خواتین میں چھاتی کا سرطان


muhammad salim gujranwala

خواتین میں چھاتی کے سرطان کی بیماری ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس کی شرح یکساں ہے، تاہم ترقی یافتہ ممالک میں خواتین میں چھاتی کے سرطان کی پہلی سطح کی تشخیص کی شرح ترقی پذیر ممالک کی شرح سے کہیں زیادہ ہے اس کے باعث اس بیماری کے علاج اور صحت یابی کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مغربی ممالک میں خواتین کی اس جنیاتی بیماری کے متعلق کافی آگاہی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین اپنی چھاتیوں کا بذات خود ایک باقاعدہ تشخیصی معائنہ کر لیتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی چھاتیوں میں کوئی بھی تبدیلی دیکھتی ہیں یا محسوس کرتی ہیں تو فوراً طبی جانچ پڑتال کے لیے وہ اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرتی ہیں۔

پاکستان سمیت ترقی پذیر مسلم ممالک میں اس بیماری کی آگاہی بہت کم ہے۔ پاکستان میں ہر نو خواتین میں سے ایک خاتون اس بیماری کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین معاشرتی رسم و رواج اور شرم کے بارے نہ تو اس بیماری کے متعلق کچھ سنتی ہیں، نہ خود اپنا معائنہ کرتی ہیں اور نہ ہی کسی کو بتاتی ہیں۔ ان کی بیماری کا اس وقت پتا چلتا ہے جب پانی سر سے اوپر ہو جاتا ہے اور بیماری اپنے آخری درجے تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔

لمحہ موجود میں معلومات و اطلاعات کی فراوانی کے باعث اب خواتین میں اس بیماری اور اس کے علاج کے متعلق شعور اجاگر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ پورے پنک ربن ماہ اکتوبر کے دوران اس بیماری کی تشخیص و علاج کے لیے آگہی جلسے، جلوس اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اخبارات میں مضامین اور ٹی وی چینلز پر بالمشافہ گفتگو کے پروگرام ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ہسپتالوں میں بھی کافی اور سیر حاصل سیمینارز ہوتے ہیں جن میں ماہرین مریضوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور ان کے اشکالات کو حل کرتے ہیں۔

سرطان بیماری کی سادہ سی تعریف یہ ہے کہ انسانی جسم کے خلیات بے ہنگم طریقے سے بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں جس کے باعث رسولی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور اس کی جانب خون کا بہاؤ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ سرطان کے خلیات کا مرکزیہ صحت مند خلیات سے ناپ میں بہت بڑا اور بے شکل ہوتا ہے اور سرطان کے خلیات کی یہ ایک واضح خردبینی تشخیصی نشانی ہوتی ہے۔

خواتین کی چھاتی کے سرطان کے چار درجے ہوتے ہیں، پہلے درجے میں سرطان کے خلیات چھاتی کی انتہائی اوپری بافتوں میں ہوتے ہیں۔ بیماری کا یہ والا درجہ سب سے زیادہ قابل علاج اور قابل شفا یابی ہے۔ دوسرے درجے میں بیماری کے خلیات اوپری بافتوں کے نیچے، دودھ کے غدود اور ان کی نالیوں میں سرایت کر جاتے ہیں۔ تیسرے درجے میں بیماری پھیل کر چھاتی کے پٹھوں، ہڈیوں، اسی جانب کی بغل اور اس کی بافتوں میں چلے جاتے ہیں۔ چوتھے درجے میں بیماری کے خلیات دونوں جانب کی بغلوں، لمف غدود، مہروں، پھیپھڑوں، چھاتی کے اندر اور دوسری ہڈیوں میں چلے جاتے ہیں اس درجے میں چھاتی میں زخم بھی بن جاتا ہے۔ یہ والا درجہ لا علاج اور جان لیوا ہوتا ہے۔

چھاتی کے سرطان کی علامتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
چھاتی میں نرم یا سخت گلٹی کا ہونا۔
چھاتی کی گلٹی میں درد ہونا، سوج جانا یا ناپ میں بڑھ جانا
چھاتی کی جلد کا کینو کے چھلکے جیسا ہو جانا۔
نپل کا اندر ہو جانا۔
نپل سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی دوسری رطوبت کا خارج ہونا۔
چھاتی کی جلد کی رنگت تبدیل ہونا۔

ان تمام علامات کو خواتین محسوس بھی کر سکتی ہیں اور بذات خود اپنا معائنہ کر کے بھی یہ علامتیں دیکھ سکتی ہیں۔ وہ جب بھی ان میں سے کوئی علامت یا تبدیلی دیکھیں، تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ ملک کے ہر بڑے سرکاری اور جوہری توانائی پاکستان کے تمام کینسر ہسپتالوں میں بریسٹ کلینک بنے ہوئے ہیں جہاں ایک ہی چھت تلے تمام تشخیصی و علاج معالجے کی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔

چھاتی کی بیماری کا سب سے پہلے متاثرہ خاتون کو پتا چلتا ہے۔ جب ڈاکٹر کے پاس مشورے کے لیے آتے ہیں تو الٹراساؤنڈ، میمیوگرافی اور سی ٹی سکین سے ابتدائی تشخیص کی جاتی ہے اور اس کے بعد حتمی تشخیص کے لیے متاثرہ حصے سے بافتوں اور گوشت کا تھوڑا سے ٹکرا لے کر اس کا خرد بینی معائنہ کیا جاتا ہے۔ خرد بینی معائنے سے ہی پتا چلتا ہے کہ چھاتی کا کینسر ہے یا نہیں، اگر کینسر ہے تو اس کی کون سی قسم ہے اور اس کا کیا علاج ہے۔

اگر سادہ گلٹی ہو تو کچھ ماہ کے وقفہ کے بعد اس خاتون کو بیماری کے درجے میں تبدیلی کے لیے اکثر جانچا جاتا ہے۔ بیماری کی پہلی دو اقسام کا علاج بہتر ہوتا ہے اور اس سے شفا یابی کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تیسرے اور چوتھے درجے والی بیماری کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے اور اس سے شفایابی بھی کم ہی ہوتی ہے۔

اس بیماری کے علاج کے لیے بعد از تشخیص سرطانی خلیات کو جلانے اور ختم کرنے کے لیے بہت سخت کیمیائی ادویات کو خون کے ذریعے انسانی جسم میں داخل کرتے ہیں۔ اس کے بعد بیماری کی شدت ہونے کی صورت میں ساری چھاتی کو معہ تمام بافتوں، پٹھوں اور لمف غدود کے نکال دیا جاتا ہے جس کو ریڈیکل میسٹیکٹومی کہتے ہیں۔ اس کے بعد ریڈیو تھراپی کا عمل شروع ہو جاتا ہے، جس میں ایکسرے سے ملتی جلتی غیر مرئی شعاعوں سے علاج کیا جاتا ہے اور بعد ازاں تمام عمر کے لیے ایک دافع سرطان گولی ٹیموکسیفن کھانی پڑتی ہے۔ مردوں میں بھی بہت کم شرح میں یہ بیماری ہو سکتی ہے۔

(راقم ایک طبی تشخیصی ریڈیالوجسٹ ہے۔)

Facebook Comments HS