ہوائی جہاز کا سفر۔ افسانہ
بابا جی کے ہینڈ بیگ کو ائر ہوسٹس نے بابا جی کے سیٹ نمبر کے اوور ہیڈ کیبن میں رکھ دیا۔ بابا جی کے ساتھ ان کی بہو اور پانچ سالہ پوتی، سکیورٹی چیک اپ تک آئے تھے۔ اب بابا جی کو ہوائی جہاز میں بیٹھنے تک اکیلے ہی سارے مراحل طے کرنا تھے۔ ستر سالہ بابا جی، زندگی میں پہلی دفعہ ہوائی جہاز کا سفر کر رہے تھے۔ وہ، اپنے سعودیہ میں مستقل سکونت پذیر بیٹے کے پاس جا رہے تھے۔ ان کی گھبراہٹ عیاں تھی۔ ایک نوجوان ہم سفر نے، بابا جی کا پریشان چہرہ دیکھتے ہوئے، انہیں مدد کی پیشکش کی اور بابا جی سے ان کا ہینڈ بیگ لے لیا۔ وہ دونوں سکیورٹی لانچ کی قطاروں میں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈ کے مراحل بھی نوجوان کی مدد سے خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔ نوجوان اور بابا جی کی ہوائی جہاز میں، مختلف سیٹوں کے باعث نوجوان نے بابا جی کو ایک ائر ہوسٹس کی ذمے داری میں سونپ دیا۔ ائر ہوسٹس نے بابا جی کا ہینڈ بیگ اوور ہیڈ کیبن میں رکھنے کے بعد بابا جی کو ان کی سیٹ پر بٹھا کر ان کے گرد حفاظتی بیلٹ باندھ دی۔
سیٹ پر بیٹھتے ہی بابا جی کے ذہن میں، ان کی اپنی زندگی ایک فلم کی طرح چلنے لگی۔ ان کا بیٹا کافی سالوں سے سعودیہ میں جاب کر رہا تھا۔ سال میں ایک آدھ بار، اپنی تعطیلات پاکستان میں گزارنے کے لئے آ جاتا تھا۔ بابا جی نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بہت مشکلوں سے اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ چونکہ بابا جی خود ان پڑھ تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر اعلیٰ عہدے پر فائز ہو۔ بیٹا ایک ایجنٹ کے ذریعے سعودیہ پہنچ گیا۔ شروعات کی پریشانیوں اور تگ و دو کے بعد بالآخر اسے سعودیہ کے شاہی گھرانے کی ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی۔
بابا جی نے بڑے چاؤ کے ساتھ بیٹے کی شادی کی۔ اللہ تعالیٰ نے بابا جی کے بیٹے کو ایک چاند سی بیٹی عطا کی۔ بیٹا، سعودیہ میں، سالہا سال سے، اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے باوجود اپنی بیوی اور بچی کو سعودیہ بلا سکتا تھا اور نہ ہی ساتھ رکھ سکتا تھا۔ پاکستان میں ریٹائرمنٹ کے بعد بابا جی کا سارا وقت اپنی پوتی کے ساتھ گزرتا۔ بابا جی کی بہو، ملازم پیشہ خاتون ہونے کی وجہ سے پوتی کا زیادہ خیال نہیں رکھ پا رہی تھیں۔ پوتی کی عمر اب پانچ سال تھی۔ بابا جی، پوتی کی پیدائش سے اب تک، ایک لمحہ بھی اس سے جدا نہیں ہوئے تھے۔
بابا جی اپنی خیالاتی فلم میں اتنے مگن تھے کہ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد انہوں نے، ائر ہوسٹس کی، ہوائی جہاز کے ہر سفر سے پہلے، معمول کے مطابق، بتائی گئی حفاظتی تدابیر پر بھی کوئی دھیان نہیں دیا۔ بابا جی کی بائیں سیٹ خالی تھی جبکہ ان کے دائیں طرف کھڑکی والی سیٹ پر ایک پاکستانی خاتون براجمان تھیں۔
ہوائی جہاز، ٹیک آف کرنے کے بعد کروز اونچائی پر تھا لیکن بابا جی ابھی بھی پاکستان میں اپنی پوتی کے ساتھ خیالوں میں گم، کھیل رہے تھے۔ اچانک ائرہوسٹس نے بابا جی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے آہستہ سے بلایا تو بابا جی کے خیالات کا تسلسل ایسے ٹوٹا کہ انہوں نے ہڑبڑا کے ائر ہوسٹس کی طرف دیکھا۔ ائر ہوسٹس ان سے کھانے کے مینو کے متعلق استفسار کرنا چاہ رہی تھی کہ بابا جی اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور چلانا شروع کیا کہ وہ اپنی پوتی کے پاس گھر جانا چاہتے ہیں۔ وہ پوتی کا نام بار بار بلا رہے تھے۔ ”مجھے میری پوتی کے پاس جانا ہے“ ۔ باباجی کے دائیں جانب بیٹھی ہوئی خاتون سمیت سبھی مسافر بشمول ہوسٹس انہیں سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ کہ بابا جی اس وقت ہوائی جہاز میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہوائی جہاز فضائی بلندی پر ہے اور ان کا اس وقت ہوائی جہاز سے اترنا ناممکن ہے۔ یہ ہوائی جہاز سعودیہ پہنچ کر ہی زمین پر لینڈ کرے گا
لیکن بابا جی اپنی عمر رسیدگی کے باعث کسی کی کوئی بات بھی سننے کو تیار نہیں تھے اور پوتی کا نام لے کر واویلا مچا رہے تھے۔
سعودی ائرپورٹ پر بیٹے کو دیکھتے ہی بابا جی کی جان میں جان آئی اور انہوں نے بیٹے کو گلے لگایا اور جوش مسرت میں اپنی ضد اور چیخ و پکار کو بھول کر بیٹے کے ساتھ اس کے گھر پدھارے۔


