ریاست بمقابلہ شگفتہ کرن اور بلاسفیمی کے گروہ


Sohail Ahmad usa

اسلام آباد میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب سے متعلق مواد شیئر کرنے پر خاتون کو سزائے موت سنا دی ہے۔ خصوصی عدالت کے جج افضل مجوکا نے ملزمہ کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

عدالت نے خاتون کو پیکا ایکٹ کی سیکشن 11 کے تحت سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو خاتون کو حراست میں رکھنے کے وارنٹ بھی جاری کر دیے ہیں۔ خاتون 30 روز کے اندر سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ خاتون پر الزام تھا کہ انہوں نے چار برس قبل واٹس ایپ پر ایک گروپ میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز مواد شیئر کیا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزمہ شگفتہ کرن جو سنٹرل جیل راولپنڈی میں قید ہے کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت 11 کی روک تھام 295۔ A/ 295۔ C/ 298 / 298۔ A/ 109 PPC پولیس سٹیشن میں توہین رسالت کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ جسے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے نامزد کیا گیا تاہم ملزمہ کی درخواست پر حتمی دلائل کے لیے اس کے وکیل کی عدم دستیابی کی وجہ سے کیس 18.09.2024 تک ملتوی کر دیا گیا ہے، ساتھ ہی ملزمہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ مثبت طور پر طے شدہ تاریخ پر اپنے وکیل کی حاضری کو یقینی بنائے۔

مقررہ تاریخ پر عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ سیکشن 295۔ C PPC اور سیکشن 11 PECA، 2016 کے تحت ملزم کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے اور شگفتہ کرن توہین کی مرتکب ہوئی گئی ہے۔ اسے سزائے موت کے ساتھ ساتھ تین لاکھ روپے عائد کیا گیا ہے اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرمہ کو مزید چھ ( 6 ) ماہ قید کی سزا بھگتنا ہو گی۔ یاد رہے کہ مقدمے کی سنگینی کے پیشِ نظر یہ ساری کارروائی ویڈیو لنک پر ہوئی۔

مزید برآں، ملزم کو سیکشن 11 PECA، 2016 کے تحت بھی سزا سنائی گئی ہے اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے سات ( 7 ) سال قید بامشقت اور 1,00,000 /۔ روپے (ایک لاکھ روپے ) جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ مزید ایک ( 1 ) ماہ قید کی سزا بھگتنا ہو گی۔ سیکشن 382۔ B Cr۔ P۔ C کا فائدہ مجرم کو دیا جاتا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی سزا کے علاوہ سزائیں ایک ساتھ چلیں گی۔ سیکشن 374 سی آر پی سی کے تحت ریفرنس بھیجے جانے پر معزز اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد کی طرف سے سزائے موت کی توثیق کے بعد مجرم کو اس کے گلے میں پھانسی دی جائے گی۔

واضح رہے کہ سیکشن 295۔ A اور 298۔ A PPC عبادت گاہ کی بے حرمتی، کسی بھی طبقے کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے، مقدس ہستی کے تضحیک آمیز تبصروں کے استعمال سے متعلق الگ الگ جرائم سے متعلق ہے۔ صوتی پیغامات اور ٹیکسٹ میسجز کو دیکھنے سے ایسا کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، لہٰذا اسے شک کا فائدہ دے کر ان الزامات سے بری کر دیا گیا۔ مجرم پر واضح کیا گیا کہ وہ تیس دن کے اندر اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد میں اپیل دائر کرنے کا حق رکھتی ہے۔ اس فیصلے کی کاپی ملزمہ کو خصوصی میسنجر کے ذریعے سیل بند لفافے میں بھیجی جاتی ہے کیونکہ اسے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

اخباری اور عدالتی دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے کے مطابق مسیحی خاتون شگفتہ کرن جو کہ اسلام آباد کی رہائشی ہیں، نے ستمبر 2020 میں سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام سے متعلق نامناسب مواد شیئر کیا تھا۔ جس کے بعد شہری شیراز احمد کی جانب سے ایف آئی اے میں شکایت موصول ہونے پر 29 جولائی 2021 کو مسیحی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کر کے شگفتہ کرن کو گرفتار کر لیا گیا۔

پاکستان میں پہلی بار پیکا عدالت سے خاتون کو توہین رسالت کیس میں سزائے موت ملی ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق شگفتہ کرن چار بچوں کی ماں ہیں۔ شگفتہ کرن کی جانب سے مارچ 2023 میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی جو متعلقہ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مسترد کر دی تھی۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت کی حقدار ٹھہرائے جانے والی آسیہ بی بی کو آٹھ سال قید میں رکھا گیا تھا لیکن اکتوبر سنہ 2018 میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ایک بینچ نے مقامی عدالت اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آسیہ بی بی کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے ان پر عائد الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے انہیں بری کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد آسیہ بی بی اپنے اہل خانہ سمیت بیرون ملک چلی گئی تھی۔

پاکستان میں توہین رسالت اور توہین رسالت کے حوالے سے معاملات سنگین صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان ملزمان کے 40 سے زائد خاندانوں کے اہل خانہ نے انکوائری کمیشن کا مطالبہ کر دیا۔ یہ مطالبہ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں متعلقہ خاندانوں نے وفاقی حکومت سے معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے ایڈووکیٹ عثمان وڑائچ اہل خانہ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جنہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپیشل برانچ نے جنوری 2024 میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق ایک گروہ ملک میں سرگرم ہے اور معصوم لوگوں کو اپنے مذموم عزائم سے پھنس رہا ہے۔ یہ رپورٹ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، آئی جیز اور ڈی جیز سمیت تمام متعلقہ حلقوں کو بھیجی گئی تھی۔ ”ہم نے کابینہ اور داخلہ ڈویژن، انسانی حقوق کے ڈویژن، اور یہاں تک کہ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کو بھی لکھا تھا۔ جبکہ ہمارے پاس اسپیشل برانچ کی رپورٹ اور ایف آئی اے کے سابق ڈی جی سید کلیم امام کا وائس آف امریکہ کو دیا گیا انٹرویو ہے، جو اسپیشل برانچ کے نتائج کی تصدیق کرتا ہے۔  اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ گروپ کس طرح کام کرتا ہے، اگر وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور آزاد کمیشن کی طرف سے ان کی توثیق ہوتی ہے، تو متاثرہ خاندان اس فیصلے کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان الزامات کی وجہ سے کم از کم 400 خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔

ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، اور انہوں نے جواب دہندگان کو نوٹس بھیجے ہیں۔ گرفتاری سے پہلے اور بعد میں تشدد کے باعث ایک خاتون سمیت پانچ افراد حراست کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ “

پریس کانفرنس میں ایک ملزم کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا پنجاب یونیورسٹی میں بی ایس فزکس کا طالب علم ہے، اور ایک خاتون نے واٹس ایپ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا اور اس سے کہا کہ وہ اسے نوکری تلاش کرنے میں مدد کرے۔ وہ ایک ہفتہ تک بات کرتے رہے جب اس نے اسے گستاخانہ تصویر بھیجی۔

اس نے پوچھا کہ اس نے اسے تصویر کیوں بھیجی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پریس کانفرنس کے بعد اہل خانہ کی جانب سے پریس کلب کے باہر پرامن احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا۔ اسپیشل برانچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ مشکوک گروہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ایف آئی اے سے رجوع کر کے نوجوانوں کو توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسا رہا ہے اور ان سے رقم بٹور رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ یہ گینگ، جو توہین مذہب کے تقریباً 90 فیصد کیسوں میں شکایت کنندہ ہے۔ کئی مرد اور خواتین اس گینگ کا حصہ ہیں، جس کا سربراہ شیراز احمد فاروقی مبینہ طور پر ٹی ایل پی کا کارکن بتایا جاتا ہے۔ ایک وکیل راؤ عبدالرحیم بھی اس گینگ کا حصہ ہے۔ انہوں نے ”لیگل کمیشن آن بلاسفیمی پاکستان“ کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے۔ سپیشل برانچ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گینگ کے کچھ سوشل میڈیا گروپس یونائیٹڈ مذہبی اسٹوری، لائبہ مذہبی گینگ، آزاد مذہبی اسلام وغیرہ ہیں۔ رحیم نامی ایڈووکیٹ، جو گینگ کے ارکان میں سے ایک ہے، ممتاز قادری سے متاثر نظر آتا ہے اور وہ 2022 میں اسلام آباد میں اغوا اور قتل کے ایک کیس میں ملوث تھا، جو کہ بعد میں ایک سمجھوتہ پر ختم ہوا تھا۔

مجموعی طور پر ریاست جو ان معاملات میں مکمل طور پر باخبر کے لیکن مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے، عدلیہ الگ ان مقدمات کی سماعت کے دوران خوف میں مبتلا رہتی ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں پاکستان میں دو ہی گروہ باقی رہیں گے ایک توہین کا الزام لگانے والے اور دوسرے ان کا شکار بننے والے، سماج عدم تحفظ کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور ریاست، مقننہ اور عدلیہ بے بسی اور لاچارگی کا منہ بولتا ثبوت۔ جنرل مشرف کے ان لفظوں سے اختلاف کی گنجائش ہی نہیں کہ اب پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے۔ ریاست کا اپنا رچایا ہوا سوانگ اب سماج کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور سماج اور کمیونیکیشن کے جدید ذرائع موت کا ذریعہ

Facebook Comments HS