ڈاکٹر ذاکر نائیک اور پی آئی اے: معاملے کی تفصیل

30 ستمبر 2024 کی صبح ڈاکٹر ذاکر نائیک قطر ایئرویز کی پرواز QR۔ 614 سے اسلام آباد پہنچے۔ ان کے استقبال کے انتظامات ایک قومی مہمان کے طور پر کیے گئے تھے۔ جبکہ ایک پاکستانی کاروباری شخصیت نے ان کی ٹکٹ خریدی تھی۔ تاہم، ان کی ٹیم کے چھ افراد پی آئی اے کی پرواز PK 895 کے ذریعے کوالالمپور سے اسلام آباد پہنچے۔
یہ چھ افراد ایک ہزار کلو گرام سے زیادہ سامان کے ساتھ سفر کر رہے تھے، جبکہ پی آئی اے کی پالیسی کے مطابق ہر مسافر کو صرف چالیس کلو وزن لے جانے کی اجازت تھی، یعنی مجموعی طور پر 240 کلوگرام۔ جب ان سے اضافی 760 کلو کے سامان کے لیے پیسے طلب کیے گئے، تو انہوں نے پی آئی اے کے عملے پر دباؤ ڈالتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں پورا سامان مفت میں لے جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ پاکستان میں بطور سٹیٹ گیسٹ موجود ہوں گے۔ پی آئی اے کی جانب سے انہیں مزید 260 کلو لے جانے کی اجازت دی گئی، لیکن اس سے بھی وہ مطمئن نہیں ہوئے اور پانچ سو کلو اضافی سامان بھی بغیر چارجز کے لے جانے کا مطالبہ کیا۔ پی آئی اے نے قانون کے مطابق چلنے پر زور دیا، جس پر انہیں سخت ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد سے کراچی پہنچنے کے بعد ، ڈاکٹر ذاکر نائیک نے گورنر ہاؤس میں منعقد ایک تقریب کے دوران پی آئی اے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک ہوا ہے۔ انہوں نے بھارت کی مثال دی کہ وہاں ان کی عزت کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں ان کو اضافی سامان لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس بیان نے نہ صرف پی آئی اے بلکہ پاکستان کی مہمان نوازی پر سوالات اٹھائے اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اس بیان میں دوہرے رویے کا واضح اظہار تھا۔ انہوں نے خود قطر ائر ویز کے بزنس کلاس میں سفر کیا اور کسی مسئلے کا سامنا نہیں کیا، لیکن الزام پی آئی اے پر لگایا، حالانکہ ان کی ٹیم نے پی آئی اے کے قوانین کی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی۔ اس تضاد کو سوشل میڈیا پر بھی نمایاں کیا گیا، جہاں صارفین نے ڈاکٹر صاحب کے اس رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک طرف سچائی اور اصولوں کی بات کرتے ہیں، اور دوسری طرف خود قوانین پر عمل درآمد کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
بعد ازاں، عوامی دباؤ اور تنقید کے بعد ، ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے بیان پر معذرت کر لی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا اور وہ پاکستان اور پی آئی اے کی خدمات کو سراہتے ہیں۔ معذرت کے باوجود، ان کا یہ واقعہ پی آئی اے کی بدانتظامی کے بیانیے کو مزید تقویت دینے کا سبب بنا اور سوشل میڈیا پر جاری بحث کا حصہ بن رہا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی مذہبی خدمات کو جہاں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے وہیں اب ان پر تنقید بھی ہو رہی۔ مذہب سے جڑے لوگوں سے عوامی توقعات بہت واضح ہیں اور ان سے اس طرز کے روئیے کی توقع نہیں کی جاتی۔

