اور میلہ کرسال بھی نہ بچ سکا
جب 1965 کی جنگ اپنے عروج پر تھی اور بھارتی طیارے پاکستانی سرزمین پر بم پھینک رہے تھے، چکوال کا تاریخی ثقافتی میلہ ”میلہ کرسال“ بلا روک ٹوک جاری رہا۔
ستمبر 1998 میں جماعت اسلامی کی نرسری سے اٹھی غازیانِ ملت کی تنظیم ”پاسبان“ کے مجاہدوں نے کرسال میلے پر یلغار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر رقص و موسیقی کی کوئی تقریب ہوئی تو پھر معاملات پاسبانیوں کے ہاتھ میں ہوں گے۔ کرسال میں غازیانِ ملت کے لشکر کے پڑاؤ کو دیکھتے ہوئے چکوال کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر رؤف خان اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سلیم اصغر (جن کے متعلق ایاز امیر نے 28 دسمبر کو ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم ”The messiah Chakwal chooses to ignore“ میں لکھا کہ زندگی میں انہوں نے ان دو افسران سے زیادہ نالائق افسر نہیں دیکھے ) نے کرسال میں پولیس کی بھاری نفری بھجوائی۔ میلہ روکنے کے لیے نہیں بلکہ میلے کے پر امن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے۔
بطور صحافی میں پہلی دفعہ کرسال میلے پر 2012 میں گیا۔ رات کو رقص کی محفل میں جب دائیں طرف نظر پڑی تو پتہ چلا کہ میں چکوال پولیس کے ایک حاضر سروس ڈی ایس پی اور ایک حاضر سروس ایس ایچ او کے پہلو میں بیٹھا ہوں جو سرور میں تھے جبکہ میری بائیں جانب لاہور سے آئی ہوئی وہ اپسرائیں تھیں جن کی زلفوں کی مہک آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
میلہ کرسال محض میلہ ہی نہیں بلکہ ایک صدی کا قصہ ہے جو اپنے دامن میں محبت، رواداری، برداشت اور امن کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔ ایک سو چار سال سے بغیر کسی تعطل کے منعقد ہونے والے اس میلے میں معروف گلوکاروں جن میں اختری بیگم ( جنہیں اختری بائی اور بیگم اختر بھی کہا جاتا ہے ) ، استاد فتح علی خان، استاد سلامت علی خان، استاد امانت علی خان، استاد نزاکت علی خان، مہدی حسن، ریشماں، نور جہاں، نصرت فتح علی خان، غلام علی خان، منصور ملنگی، حامد علی خان، شفقت علی خان اور کئی دوسرے گلوکار شامل ہیں نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنا ایک اعزاز سمجھا۔
چکوال کا یہ 104 سال سے بلا تعطل لگنے والا تاریخی میلہ اپنی تاریخ میں پہلی بار ریاستی جبر کا نشانہ بنا ہے۔ جو ظلمت کے بادشاہ ضیا الحق کے دور میں نہ ہوا وہ 2024 میں ہو گیا۔ کچھ لوگ مسلم لیگ نون کے ایم این اے سردار غلام عباس کی طرف انگلیاں اٹھا رہے ہیں لیکن ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کرسال میلے کو بند کروانے میں سردار غلام عباس کا کوئی کردار نہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ جتنی بھی سیاسی رقابت ہو سردار غلام عباس اس حد تک نہیں جا سکتے کہ وہ چکوالیوں کو ان کی ثقافت اور رہتل کا سواد لینے سے محروم کریں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت چکوال اور تلہ گنگ میں مسلم لیگ نون کے چھ کے چھ اراکینِ اسمبلی میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اپنے حلقے میں اپنی مرضی کا پٹواری لگوا سکے، میلہ کیا بند کروانا ہے انہوں نے۔
میلہ کرسال اس دفعہ سات اکتوبر سے گیارہ اکتوبر تک لگنا تھا۔ میلے کے پروگراموں میں کبڈی، نیزہ بازی، گھوڑا ڈانس، بیل کراہ، ڈالی اور حسبِ روایت رات کو رقص و موسیقی کی محفل سجنی تھی۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے گھڑ سوار، زائرین، فن کار اور اس میلے پر اپنی عارضی دکانیں سجا کر روزی کمانے والے ٹھیہ بان آ گئے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے تین اکتوبر کو ننکانہ کے رہائشی محمد ندیم کو سات سے گیارہ اکتوبر تک میلہ کرسال میں ساؤنڈ سسٹم، منی سرکس، بچوں کے جھولے وغیرہ لگانے کی اجازت بھی دے تھی۔
پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ وہ میلہ کرسال جس پر ننکانہ کے محمد ندیم کو تین اکتوبر کو ایک مراسلے کے ذریعے ساؤنڈ سسٹم، منی سرکس، بچوں کے جھولے وغیرہ لگانے کی اجازت دی گئی تھی چھ اکتوبر کو وہ اجازت نامہ اچانک یہ بہانہ لگا کر منسوخ کر دیا گیا کہ میلے کے منتظمین نے میلے کے انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت نہیں لی۔ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ بیل ذبح کرنے کی اجازت نہ ہو اور بیل کا گوشت اکٹھا کرنے کی اجازت دے دی جائے؟ اگر میلہ کرسال کے منتظمین نے میلے کے انعقاد کی اجازت نہیں لی تھی تو ننکانہ کے محمد ندیم کو اس میلے پر اپنی دکان سجانے کی اجازت کیوں دے دی گئی؟
ڈپٹی کمشنر قرۃ العین ملک اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر ریٹائرڈ کیپٹن واحد محمود کی نگرانی میں ہر دم ”بڑوں“ کا ہر حکم بجا لانے میں پہلے سے تیار بیٹھی چکوال انتظامیہ نے نہ صرف طاقت کے زور پر چکوال کا یہ تاریخی میلہ بند کروا دیا بلکہ 9 اکتوبر کو اہم منتظمین سمیت پچیس نامزد اور پانچ سو نامعلوم افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کروا دیا۔ تھانہ نیلہ میں ایف آئی آر کوتوالِ نیلہ غازی عبدالرحمٰن کی درخواست پر درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ انہیں 9 اکتوبر کو ایک مخبرِ خاص نے اطلاع دی کہ سید اسد نثار کاظمی، سید محسن نثار کاظمی، سید لطیف نثار کاظمی اور سید نثار قاسم پیشگی اجازت لیے بغیر ”کراہ“ منعقد کر رہے ہیں اور ساؤنڈ سسٹم کا بغیر اجازت استعمال کرتے ہوئے سڑک بلاک کر رکھی ہے۔ ایس ایچ او نے مزید دعویٰ کیا کہ کچھ منتظمین نے پولیس اہلکاروں کو ٹریکٹر تلے روندنے کی کوشش کی، ہجوم کو موجودہ حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے لیے اکسایا جب کہ ایک پولیس اہلکار کی موٹر سائیکل بھی چوری کر لی گئی۔
تاہم باخبر ذرائع کے مطابق میلہ کرسال کو صرف اس وجہ سے بند کیا گیا کہ اس کے منتظمِ اعلی پیر نثار قاسم عرف (جوجی شاہ) نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما ہیں بلکہ یہ چکوال میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی ریٹائرڈ جنرل فیض حمید اور ان کے بڑے بھائی نجف حمید کے ہراول دستے میں شمار ہوتے تھے۔ ضلعی انتظامیہ کو کسی مخبرِ خاص نے یہ تک بھی بتا دیا تھا کہ کرسال میلے میں ہونے والے کسی پروگرام کے مہمانِ خصوصی نجف حمید ہوں گے ۔ تاہم میں نے جب اس ضمن میں جوجی شاہ سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ نجف حمید کو میلہ کرسال میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ”اگرچہ یہ کارروائی اس بہانے کی گئی کہ منتظمین کو ضلعی انتظامیہ سے اجازت نہیں ملی تھی، لیکن اصل وجہ ان کی سیاسی وابستگی تھی“ ۔ تاہم پیر نثار قاسم نے کہا کہ 104 سالہ تاریخ میں کبھی بھی میلہ کرسال کے انعقاد کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینے کا سوال تک پیدا نہیں ہوا۔
چکوال شہر کے مغرب میں تقریباً 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں کرسال میں ولی اللہ حضرت سید ولایت شاہ کا مزار ہے جنہیں پیر سید عبدالطیف کاظمی کا ”واحد وارث“ تصور کیا جاتا ہے۔ پیر سید عبدالطیف جو اسلام آباد کی دھرتی پر پہلے ولی اللہ تھے اور ”بری امام“ کے نام سے مشہور ہوئے کرسال میں 1617 ء میں پیدا ہوئے تھے۔ بری امام آٹھ سال کے تھے جب ان کا خاندان کرسال سے ہجرت کر گیا جو باغ کلاں (موجودہ آبپارہ) میں مقیم ہوا۔ بری امام کے خاندان سے تعلق رکھنے والے کرسال کے حضرت سید ولایت شاہ نے کافی عرصہ لاہور میں گزارا جہاں ہیرا منڈی کی طوائفوں سمیت کئی دوسرے افراد آپ کے مرید بن گئے۔ 1920 میں اپنے مرشد کی وفات کے بعد سے پنجاب کے مختلف شہروں سے رقاصائیں کرسال میں ہر سال اپنے مرشد کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کرتی آئی ہیں۔ جب میلہ کرسال کے موقع پر یہ رقاصائیں کرسال آتی ہیں تو کرسال کے لوگ ان رقاصاؤں کی خاطر اپنے گھر خالی کر کے اپنے رشتہ داروں کے گھر منتقل ہو جاتے ہیں۔ 104 سال میں آج تک کسی شخص نے ان رقاصاؤں کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی یا غیر اخلاقی حرکت نہیں کی۔ اللہ بخشے پیر نثار اصغر صاحب کو کیا اعلیٰ انسان تھے اور کیا ہی شاندار ذوقِ موسیقی تھا۔ واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ 1988 میں میلہ کرسال پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصرت فتح علی خان نے جب گانا ختم کیا تو پیر نثار اصغر نے نشاندہی کی کہ انہوں نے کسی خاص راگ کو الاپتے ہوئے فلاں غلطی کی ہے جس پر نصرت فتح علی خان نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔
میلہ کرسال کو ملک کے بڑے ثقافتی تہواروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ صوفیا کے مزارات پر سالانہ میلوں کے دوران تاریخی طور پر رقص یا دھمال ایک لازمی حصہ رہا ہے۔ سیون شریف میں لعل شہباز قلندر، اسلام آباد میں بری امام، چوآ سیدن شاہ میں سخی سیدن شاہ شیرازی اور کرسال میں سید ولایت شاہ کے مزاروں پر رقص ایک اہم تقریب رہی ہے۔ بلھے شاہ نے کہا تھا کہ
کنجری بنڑیاں میری عزت نہ گھٹدی
مینوں نچ کے یار مناون دے
(کنجری بن کر میری عزت نہیں گھٹتی، مجھے ناچ کر یار منانے دے)
نور جہاں کے لافانی گیت کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے، ”بری بری امام بری/ میری کھوٹی قسمت کرو کھری“ ۔ جنرل ضیاء کے دور میں بری امام کے مزار پر رقص کی تقریب بند کر دی گئی تھی اور اسے چند سال بعد چوآ سیدن شاہ میں بھی روک دیا گیا تھا۔ تاہم سیہون شریف میں شہباز قلندر اور کرسال میں سید ولایت شاہ کے عرس پر ابھی تک رقص و دھمال کی محافل ہوتی آئی ہیں۔
لیکن وہ کرسال میلہ جو پینسٹھ کی جنگ کے دوران جاری رہا، جس کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس اپنی نگرانی میں منعقد کرواتی آئی ہے، ایک سو چار سال میں پہلی دفعہ چکوال کی ثقافت کے اس اہم اور تاریخی تہوار کا گلا فقط اس وجہ سے گھونٹ دیا گیا کہ اس کے منتظمین کا تعلق بدترین ریاستی جبر کا شکار ہوئی پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے اور ماضی قریب میں وہ لطیفالیوں کے گروپ کا حصہ رہے ہیں۔ بغضِ عمران و فیض میں مبتلا ریاستی مشینری کو یہ کون بتائے کہ آپ نے میلہ کرسال بند نہیں کیا بلکہ چکوال کی ثقافت کا گلا گھونٹا ہے۔ کراہ وہ ثقافتی کھیل ہے جو بڑوں کا عشق تو ہے ہی چکوال کے بچے بچے کی رگوں میں بھی سمایا ہوا ہے۔ عرس اور میلے کسی بھی معاشرے کو معاشرتی گھٹن سے نکالنے اور معاشرے میں امن، بھائی چارہ، رواداری اور برداشت کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
آج تک ملک میں ایسا نہیں ہوا کہ عام انتخابات کے بعد نئی آنے والی حکومت نے صوبائی اور ضلعی سطح پر پہلے سے تعینات افسران کو ہٹا کر اپنی مرضی کے افسران تعینات نہ کیے ہوں۔ لیکن آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات کو آج آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی افسر ادھر سے ادھر ہوا ہو۔ ہوں بھی کیوں کہ انہوں نے آٹھ فروری کی رات کو جو واردات ڈالی ہے اس کا صلہ ان کو یہی ملا ہے کہ ”انی پائی آؤ“ ۔ اس ڈھیل کی وجہ سے آج چکوال پر مسلط ان بابوؤں کو نہ چکوال کے وکلا کی پرواہ ہے اور نہ چکوال کے صحافیوں کی۔ نہ انہیں چکوالیوں کی ثقافت کی پرواہ ہے اور نہ چکوالیوں کی رہتل کی۔ صحافی قمر عباس کے چائے خانے کو محض اس لیے بند کر دیا گیا کہ اس کی وابستگی ایاز امیر کے ساتھ ہے۔ صرف چائے خانے کو بند نہیں کیا گیا بلکہ پرچہ بھی درج کر لیا گیا۔ ایڈووکیٹ زعفران زلفی کو ایاز امیر کے ساتھ وابستگی کی سزا دی گئی۔ طاقت کے نشے میں بدمست بونوں کو یہ کون بتائے کہ وقت کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے بڑی خامی ہی یہی ہوتی ہے کہ یہ گزر جاتا ہے۔ تازہ مثال اس ہستی کی ہی دیکھ لیں جس کے سر پر کورٹ مارشل کی تلوار لٹک رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے حالیہ کارنامے تاریخ کے اوراق میں امر ہو چکے ہیں۔ آج سے چوبیس سال قبل ایاز امیر نے لکھا تھا کہ انہوں نے رؤف خان اور سلیم اصغر جیسے نالائق افسران اپنی زندگی میں نہیں دیکھے۔ حضور ڈپٹی کمشنر قرۃ العین ملک اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر ریٹائرڈ کیپٹن واحد محمود کے متعلق کیا خیال ہے؟
گر آج اوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں


