کو پڑھ کر آپ کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انسانیت نے اپنی ترقی، نئی ایجادات، تجارت، اور خیالات کے تبادلے سے کیسے کامیابی حاصل کی ہے۔ رڈلی کہتے ہیں کہ انسانی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان مسلسل ترقی کی طرف بڑھتا آیا ہے۔

آج ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں زندگی بہتر تھی۔ ان کا استدلال ہے کہ اس میں سادگی، سکون، میل جول اور روحانیت موجود تھی، جو اب کھو چکی ہے۔ لیکن حقیقت میں انسانی ماضی بہت کربناک گزرا ہے۔

چلئے بات شروع کرتے ہیں ایک فرضی منظر کشی سے جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہے :

”ذرا تصور کریں کہ یہ 1800 ء ہے، کہیں مغربی یورپ یا شمالی امریکہ میں۔ ایک خاندان لکڑی کے بنے ہوئے گھر کے چولہے کے ارد گرد جمع ہے۔ باپ بائبل سے پڑھ رہا ہے جبکہ ماں گوشت اور پیاز کا سالن تیار کر رہی ہے۔ چھوٹا بچہ اپنی بہنوں میں سے کسی کے پاس سکون پا رہا ہے اور بڑا بیٹا مٹکے سے مٹی کے پیالوں میں پانی ڈال رہا ہے۔ بڑی بہن اصطبل میں گھوڑے کو چارا دے رہی ہے۔ باہر نہ تو ٹریفک کا شور ہے، نہ کوئی منشیات فروش، اور نہ گائے کے دودھ میں کوئی زہریلا کیمیکل یا ریڈیو ایکٹیو اثرات پائے جاتے ہیں۔ سب کچھ پُرسکون ہے ؛ کھڑکی کے باہر ایک پرندہ گنگنا رہا ہے۔

یہاں تک تو منظر نہایت خوبصورت لگتا ہے، جو دل و دماغ کو بھا رہا ہے۔

لیکن سوچئے، اگرچہ یہ گاؤں کا ایک خوشحال خاندان ہے، مگر باپ کا بائبل پڑھنا کھانسی سے رک جاتا ہے جو نمونیا کی نشاندہی کر رہی ہے، اور جو اسے 53 سال کی عمر میں مار ڈالے گا۔ اور یہ آگ کے دھوئیں کی وجہ سے مزید خراب ہو رہی ہے۔ (وہ خوش نصیب ہے : 1800 ء میں انگلینڈ میں اوسط عمر چالیس سال سے بھی کم تھی۔ ) بچہ چیخ رہا ہے کیونکہ اسے چیچک ہے، جو اسے مار ڈالے گی؛ اس کی بہن جلد ہی ایک نشے باز شوہر کی جائیداد بن جائے گی۔

بیٹے کے ڈالے ہوئے پانی میں گائے کی بدبو ہے، جو ندی سے پانی پیتی ہیں۔ ماں کو دانتوں کا درد تڑپا رہا ہے۔ سالن بد رنگ اور بے مزہ ہے۔ اس موسم میں کوئی پھل یا سلاد نہیں۔ اسے لکڑی کے چمچ سے لکڑی کے پیالے میں کھایا جاتا ہے۔ موم بتیوں کی قیمت بہت زیادہ ہے، لہذا دیکھنے کے لئے صرف آگ کی روشنی ہے۔ خاندان میں کسی نے کبھی کھیل نہیں دیکھا، نہ کوئی تصویر بنائی اور نہ ہی پیانو سنا۔ سکول چند سال کے لئے بیکار لاطینی سکھانے کے لئے ہے جو پادری کے گھر پر ایک سخت گیر استاد کے ذریعہ پڑھائی جاتی ہے۔

باپ ایک بار شہر گیا تھا۔ اور باقیوں نے کبھی بھی پندرہ میل سے زیادہ کا سفر نہیں کیا۔ ہر بیٹی کے پاس دو اونی لباس، دو کپڑے کی قمیصیں اور ایک جوتوں کا جوڑا ہے۔ باپ کی جیکٹ اس کی ایک ماہ کی اجرت میں آئی تھی لیکن اب اس میں جوئیں بسی ہوئی ہیں۔ بچے فرش پر بھوسے کے گدوں پر دو دو کر کے سوتے ہیں۔ جہاں تک کھڑکی کے باہر پرندے کا تعلق ہے، کل اسے لڑکا پکڑ کر کھا لے گا۔ ”

ہمارے آبا و اجداد ایک بے رحم اور سخت دور سے گزرے۔ صدیوں پہلے شدید غربت اور بیماریوں کا سامنا تھا۔ اوسط عمر کم تھی، برخلاف ان قصے کہانیوں کے جن کے مطابق انسان دو سو، تین سو یا ہزار سال تک جیتے تھے، مگر اس کے کوئی تاریخی سائنسی شواہد نہیں ہیں۔ بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ تھی، اور سماجی نا برابری اپنے عروج پر تھی۔ جنگ ایک عام بات تھی، اور لوگوں کو زندگی میں زیادہ سہولیات میسر نہیں تھیں۔

میٹ رڈلی کا مرکزی نظریہ یہ ہے کہ انسانی ترقی کا اہم عنصر تبادلہ، تعاون اور نئی سوچ اپنانے میں ہے۔ اس کتاب نے مجھے یہ احساس دلایا کہ ہمارے دور کی جدید ٹیکنالوجیز اور سہولیات، جیسے کہ اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ، انفرادی ایجادات سے زیادہ ہماری اجتماعی محنت کا نتیجہ ہیں۔

ہماری ترقی مختلف شعبوں میں انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ مثلاً زراعت میں جدت نے اربوں لوگوں کو خوراک فراہم کرنے کے قابل بنایا ہے، اور میڈیکل ریسرچ نے کئی جان لیوا بیماریوں کو قابو میں کر لیا ہے۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں جو سہولیات ہمیں میسر ہیں، ان کے پیچھے صدیوں کا علم اور کوششیں موجود ہیں۔ یہ سب ہمیں معقول پر امید مستقبل کا احساس دلاتے ہیں، اور یہ امید محض مثبت سوچ نہیں بلکہ حقیقی اعداد و شمار اور مشاہدات پر مبنی ہے۔

جیسے جیسے ہماری صحت، تعلیم، اور ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے، ویسے ہی انسانیت آگے بڑھ رہی ہے۔ اوسط عمر میں اضافہ اور علاج میں جدید تکنیکیں، جیسے جینیاتی علاج اور نینو ٹیکنالوجی، مستقبل میں صحت کے شعبے میں مزید بہتری لائیں گی۔ یہ سب ہمیں ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جا رہا ہے، جہاں بیماریوں کی روک تھام اور علاج پہلے سے کہیں زیادہ موثر ہو گا۔

عالمی سطح پر غربت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا، لیکن عالمی معیشت، ٹیکنالوجی، اور تعلیم میں ترقی نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے باہر نکالا ہے۔ ڈیجیٹل انقلاب نے ہماری زندگی کے ہر پہلو کو آسان بنا دیا ہے۔ اور یہ ٹیکنالوجیز ہمارے طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائیں گی۔

سائنسی ترقی کے لحاظ سے انسانیت بہترین دور میں ہے، اور ہم آگے کی طرف ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ ترقی محض ہماری انفرادی کوششوں کی وجہ سے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مل کر کام کرنے کی بدولت ہے۔ اگرچہ ہمارے سامنے کئی چیلنجز موجود ہیں، مگر ماضی کے مقابلے میں ہمارے پاس اب زیادہ مواقع، علم، اور وسائل ہیں۔

”دی ریشنل آپٹمسٹ“ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ انسانیت نے ماضی کی مشکلات کو عبور کیا ہے، اور اب ہم سائنس، تعلیم، اور باہنی تعاون کی بدولت ایک بہتر کل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS