لامارک کے ارتقائی نظریہ کے سماجی اثرات
جین بپٹسٹ لامارک ( 1744۔ 1829 ) ایک فرانسیسی فطرت پسند، معالج، ماہر حیاتیات، معلم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فوجی بھی تھا جس نے پروشیا کے خلاف سات سالہ جنگ میں حصہ لیا اور تمغہ جرات حاصل کیا۔ بحیثیت ایک فوجی کے مناکو میں تعیناتی کے دوران لامارک مشاہداتی سائنس کی طرف مائل ہوا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد لامارک نے اپنی توجہ کو علم نباتات پر مرکوز کیا اور 1778 تک تین جلدوں پر مشتمل تحقیقاتی مقالے شائع کیے۔ اس کے بعد لامارک کی پہچان بطور ماہر نباتات مصمم ہو گئی۔ 1793 ء میں پیرس میں سوربن یونیورسٹی اور فطری تاریخ کے قومی میوزیم کی بنیاد رکھی گئی تو لامارک کو اس میں علم حیوانات کا پروفیسر مقرر کر دیا گیا۔ 1801 ء میں غیر فقاریہ (ریڑھ کی ہڈی کے بغیر) جانوروں کی درجہ بندی پر لامارک کا شہرہ آفاق مقالہ شائع ہوا۔ غیر فقاریہ اور حیاتیات جیسی اصطلاحوں کو پہلی مرتبہ لامارک نے ہی دنیا کو متعارف کروایا۔
لامارک اگرچہ حیاتیاتی ارتقاء پر بات کرنے والا پہلا شخص نہیں تھا مگر اسے مربوط ارتقائی تھیوری یا نظریات کا حامل پہلا مفکر ضرور کہا جا سکتا ہے۔ 1800 میں لامارک نے اپنے ارتقائی نظریات لیکچرز کی صورت میں پیش کیے جنہیں بعد میں تفصیلات کے ساتھ 1802، 1809 اور 1822 میں مختلف اقساط میں بالترتیب شائع کیا گیا۔ لامارک نے اپنے مشاہدے اور عقیدے کی بنیاد پر کئی میکانزم دریافت یا اخذ کیے جو ارتقائی عمل میں محرک ثابت ہوتے ہیں۔ لامارک ارتقائی عمل میں کارفرما دو قوتوں کا ذکر بھی کرتا ہے جو جانوروں کو سادہ سے پیچیدہ شکلوں میں تبدیل اور انہیں مقامی ماحول میں مطابقت پیدا کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔
لامارک کا ارتقائی نظریہ عام طور پر چار یا پانچ نکات کے گرد ہی گھومتا ہے۔ عضویات کے استعمال یا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے انواع میں ہونے والی تبدیلیاں۔ اس کے مطابق انواع اپنے جس عضو کو زیادہ استعمال کرتی ہیں وہ زیادہ مضبوطی اختیار کر جاتا ہے مثال کے طور پر زرافے کی گردن آپسی لڑائی اور اونچے درختوں سے پتے کھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے اس لیے وہ مضبوط اور اونچی ہوتی جاتی ہے۔ سانپوں نے اپنی ٹانگوں یا پاؤں کا استعمال ترک کر دیا لہذٰا وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ٹانگیں جھڑ گئیں۔ انسان کی مبینہ ”دم“ کے متعلق بھی ایسی ہی توجیحات پیش کی جاتی ہیں۔
تبدیل شدہ ماحول سے موافقت پیدا کرنے کے لیے نوع یا انواع اپنے آپ کو جزوی طور پر تبدیل کر لیتی ہیں مثال کے طور پر مختلف علاقوں کی چڑیاں اپنے پروں، رنگوں اور چونچ میں تبدیلیاں پیدا کر لیتی ہیں۔ انواع میں پیدا شدہ یا حاصل شدہ تبدیلیاں اور خصوصیات ان انواع کی اگلی نسلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
(نظریہ ضرورت) ماحول یا جغرافیائی تبدیلیوں، نوع کی اندرونی شدید خواہشات کے پیش نظر نئی ضرورتیں جنم لیتی ہیں۔ یہ ضرورتیں بھی انواع میں تبدیلیوں کا موجب بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ بلی اپنے اندر اڑنے کی شدید خواہش پیدا کر لے تو دو یا اڑھائی ہزار سالوں کے بعد اڑنا شروع ہو جائے گی۔
ہمارے ذاتی اندازے یا مشاہدہ کے مطابق دنیا میں چارلس ڈارون کو عوامی اور فکری سطح پر شدید لعن طعن اور گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ حالانکہ بندروں والے معاملے پر لامارک اور ڈارون میں کوئی خاص اختلاف نہیں تھا۔ لامارک نے ایک اچھی، نیک نام اور باعزت زندگی گزاری۔ لعن طعن تو دور کی بات لامارک کے نظریات پر کوئی خاص تنقید بھی نہیں کی گئی۔
ڈارون اور اس کے پیش روؤں نے لامارک کے نظریات کو فکری سطح پر کلی طور پر نا صرف مسترد کر دیا بلکہ متبادل نظریات کو بھی پیش کیا۔ مگر دنیا اور خاص طور پر ترقی پسند دنیا بجائے کہ لامارک کے فرسودہ نظریات کو ترک کرنے کے وہ آج بھی لامارک کے نظریات کے گن گا رہی ہے۔ ہم نے کئی دفعہ نوٹ کیا کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے ترقی پسند دانشور تھیوری لامارک کی پیش کرتے ہیں اور گالیاں ڈارون کو نکالتے ہیں کہ ”اس کی تھیوری طاقتوروں کو مزید طاقت بخشتی ہے“ ۔
بقول منیر نیازی ”حقیقت اور تھی کچھ“ کے مصداق اگر لامارک کے دور کو دیکھا جائے تو نوآبادیاتی نظام کے ساتھ ساتھ طاقتور ہوتا ہوا سرمایہ دارانہ نظام اور احیائے علوم کی تحریکیں اپنے عروج پر تھیں۔ لامارک کے نظریات کا ہر لفظ طاقتوروں کے مٖفادات کا تحفظ کرتا نظر آتا ہے۔ اس لیے دنیا کے ”شرفاء“ نے لامارک کے نظریات کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔
لامارک اپنا فکری کام 1822 تک مکمل کر کے دنیا کے سامنے پیش کر چکا تھا۔ یہاں سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے طاقتوروں نے لامارک کے فکری کام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے کیسے استعمال کیا۔
لامارک کے مطابق جو نوع اپنے معروضی حالات سے موافقت پیدا نہیں کرتی نابود ہو جاتی ہے۔ ہندوستان میں سر سید احمد خان 1858 میں عوام کو سبق پڑھاتے ہیں کہ انگریزوں سے انگلش اور سائنس سیکھنی چاہیے اور انگریزی سرکار سے بنا کر رکھنی چاہیے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد یہی سبق کمال اتا ترک نے ترکی میں ذرا سختی سے دہرایا۔ نتیجتاً نوآبادیاتی نظام مزید مضبوط ہوا۔
Doctrine of Necessity یعنی نظریہ ضرورت 1892 میں امریکہ میں ایک امریکی مفکر نے پیش کیا۔ اس کی تفصیلات میں اگر جایا جائے تو اندر سے لامارک کی ریسرچ ہی برآمد ہوتی ہے۔ ضرورتوں کا تعین قدرت کرتی ہے اور یہی قانون ہے۔ وطن عزیز میں ہر سطح پر % 99.99 فیصلے اسی قانون کی رو سے ہوتے ہیں۔ نظریہ ضرورت نے ہمیشہ طاقتوروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔
لامارک کے مطابق اگر کوئی نوع اپنی زندگی میں کوئی خصوصیت حاصل کر لے تو یہ خصوصیت اس کی اگلی نسلوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اس تھیوری کی سماجی تشریح کچھ اس طرح سے کی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں جاگیردار، سرمایہ دار، بادشاہ بن جائے تو اس کا اثر اگلی نسلوں تک بھی منتقل ہو گا۔ دنیا کے طاقتور لوگ عام طور پر نسل پرست بھی ہوتے ہیں لہٰذا نسل پرستوں کو اور کیا چاہیے تھا۔ لامارک نے انہیں اپنی نسل پرستی کو مضبوط کرنے لیے ایک سائنسی بنیاد فراہم کر دی۔
Vital Internal Forces یعنی نوع کے اندر تبدیلی کی خواہش مند طاقتوں کے نظریہ کو پیش کر کے لامارک نے مذہبی پیشواؤں کو بھی خوش کر دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی ایک پیشوا نے لامارک کے خلاف نہ کوئی لفظ اور فتویٰ لکھا اور نہ ہی بولا۔ کم از کم راقم کے علم میں ایسی کوئی تحریر یا تقریر نہیں ہے۔ اگر ہمارے کسی دوست یا قاری کے علم میں اس طرح کا کوئی ثبوت ہو تو درستگی کے لیے راقم شکر گزار رہے گا۔ یاد رہے کہ ڈارون نے اس طرح کے تمام ارتقائی اصولوں کو سختی سے رد کر دیا تھا۔
ہم اپنے مضامین میں ہمیشہ ترقی پسندوں کو ہی مخاطب کرتے ہیں اور فکر کی درستگی کی تبلیغ کرتے ہیں۔ سرمایہ با اثر لوگوں کے اور طاقت ریاستی حلقوں کے عیوب کی پردہ پوشی کر لے گی مگر ترقی پسندوں کی اصل طاقت ان کی درست فکر یا علم میں ہے بصورت دیگر ان کے پلے کچھ نہیں بچے گا۔


