کرونیکل ان ڈارک


میں نے مائکروسافٹ ورڈ میں کتابوں کی ایک فہرست تیار کی اور کنٹرول، پی دبا کر اس کا پرنٹ نکال لیا۔ اس روز میں نے دفتر سے جلدی رخصت لی اور ایک کولیگ کے ساتھ ایکسپو سینٹر میں کتابوں کی سالانہ نمائش دیکھنے پہنچ گیا۔ کتابوں کی لسٹ میرے ہاتھ میں تھی۔ ہال میں داخل ہوتے ہی میں نے کتابوں کی تلاش شروع کر دی۔

اتنا بڑا بک فیئر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہر طرف لوگوں کی چہل پہل تھی اور کتابوں کی ریل پیل۔ فضا علم و دانش کی روشنی سے منور تھی۔ میں مطلوبہ یا ان سے ملتی جلتی کتب کی تلاش میں ایک کے بعد دوسرے سٹال پر پہنچ رہا تھا۔ ریڈنگز سے مجھے ماریو ورگس یوسا کی ”دی وے ٹو پیراڈائز“ مل گئی۔ لبرٹی بکس سے حنیف قریشی کی ”دی ورڈ اینڈ دی بم“ اور میلان کنڈیرا کی ”Immortality“ مل گئیں۔ ایک پرانی کتابوں کے سٹال سے ایمری کرٹیس کی ”Liquidation“ مل گئی۔

ان دنوں میرے ذہن پر کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کا خبط سوار تھا۔ میں دفتر سے اپنے کمرے میں پہنچ کر کسی کتاب کا مطالعہ شروع کر دیتا۔ بعد میں اس کی ہائی لائٹس کا عکس لیپ ٹاپ پر مائکروسافٹ ون نوٹس میں اتار لیتا۔ کتاب کے ساتھ ساتھ میں نے ای بکس سے بھی استفادہ کیا۔ اور موبائل میں متعدد ریڈنگ ایپس انسٹال کر لیں۔

ایک شب مجھے خیال آیا کہ میرے پاس جون ایلیا کے نئے شائع شدہ شعری مجموعے نہیں تھے۔ تھوڑی سی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ اردو بازار میں علمی کتاب گھر پر دستیاب تھے۔ بس میں نے بائیک نکالی اور اردو بازار کا رخ کیا۔ میں منزل پر پہنچنے کے لئے اتنا بے تاب تھا کہ رستے میں میرے ساتھ کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں۔ میں نے علمی اور ادبی کتابوں کے اس بڑے شوروم میں جو بس بند ہوا چاہتا تھا سیلزمین کو کتابوں کے نام گوش گزار کیے۔

سیلزمین نے فوراً مطلوبہ کتابیں میرے سامنے لا کر رکھ دیں۔ جیسے اس نے وہ کتابیں میرے لیے پہلے سے تیار رکھی ہوئی تھیں اور اب وہ انہیں میرے سپرد کر کے شوروم بند کر کے اپنے گھر چلا جائے گا۔ میں کتابیں گھر لے آیا۔ میں نے جون ایلیا کے سارے شعری مجموعوں کو ان کی اشاعت کی ترتیب سے شیلف میں لگا دیا۔ ”شاید،“ ”یعنی،“ ”گمان،“ ”لیکن“ اور ”گویا۔“ اس کے بعد میں اپنے بستر پر آ کر لیٹ گیا۔ گویا اگر میں یہ کام نہ کرتا تو مجھے رات کو نیند نہ آتی۔

ایک روز مجھے دفتر کے پتے پر کتابوں کا ایک پارسل موصول ہوا۔ میں نے پوسٹ مین سے پیکٹ لیا اور ہاتھ میں تھامے اسے اپنی سیٹ پر لے آیا۔ مجھے اسے کھولنے کی جلدی تھی۔ اندر سے تین کتابیں برآمد ہوئیں۔ اسماعیل کاردار کے ناول ”دی فائل آن ایچ“ اور ”بروکن اپریل“ اور میلان کنڈیرا کے مضامین کی کتاب ”Encounter۔“ کتابوں کا پہلا لمس اور خوشبو اپنے آپ میں خوشی کی ایک علیحدہ قسم ہے۔

بک فیئر اور کتب فروشوں سے جو کمی رہ گئی وہ انٹرنیٹ نے پوری کر دی۔ بہت سی ایسی کتابیں جو ملک میں سرے سے ناپید تھیں وہ انٹرنیٹ کے افلاک سے نازل ہو گئیں۔ ادیبوں کی ایک کہکشاں تھی۔ جس میں ان کی کتابوں کے سراج جڑے ہوئے تھے۔ آپ کوئی بھی ستارہ توڑ سکتے تھے۔ کسی بھی رفعت کو چھو سکتے تھے۔ میں نے جن کتابوں سے استفادہ کیا ان میں سے کچھ کے نام یہ تھے۔ الفریڈو جیلینیک کی ”ونڈرفل، ونڈرفل ٹائمز،“ نٹ ہیمسن کی ”Pan“ اور ہرتا ملر کی ”دی پاسپورٹ۔“

انہی دنوں میں نے Goodreads کا بھی استعمال شروع کیا اور اس پر کتابوں کی درجہ بندی شروع کر دی۔ یوں اس سوشل ویب سائٹ پر میرے مطالعے کا کم از کم ایک دہائی کا ریکارڈ جمع ہو گیا۔ آج جب میں اس دور میں پڑھی گئی کتابوں کو دیکھتا ہوں تو اس وقت کے خد و خال مزید واضح ہو جاتے ہیں۔ گویا ان کتابوں کے صفحات میں اپنے متن کے ساتھ ساتھ میری زندگی کے کچھ واقعات بھی محفوظ ہو چکے ہوں۔

دفتر کے پاس واقع اس کمرے میں گزارے گئے کچھ لمحوں کی بازیافت آج مختلف کتابوں کی یاد سے ممکن ہے۔ جو بصورت دیگر باقی ماندہ وقت کی طرح یادداشت سے مکمل فراموش ہو سکتے تھے۔ مثلاً ایک دھندلی صبح میں نے بورخے کی نظموں کا مطالعہ کیا تھا جب مجھ سمیت سارا گھر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔ ایک روشن دوپہر میں نے الفریڈ ایڈلر کی ”مقصد زندگی“ پڑھی تھی۔ جب باہر لان سے دھوپ چھن چھن کے پردے سے اندر آ رہی تھی۔ ایک خاموش شام کو میں نے ہروکی موراکامی کی ”Norwegian Woods“ کا مطالعہ کیا تھا جب ایک ہوم میٹ نے باہر جا کر پیزا کھانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

اور وہ بے نور راتیں جو میں نے اسماعیل کاردار کی ”Chronicle in Stone“ پڑھنے میں گزاری تھیں۔ ہوا کچھ یوں کہ کچھ وجوہات کی بنا پر لیسکو نے ہمارا بجلی کا میٹر کاٹ دیا۔ دفتر کے کئی چکر، درخواستوں اور بھاری جرمانے کے بعد چند دنوں میں انہوں نے بجلی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یعنی ہم نے کچھ دن گھر میں مکمل تاریکی میں گزارنے تھے۔ سو دفتر سے آ کر میں اپنے بستر پر ریڈنگ ایپ میں نائٹ موڈ آن کر کے اس ناول کا مطالعہ شروع کر دیتا۔ جب سارا کمرہ سیاہی میں ڈوبا ہوتا تو موبائل کی سکرین پر الفاظ جگنوؤں کی طرح نمودار ہو رہے ہوتے۔

ناول کا مرکزی کردار ایک نو عمر لڑکا تھا۔ وہ ایک سخت کوش، روایت پرست اور تاریک ماحول میں پرورش پا رہا تھا۔ اس لڑکے کو کتابوں سے محبت تھی۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے میں اپنی تاریکی کو مکمل فراموش کر بیٹھا۔ ایسا لگا کہ میں ایک تاریکی سے دوسری تاریکی کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔ وہ کہانی مجھے اپنی ہی کہانی لگنے لگی۔ اس ناول سے کچھ اقتباسات کا ملاحظہ کیجیے۔

Winter night, city in fog, disoriented and terrified from the darkness. Read great big books all day long. Between two cardboard covers were noises, doors, howls, horses, people. All side by side, pressed tightly against one another. Decomposed into little black marks.

اب اس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ کچھ روز قبل میں نے اس کتاب کا دوبارہ مطالعہ کیا۔ ناول کے اختتام کے قریب میری نظر ان جملوں پر پڑی۔

A very long time later I came back to the grey immemorial city. You recognised me, you stones. Grandmother, Aunt all are gone. Their shadows are really there, caught in stone for all time.

ایک طویل عرصے بعد مجھے پھر ان سرمئی راتوں کا خیال آیا۔ اے ماضی کی تاریکی، تم نے مجھے پہچانا؟ میں اب اس گھر میں نہیں رہتا۔ وہ لوگ بھی اب میرے پاس نہیں۔ لیکن اس گھر کی یادیں سایوں کا روپ ڈھال کر حافظے کی بھول بھلیوں میں ہمیشہ کے لیے مقید ہو چکی ہیں۔

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid