امن، رواداری، مزاحمت، سرزمینِ سندھ اور عاشقانِ دھرتی


جس طرح دنیا بھر میں انسانی ذات کو سنگین مسائل کا سامنا ہے ہر طرف آگے جانے کی دوڑ میں انسانیت پیچھے جا رہی ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دور انسانی حقوق کی پامالی کا دور ہے۔ دنیا کہ سارے مسائل اپنی جگہ لیکن ہم اُس دھرتی کی طرف جائیں گے جس کی تاریخ انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کی ضامن رہی ہے جب دنیا کے ممالک جنگی جارحیت کی لپیٹ میں تھے تب وادیِ سندھ میں پریم کی ندی بہتی تھی جس کا پانی دھرتی سے دلوں تک اپنی موجوں میں جھلملاتا تھا ابھی تک بھی اس روح میں شعور کی تازگی دھرتی کے رخسار چومتی آ رہی ہے۔ وہ اک لمبا سفر، ایک خطے کی جاندار تہذیب اور جگہ جگہ الفت کے رنگین ڈیرے کیا کمال کا سفر رہا ہے یہاں، اس مٹی کی یہ باتیں بہت لمبی ہیں، ہم ایسے قصے سرد راتوں میں جلتی لکڑیوں کہ سامنے چائے کہ کپ پر خوب سنتے اور سناتے ہیں۔

خیر ہم آتے ہیں ”سندھ رواداری مارچ“ پر۔ جیسے ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کا بغیر تفتیش ماورائے عدالت قتل کیا گیا نہ صرف قتل بلکہ اس کے جسد خاکی کہ ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا اس کہ لاش کو جلایا گیا یقیناً یہ عمل سندھ کی روادار تہذیب پر ایک یلغار تھا۔ انتہاپسند عناصر نے سندھ میں افراتفری کا ماحول پیدا کیا اور ہر کوئی ایک جھوٹے اسکرین شاٹ کے ہی نشانہ پر تھا۔ ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کا قتل سندھ کی ترقی پسند روادارانہ روح پر اک نہایت مشکل مرحلہ تھا کیونکہ ماورائے عدالت قتل وہ بھی گستاخانہ الزام کی بنیاد پر یہ سارا معاملہ انتہاپسندی کہ زمرے میں آ گیا دوسری طرف جنونیت کا طوفان جو کسی بھی صورت میں صبر اور انسانی اقدار کا نہیں سوچ رہا تھا ہر طرف خوف ہی خوف تھا۔ سندھ جو امن اور رواداری کی حَسین تر علامت رہا ہے جس میں ایک انسانیت سوز واقعے کا رونما ہونا اس اکیسویں صدی میں سندھ کی متوازن انسانی اقدار کے لیے بڑا امتحان تھا دنیا بھر کی نگاہیں سندھ پر تھیں۔ دھرتی ماں ہوتی ہے اور جب کوئی ایسے واقعات میں اس دھرتی کو نشانہ بناتا ہے تو اس ماں کے غیرت مند بیٹے اور بیٹیاں کھڑے ہو کر اپنی دھرتی کا تحفظ کرتی ہیں۔

چند دہائیوں سے ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور جنونیت میں کئی جانیں چلی گئیں یہ سلسلہ فطری نہیں ہے یہ اس دھرتی کی تاریخی روادارانہ اور پریمی ساخت کو توڑنے کی سازش ہے جس کو بآسانی اس ملک کے عوام پر لاگو کیا جا رہا ہے اور اس سازش کا دائرہ کم نہیں ہے یہ دن بہ دن ذہنوں کو پسماندہ کرنے کی دوڑ میں ہے لیکن سندھ کہ پاس علم اور ادب کا نہایت ہی خوبصورت تسلسل ہے جو اس انتہاپسندی اور جنونیت کی مزاحمت کرتا آ رہا ہے۔ جیسے یہ واقع رونما ہوا تو سندھ میں انتہاپسندی کی آگ بجھنے کہ بجائے بھڑکتی گئی اور اس کو بجھانا ضروری تھا نہیں تو وہ نسلیں برباد کر دیتی اس لیے سندھ کی حقیقی روح اور شعور نے ملائیت کی سازشوں کو بے نقاب کر کے امر کوٹ میں ہی نعرہ سندھ اور نعرہ امن لگایا۔ اور جس کو دیکھتے کچھ مذہبی جماعتوں نے بھی کانفرسیں کیں۔ مسئلہ تھا رواداری کا جس کہ ساخت کو پہنچی چوٹ پر مرہم لگانا تھا، لیکن لگائے کون؟ اور کیسے؟

اس انتہاپسند عناصر کو رد کرتے ہوئے سندھ کی ترقی پسند سوچ نے 13 اکتوبر کو سندھ کی دل کراچی میں سندھ رواداری مارچ کا اعلان کر دیا جس کو سندھو نواز اور کامریڈ عالیہ بخشل لیڈ کر رہی تھیں۔ ہوا یہ کہ اس سندھ رواداری مارچ کے اعلان کے کچھ ہی دن بعد تحریک لبیک پاکستان نے بھی اس ہی جگہ اس ہی وقت ریلی کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ہوا سر عام لیکن دراصل یہ تھا غائبانہ۔ سندھ کہ وزیر داخلہ نے کراچی ڈویژن میں دفعہ 144 لاگو کر دی۔ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ اس ہی تاریخ من پسند لوگ ریلیاں نکال رہے تھے اور ان پر دفعہ 144 کا اثر نہیں ہوا لیکن سندھ حکومت نے رواداری اور امن کو وطن کہ لیے انتہائی خطرناک پیش کر کے جگہ جگہ پولیس کی بڑی تعداد کھڑی کر دی۔ سسی ٹول پلازہ سے جامشورو ٹول پلازہ تک سارے راستے سکیورٹی کہ سخت انتظامات میں تھے، مارچ کی رات کتنے ہی کارکنان گرفتار کیے گئے۔

سندھ کی ایک انتہائی محبوب روایت یہ کہ سندھ کبھی پیچھے نہیں ہٹا اس نے تمام رکاوٹیں عبور کر کہ اپنے عزم کو چوما ہے۔ تاریخ کا یہ کتنا عجیب موڑ ہے کہ اب اس ریاست کو امن اور رواداری سے بھی خطرہ ہے۔ رواداری اور امن کا علم لے کر کوفہ مزاج پسماندہ اور فریبی سماج میں بندشوں کو لات مار کر سندھ کے دل کراچی میں اپنے ہدف کے لیے پہنچنے والے کوئی عام نہیں بلکہ عالمی شہرت یافتہ سندھ کہ مصنفین، ادیب، دانشور، گلوکار، شاعر، اساتذہ، پروفیسرز، انجینئر، ڈاکٹر، وکلاء اور ساتھ دیگر اہل علم قلم اور کتاب دوستاں تھے، اور یہاں المیہ یہ ہے کہ ریاست اس زرخیز فکر سے خوفزدہ تھی کہ یہ اہل علم کہیں کچھ غلط نہ کر دیں۔ رواداری اور امن کا پرچم اٹھائے یہ شعور کی شمع جس کا عزم اس پسماندہ اور انتہاپسند سماج کو امن، مساوات، عدم تشدد، رواداری اور پیار کی روشنی بخشنا تھا لیکن یہ فرسودہ سوسائٹی جو تاریکی کی زد میں ایسی پھنسی ہوئی ہے کہ جس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں مل رہا اس لیے ان پُرامن اہل فکر و علم ساتھیوں پر تشدد کیا گیا، سندھ کے باشعور ذہنوں کا جو پرتشدد عکس پیش کیا گیا اس کو تاریخ کبھی نہیں بھول پائے گی۔ کس سے خطرہ ہے آپ کو؟ رواداری اور امن سے؟ آپ نے جو کیا اس کو دنیا نے دیکھا کسی بھی تحریک میں رکاوٹیں اس کے عزم کی کامیابی کی نشانی ہیں۔ عشقِ دھرتی میں زخم، پیار کی پہلی مسکراہٹ جیسے ہوتے ہیں آپ سمجھتے ہو کہ تمہاری جارحیت اس مزاحمت کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گی؟

اس امن مارچ میں آپ کہ ہی قانون نے کس طرح بدامنی اور پرتشدد واقعات کا مظاہرہ کیا سندھ کہ محقق، دانشور اور مصنف جامی چانڈیو کو تشدد کا نشانہ بنایا اس کی بیٹی روماسا جو لندن سے قانون پڑھ کر آئی ہے اور آپ کا قانون اس کو بیچ سڑک گھسیٹ رہا ہے، تاریخ سندھ کے تن پر اس درد پر ضرور چیخ اٹھے گی۔ سیف سمیجو کی آواز جس پر موسیقی رقص کرتی ہے، اس صوفی مزاج بندے نے تو دنیا میں دلوں کو لبھانے کا ہی عہد کر رکھا ہے، یارو! اس کا ہتھیار تو گٹار ہے جو سر کا ساگر ہے، اس کی آواز کے سمندر سے دوڑتے ہوئے ساز کی لہروں سے تمہارے دل کا ساحل اسے کبھی بھی چوم سکتا ہے اور آپ کی نگاہ میں موسیقار بھی دہشتگرد ہے۔ اک ڈاکٹر سورٹھ سندھو جو طبیب ہے ساتھ وہ شعوری تحریکوں میں بھی سب سے آگے ہیں۔ کامریڈ بخشل سے لے کر عالیہ، مرک منان، سندھو نواز، فوزیہ سینگار، وقار ملاح اور میران ساتھ دیگر تمام اہل علم و ادب دوست جن پر تشدد کر کے ان پر تنقیدوں کا طوفان اٹھایا گیا لیکن اے دنیا والو! ان سبھی کا جرم یہ تھا کہ یہ 13 اکتوبر 2024 کو سندھ کی دل کراچی میں صرف ”امن اور رواداری“ کے لیے اکٹھے ہوئے تھے انسانی حقوق کے لیے کوشاں یہ امر انسان دھرتی کے عاشق ہیں اور عشق میں وہ ہر زخم کو چوم کر آگے بڑھتے ہیں وہ ابھی تک بھی اپنے مقصد کہ ساتھ سچے ہیں، ان تمام عاشقانِ دھرتی کو سرخ سلام۔ عشق میں امتحانات تو ہیں جیسے حبیب جالب نے کہا:

اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں، یہی بات بڑی بات ہے پیارے

شیخ ایاز جو سندھ کہ خوبصورت شاعر ہیں وہ ان عاشقان کو ہمت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

میرے دیدہ ورو!
میرے دانشورو!
پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو
راہ میں سنگ و آہن کے ٹکراؤ سے
اپنی زنجیر کو جگمگاتے چلو

Facebook Comments HS