ٹماٹر سبزی ہے یا پھل


آہا! ٹماٹر بڑے مزیدار
واہ! ٹماٹر بڑے مزیدار

ٹماٹروں کے بارے میں یہ نظم تو سبھی نے پڑھ یا سن رکھی ہو گی جس میں دلچسپ انداز میں بچوں کو ٹماٹر کھانے کے فائدے بتائے گئے ہیں۔ آج ٹماٹر ہمارے کھانوں کا اہم جزو ہے اور تقریباً ہر ترکاری یا سالن میں لازمی ڈالا جاتا ہے۔ اسے مختلف اقسام کی سلاد، سینڈوچ، پیزا، پاستا میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور کیچپ کے طور پہ تو اس کا استعمال دنیا بھر میں مقبول ہے۔ لیکن ٹماٹر کو کھانوں میں یہ اہمیت ہمیشہ سے حاصل نہیں تھی۔ ابتدا میں ٹماٹر کو رد کر دیا گیا تھا۔

ٹماٹر کی ابتدا جنوبی امریکا میں سترہویں صدی سے ہوئی جہاں سے ہسپانویوں نے اسے مغربی ممالک میں متعارف کروایا۔ امریکا میں اپنی نو آبادیاتی اجارہ داری کے بعد ہسپانویوں نے ٹماٹر کو کیریبین میں اپنی دیگر کالونیوں میں پھیلایا۔ پھر وہ اسے فلپائن لے آئے، جہاں سے یہ جنوب مشرقی ایشیا اور پھر پورے ایشیا میں پھیل گیا۔ یورپ میں بھی ٹماٹر کو ہسپانوی لے کے آئے، جہاں یہ بحیرہ روم کی آب و ہوا میں آسانی سے اگتا تھا۔

ٹماٹر کو سلاد میں کھانے اور سینڈوچ پر کاٹ کر کھانے سے بہت پہلے، اسے دوا کے طور پر مشتہر کیا گیا تھا۔ 1800 کی دہائی کے اوائل میں، بہت سے امریکیوں نے ٹماٹر کو ناپسندیدہ اور زہریلا بھی قرار دے دیا تھا۔ تاہم یہ خیال 1834 میں تبدیل ہونا شروع ہوا، جب اوہائیو کے ایک معالج جان کک بینیٹ نے ٹماٹروں کو طبی علاج کے طور پر مشتہر کیا۔ بینیٹ نے اس خیال کا پرچار کیا کہ ٹماٹر بدہضمی، یرقان اور دیگر بیماریوں کا علاج کر سکتے ہیں، گو کہ اس کے یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔ تاہم اس نے ٹماٹروں کو دوا کے طور پر گولی کی شکل میں بھی روشناس کروایا، جس سے پھل کی مشکوک ساکھ کو دواؤں کے ٹانک کے طور پر مستحکم ہونے میں مدد ملی۔ ٹماٹر کے بارے میں دوا کا یہ رجحان 1850 کی دہائی تک ختم ہو گیا تھا، لیکن جلد ہی ٹماٹر کو کیچپ کی صورت میں ایک بھرپور آغاز ملا۔

گو کیچپ بنانے کی اولین ترکیب فلاڈیلفیا کے سائنسدان جیمز میس نے 1812 میں شائع کی تھی، لیکن اسے اصل پذیرائی تب ملی جب ایف اینڈ جے ہینز کمپنی نے 1876 میں اپنا کیچپ بنایا اور کمرشل پیمانے پہ اسے مارکیٹ میں جاری کیا۔ اس سے پہلے کیچپ بہت جلدی خراب ہو جاتے تھے ہینز نے تیاری کے عمل میں تحفظ کے لیے سرکہ کا استعمال کیا، جس نے کیچپ کو مزید شیلف لائف دی۔ ہینز کی کیچپ کو اب مشہور صاف شیشے کی بوتلوں میں فروخت کیا گیا، جس سے پروڈکٹ کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیاری کو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔ 1896 میں، ہینز نے اس وقت ایچ جے ہینز کمپنی کے نام سے دوبارہ برانڈ کیا اور اپنی پیکیجنگ پر نمبر ”57“ کو نمایاں کرنا شروع کیا، حالانکہ اس کا فروخت ہونے والی اقسام کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن کمپنی کے بانی ہنری جان ہینز نے برانڈنگ کے لیے ”57“ کا انتخاب کیا کیونکہ یہ اس کے خوش قسمت نمبر پانچ اور اس کی اہلیہ کے پسندیدہ نمبر سات کا جوڑ تھا۔

نباتاتی لحاظ سے، ٹماٹر کو پھل کے طور پر شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ ان میں بیج ہوتے ہیں اور یہ پھولدار پودے سے اگتے ہیں۔ لیکن قانونی طور پر، امریکی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے سے اس حوالے سے ایک مختلف نظیر قائم کی۔ ہوا یوں کہ 1883 کے امریکی ٹیرف ایکٹ کے مطابق درآمدی سبزیوں پر ٹیکس لاگو کیا گیا، جبکہ درآمد شدہ پھل ٹیکس سے مبرا تھے۔ اس قانون کو 1893 میں درج ایک مقدمے نکس بمقابلہ ہیڈن میں چیلنج کیا گیا، جس میں نکس فیملی نے (جو نیویارک شہر میں مختلف پھل اور سبزیوں کے بیوپاری تھے ) نے نیو یارک کی بندرگاہ پر ٹیکس جمع کرنے والے ایڈورڈ ہیڈن پر مقدمہ دائر کیا۔ نکس نے دعویٰ کیا کہ ان پر ٹماٹر کے پھلوں پر غیر منصفانہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے، اور عدالت سے درخواست کی کہ ان سے ٹماٹر کی درآمد پر وصول کی گئی فیس واپس کی جائے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے متفقہ 9۔ 0 ووٹ سے ٹماٹر کو سبزی قرار دیتے ہوئے، ہیڈن کا ساتھ دیا، اور یہ فیصلہ دیا کہ ٹیرف ایکٹ کو ٹماٹر تک بڑھایا جاتا ہے۔

اب ٹماٹر چاہے سبزی ہو یا آپ اسے پھل سمجھ کر کھائیں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج ٹماٹر ہماری روزانہ خوراک کا ایک اہم جزو ہے اور کسی نہ کسی شکل میں ہم اسے تقریباً روزانہ کھاتے ہیں۔

Facebook Comments HS