برکس سے اب برکس پلس


”برکس“ دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی معیشتوں اور دنیا کا ایک چوتھائی جی ڈی پی رکھنے والے ممالک کا بلاک ہے۔ برکس کی اصطلاح 2001 میں ماہر اقتصادیات جم اونیل نے اپنی رپورٹ بلڈنگ بیٹر گلوبل اکنامک برکس میں استعمال کی تھی۔ اونیل نے پیش گوئی کی تھی کہ تیزی سے ترقی کرنے والے برکس ممالک 2050 تک اجتماعی طور پر عالمی معیشت پر غلبہ حاصل کریں گے۔ اس وقت برکس میں شامل ممالک میں روس، بھارت اور چین دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل ہیں۔ جب کہ نئے شامل ہونے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔

سولہواں برکس سربراہ اجلاس 22 سے 24 اکتوبر 2024 تک روس کے شہر کاذان میں ہو رہا ہے۔ اس سال کی سربراہ کانفرنس خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ مصر، ایران، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ایتھوپیا کے شامل ہونے کے بعد پہلا اجلاس ہے۔ سمٹ کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، علاقائی استحکام اور عالمی کثیر قطبیت کو فروغ دینا ہے۔ توسیع شدہ رکنیت کے ساتھ، برکس اب عالمی جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی اور کرہ ارض کی آبادی کا 45 فیصد ہے۔

پہلا برکس وزارتی اجلاس 20 ستمبر 2006 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا تھا۔ روس، برازیل اور چین کے وزرائے خارجہ اور بھارتی وزیر دفاع نے اجلاس میں شرکت کی تھی اور کثیر الجہتی تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ 16 جون 2009 ء کو روس میں پہلا برک سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد برکس رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں برکس کے اہداف کا تعین کیا گیا اور عالمی مالیاتی اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کے طریقوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔ جنوبی افریقہ نے 24 دسمبر 2010 ء کو چین کی دعوت کے بعد باضابطہ طور پر اس ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کی۔

نیو ڈویلپمنٹ بینک (این ڈی بی) 15 جولائی 2014 کو برازیل کے شہر فورٹالیزا میں منعقدہ برکس سربراہ اجلاس کے دوران قائم کیا گیا تھا تاکہ برکس ممالک اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقیاتی منصوبوں کے لئے وسائل کو متحرک کیا جا سکے۔ کثیر الجہتی ترقیاتی بینک نے 21 جولائی 2015 کو کام شروع کیا۔ ستمبر 2021 میں بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، یوراگوئے اور مصر نے این ڈی بی میں شمولیت اختیار کی۔ جنوبی افریقہ نے 2018 میں مزید توسیع کی تجویز پیش کی تھی اور اس پر بات چیت 2022 میں شروع ہوئی تھی اور گزشتہ برس جنوبی افریقہ میں ہونے والے اجلاس میں اس تجویز پر عمل در آمد ہوا

یہ برکس ممالک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت، ان کی زیادہ آبادی اور وافر قدرتی وسائل ہیں جو بین الاقوامی منظر نامے پر ان کے اثر و رسوخ کی بنیاد قائم کرتے ہیں۔ برازیل جنوبی نصف کرہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ روس وسائل کا ایک بہت بڑا ملک ہے۔ بھارت زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور دنیا کی ترقی کا انجن ہے۔

اپنے قیام کے بعد سے، برکس ممالک عالمی سطح پر اپنے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اہمیت کے باعث ایک مثبت اور مستحکم تعمیری قوت بن چکے ہیں۔ برکس میکانزم ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کی بڑی تعداد سے مضبوط تعلق قائم کیے ہوئے ہے۔ نیو ڈویلپمنٹ بینک نے اپنی پہلی توسیع حاصل کی ہے جو مستقبل میں مزید ترقی پذیر ممالک کی ترقی کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا اور عالمی مالیاتی نظام میں اپنی آواز اور اثر و رسوخ بھی بڑھائے گا۔

ایک نئی قسم کے تعاون کے میکانزم کی حیثیت سے، برکس ایک اہم قوت بن گیا ہے جو جنوب۔ جنوب تعاون کی قیادت کر رہا ہے اور عالمی حکمرانی کو فروغ دے رہا ہے۔ سیاسی لحاظ سے، برکس ممالک ایک دوسرے کے اقتدار اعلیٰ، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا احترام کرتے ہیں اور طاقت کی سیاست، سرد جنگ کی سوچ اور گروہی تصادم کی مخالفت کرتے ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے، 2022 میں عالمی بینک میں پانچ برکس ممالک کی ووٹنگ کی طاقت 14.06 فیصد ہو گئی ہے، اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں کل حصہ 14.15 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور مشترکہ فوائد پر عمل کرتے ہوئے، برکس ممالک نے کثیر الجہتی کا تحفظ کرنے اور عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ آواز بلند کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بین الاقوامی میڈیا کا ماننا ہے کہ برکس ممالک مغربی تسلط والے بین الاقوامی نظام سے باہر سوچنے کا ایک نیا طریقہ اور اہم روشن خیالی فراہم کر نے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS