بیٹیوں کے باپ
آئیے آج آپ کو ایک ایسی کہانی سناتے ہیں جو شاید آپ کی بھی ہو۔ اپنی کہانی ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں ہی ہوئی ہو۔ بعض اوقات ایک ایسی دنیا جہاں آپ اس دنیا کی تلخی سے چھٹکارا پانے کو قدم رکھتے ہوں وہ بھی آپ ہی کی دنیا ہے۔ کسی کو دکھائی اس لیے نہیں دیتی کہ وہ دنیا خاص آپ ہی کے لیے بنی ہے اور آپ ہی نے بنائی ہے۔ اسی لیے بسا اوقات جگ بیتی ہڈ بیتی لگنے لگتی ہے۔
جو کہانی دل کا تار چھیڑے وہ آپ ہی کی کتھا ہے۔
تو جناب۔ کہانی ہے آج سے کم و بیش دو دہائیاں پہلے سرگودھا کے ایک کلینک کی۔ مرکزی کردار دو ہیں۔ ایک ادھیڑ عمر باپ اور اس کی اٹھارہ سالہ بیٹی۔ لڑکی کو ہلکا سا بخار ہے جسے ڈاکٹر تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو سخت جان ہونا چاہیے کہ زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ اتنا ہلکا بخار بھلا کوئی بخار ہوا۔ والد کو تلقین کرتا ہے وہ اپنی بیٹی کی ہر چھوٹی سی تکلیف پر یوں پریشان نہ ہوں۔ باپ کا پارہ بلند ہوتا ہے اور وہ ڈاکٹر کے بھاشن کا تیا پانچہ کر گزرتا ہے۔
”اگر یہ کہہ رہی ہے کہ اسے تکلیف ہے، تو ہے!“
چند روز پہلے ہی لڑکی نے ٹیکا لگنے پر بھی چیخ پکار کی تھی اور تب بھی باپ کا یہی رویہ تھا۔ سوئی کی درد ہو یا گولی کی، اس باپ کے لیے مقدم تھی تو اپنی بیٹی کا آرام۔ اسے کچھ ہو تو کیوں ہو؟ اگر ہو، تو یہی دنیا کی سب سے بڑی تکلیف ہے۔ ننانوے بخار ہو یا ٹیکے کی ہلکی سی سوئی، بس بیٹی کو کچھ نہ ہو۔
اب آپ کہیں گے کہ ڈاکٹر کو مرکزی کردار کیوں نہ دیا۔ تین مرکزی کردار بھی تو ہو سکتے تھے۔ بس نہیں تو نہیں!
اب آتے ہیں ایک اور کہانی کی طرف۔ آپ کی فرمائش پر اس کہانی میں دو سے زائد کردار ہیں۔ یہ کہانی ہے اب سے کم از کم ڈھائی سو سال پہلے کے لندن کی۔ ایک باپ اپنی تین بیٹیوں اور بیوی کے ساتھ سیر سے واپس آ رہا ہے۔ اتوار جاتے ہوئے تو ڈھلوان تھی۔ بچیوں کے دل میں سیر کا شوق بھی تھا تو ہمت و حوصلہ خوب زوروں پر تھا۔ واپسی پر بچیاں تھکاوٹ سے نڈھال ہیں۔ یہ باریش باپ جس کی علمی و سیاسی عظمت نے زمانہ ہلا رکھا ہے جس کی کتابوں نے ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھی، اب ایک ایسے مسئلے سے نبرد آزما ہے جو ہر انقلاب سے کٹھن ہے۔ اور وہ ہے بچیوں کے تھکاوٹ سے نڈھال چہرے۔
حل یہی دکھائی دیتا ہے بچیوں کی توجہ ہٹائی جائے۔ یہ فلسفی باپ ان کے لیے نت نئی اوٹ پٹانگ کہانیاں گھڑتا ہے جو گھر آنے تک جاری رہتی ہیں۔ بچیاں بھی خوش، اور باپ کی خوشی تو ہے ہی بچیوں کی خوشی میں۔
اب آتے ہیں ان دونوں کہانیوں کے کرداروں کی شناخت پر۔ حقیقی کہانیاں جو ہیں۔ پہلی کہانی ہے ہماری اور ہمارے والد ہے۔ اور دوسری کہانی ہے جینی، الینار، اور لارا مارکس کے انقلابی باپ کارل مارکس کی۔ یوں تو کہانیوں میں دو سے زائد صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ان کہانیوں کے کردار ہزاروں میل دور بسے ہیں۔ شاید زمانے کا فاصلہ ختم کر کے آمنے سامنے بھی بٹھا دیا جائے تو بمشکل ہی ایک دوسرے کی گفتگو سمجھ پائیں۔
لیکن ایک قدر مشترک ہے۔ اور وہ ہے باپ بیٹی کا ایسا رشتہ جس میں سب سے مقدم بیٹی کو ہلکی سی تکلیف کا بھی احساس نہ ہونے دینا ہے۔ محبت کا ایسا مضبوط رشتہ جس کی بنیاد پر یہ دنیا کو ناک چنے چبوا دینے والے مرد اپنی کم عمر بیٹیوں کے سامنے جھاگ بنے بیٹھے ہیں۔ لاڈ پر مبنی ایسا فولادی رشتہ جس نے ان کی بیٹیوں کو بچپن سے ہی باور کروا دیا کہ ان کی زندگی کبھی محبت سے خالی نہیں ہو گی۔ اعتبار کا ایسا تناور رشتہ جس نے ان لڑکیوں کو سرگودھا کے کلینک اور لندن کی ڈھلوان پر ہی سکھا دیا کہ حقیقی مردانگی عورتوں سے نرمی اور شفقت میں ہے۔
پدرسری نظام میں بچوں کو پیدا کرنے سے تربیت کرنے کی ذمہ داری ماں پر رکھی جاتی ہے۔ اسی لیے مذاہب میں بھی ماں کا درجہ اور ذمہ داری باپ سے کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔ رہی سہی کسر سرمایہ داری نظام نے پوری کر دی ہے جہاں باپ صرف پیسہ کمانے پر مرکوز ہیں۔ صبح شام روزی روٹی کی چکی میں پھنسے انسان کے پاس نہ وقت ہے نہ خواہش کہ وہ بچوں کے ساتھ سر کھپائے۔
بیٹیاں تو یوں بھی مکمل طور پر ماؤں کے رنگ میں ہی ڈھل جاتی ہیں کہ زیادہ وقت ہی ان کے ساتھ گزرتا ہے۔ یہاں یہ بات یکسر بھلا دی جاتی ہے کہ بیٹیوں کی پرورش میں باپ کا کردار کس قدر اہم ہے۔ نہ صرف ایک شفیق باپ ان بچیوں کا بچپن سہل کرتا ہے بلکہ ان کی تمام زندگی پر گہری چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ ان بچیوں سے ان کے بچپن میں کیا گیا ”بے جا لاڈ“ انہیں مستقبل کی وہ مضبوط عورتیں بناتا ہے جو نہ صرف ہر مشکل کا مقابلہ پورے اعتماد سے کرتی ہیں بلکہ دنیا بدلنے پر بھی قادر ہوتی ہیں۔
یاد رکھئے، کسی بھی انقلاب کی داغ بیل گھر ہی رکھی نہ جائے گی۔ آج کی بیٹیاں ہی کل کی دنیا بدلیں گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والا کل روشن، شاداب، اور ہر قسم کے ظلم سے پاک ہو تو بیٹیوں سے بے جا لاڈ کرنے ہوں گے۔ ان کا اپنے باپوں کی محبت پر ایماں راسخ کرنا ہو گا۔
اب آپ کہیں گے کہ پہلی کہانی اپنے باپ کی کیوں رکھی۔ کالم کی ابتدا تو کارل مارکس سے ہونی چاہیے تھی۔ وہ کیا ہے کہ ہمارے لیے تو ہمارے والد ہی دنیا کے سب سے بڑے انسان ہیں۔ ہماری ہر کہانی ان ہی سے شروع ہو گی۔
اور دیکھئے ختم بھی ان ہی پر ہو گی۔
ایسٹ آر ویسٹ
مائی پاپا از دا بیسٹ


