پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق
حال ہی میں پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق دروژبا کا آغاز دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم واقعہ ہے، جو نہ صرف ان کے درمیان دفاعی تعاون کی عکاسی کرتا ہے بلکہ وسیع تر جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں بھی گہری اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مشق 13 اکتوبر 2024 کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر، پبی میں شروع ہوئی اور دو ہفتے تک جاری رہے گی۔ اس مشق میں پاکستان کی لائٹ کمانڈو فوج اور روس کی فوجی دستے شرکت کر رہے ہیں، جس کا مقصد پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنانا اور دونوں ممالک کے فوجی تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔
بظاہر یہ مشق ایک معمول کی فوجی مشق لگتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کی گہرائی میں کچھ زیادہ اہمیت ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان تعاون، جو ماضی میں محدود رہا تھا، اب ایک نئی سطح پر پہنچ چکا ہے، جو باہمی مفادات اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات کی وجہ سے مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ دروژبا سیریز کی یہ ساتویں مشق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور اسٹریٹیجک ہم آہنگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی اتحادوں میں تبدیلی؟
پاکستان کی دفاعی پالیسی طویل عرصے تک امریکہ کے ساتھ قریبی فوجی تعاون اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ وابستگی پر مبنی رہی ہے، لیکن بدلتی ہوئی عالمی ترتیب اور نئے طاقت کے مراکز نے پاکستان کو اپنے تعلقات متنوع بنانے پر مجبور کیا ہے۔ روس، جو پاکستان کی فوجی سرگرمیوں میں کبھی ایک دور دراز کردار ادا کرتا تھا، اب ایک اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ *دروژبا* جیسی مشقیں اس بدلتے ہوئے تعلق کی علامت ہیں۔
روس کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا اہم ہے۔ مغرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، روس جنوبی ایشیا میں اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور پاکستان اسٹریٹیجک اہمیت اور تعاون کے مواقع فراہم کرتا ہے، خصوصاً انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔
انسداد دہشت گردی تربیت کی اہمیت
*دروژبا VII* کا بنیادی مقصد انسداد دہشت گردی ہے، جو دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم شعبہ ہے۔ پاکستان نے کئی سالوں تک اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور اس نے اس حوالے سے کافی تجربہ حاصل کیا ہے۔ پاکستان کی فوج نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں خاص مہارت حاصل کی ہے، خاص طور پر افغانستان کی سرحد کے قریب دشوار گزار علاقوں میں۔ یہ تجربہ ان ممالک کے لیے بے حد قیمتی ہے جو اپنی انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف، روس اپنے تجربات کا ایک مختلف ذخیرہ رکھتا ہے۔ روس نے چیچنیا میں اور حالیہ برسوں میں شام میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان تجربات کا اشتراک دونوں ممالک کی فوجوں کو مضبوط بنائے گا، اور ان کے حربی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔
فوجی تربیت سے آگے
*دروژبا VII* کی اہمیت صرف جنگی تربیت تک محدود نہیں ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام، دفاعی ٹیکنالوجی، اور توانائی کے تعاون جیسے شعبوں میں مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔ اس طرح کی مشقوں کے سیاسی پیغام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: دونوں ممالک اپنے تعلقات کو گہرائی میں مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
اگرچہ مشترکہ فوجی مشقیں عام ہیں، لیکن *دروژبا VII* جیسی مشقیں ایک الگ وزن رکھتی ہیں۔ یہ مشق ایک ایسے خطے میں ہو رہی ہے جو عالمی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے تنازعات کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں، پاکستان کا روس کے ساتھ اس نوعیت کا تعاون اس کے اسٹریٹیجک اختیارات کو وسیع کرنے کی ایک علامت ہے۔
اسٹریٹیجک شراکت داری کا فروغ
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ روس دنیا کے بڑے دفاعی برآمد کنندگان میں شامل ہے، اور پاکستان ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے۔ ایسی مشترکہ مشقیں دونوں ممالک کے لیے دفاعی خریداری کے معاہدے اور ٹیکنالوجی کے تبادلوں کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان اپنی زیادہ تر دفاعی ضروریات کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے، روس کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا اسے مزید دفاعی وسائل مہیا کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، یہ شراکت داری پاکستان کو یوریشیائی تناظر میں مضبوط پوزیشن فراہم کرتی ہے۔ دنیا کے تیزی سے کثیر قطبی ہونے والے منظرنامے میں، روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنا پاکستان کو علاقائی سفارتکاری اور اقتصادی ترقی میں اسٹریٹیجک فوائد فراہم کر سکتا ہے۔
طویل مدتی وژن
آخرکار، *دروژبا VII* صرف مشترکہ تربیت یا انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعلقات کا ایک وژن سامنے آتا ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی ترتیب میں، روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا پاکستان کو نہ صرف اسٹریٹیجک توازن فراہم کرتا ہے بلکہ اسے علاقائی اور عالمی سطح پر اپنے مفادات کو مضبوط کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق *دروژبا VII* اس بات کی اہم یاد دہانی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کس قدر ترقی کر چکے ہیں۔ جیسے جیسے دونوں ممالک کی فوجیں مل کر تربیت کرتی ہیں، وہ نہ صرف اپنی حربی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہی ہیں بلکہ ایک ایسے شراکت دارانہ تعلق کی تعمیر بھی کر رہی ہیں جو مستقبل میں علاقائی سلامتی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔



