بچو! الوداع
میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ لفظ ”الوداع“ تعلق ٹوٹ جانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یا ایسے تعلق کے معنوں میں جس کی تاثیر تو ہوتی ہے مگر تصویر موجود نہیں ہوا کرتی۔ میرے لیے یہ ایسے معمے کی بات تھی جسے میں کبھی حل نہ کر پایا۔ ادب کا طالب علم ہونے کے ناتے، مجھ پر لازم تھا کہ اس سوال کو حل کرنے کی جستجو کرتا مگر کوئی ایسا طریقہ میسر نہ آیا کہ جس کے تحت اس مخمصے کو دور کیا جاتا۔ یہ میرے لیے حیرت کی بات ہے کہ آج میں اس سوال کے جواب تک تو پہنچ چکا ہوں مگر حتمی نتائج اخذ کرنے سے ہنوز قاصر ہوں۔
واقعہ یہ ہے کہ جیسے ہی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے میری ڈگری مکمل ہوئی، میں ایک نجی ادارے میں بطور اردو استاد فرائض سر انجام دینے لگا۔ پہلا دن تھا، کلاس میں داخل ہوا۔ میرے اور طالب علموں کے درمیان یوں مکالمہ ہوا:
میں : میرا نام علی حسن اویس ہے، آپ کو اردو پڑھانے کی کوشش کروں گا۔ بتائیے کہ آپ لوگوں نے نصاب کہاں تک پڑھ رکھا ہے۔
ایک طالب علم: سر! ہم نصاب مکمل کر چکے ہیں، آپ کو پڑھانے کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔
میں : بہت خوب! یعنی میری مشکل آسان ہوئی۔ مجھے بتائیے کہ شاعری اور نثر میں کیا فرق ہے؟
طالب علم خاموش رہے۔ آخر ایک بیٹے نے جواب دیا کہ شاعری شاعر لکھتا ہے اور نثر مصنف۔
المختصر، بطور استاد یہ میرے سفر کی شروعات تھی۔ اس ادارے میں، میں نے دو مہینے اور انیس دن بچوں کو پڑھانے کی کوشش کی۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ بچوں کو نصاب کے ساتھ ساتھ دیگر کتب پڑھنے کی طرف بھی راغب کیا جائے۔ یہاں بھی یہی معاملہ رہا۔ بچوں سے امراؤ جان ادا اور سدھارتھ جیسے ناول پڑھائے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، پیش اور ایکسپریس، آنندی، کتبہ، دائرہ اور لاجونتی جیسے افسانے پڑھنے پر آمادہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر کلاس کے آخر میں ایک آدھ ایسا شعر سنانے کی کوشش کرتا جو ان کی طبیعت کو شاداب کرنے کا سبب بن سکے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے نصاب کیسا پڑھایا یا کوئی اچھی بات بتانے میں کہاں تک کامیاب رہا مگر اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بچوں کو نصابی تعلیم اور علم کے درمیان فرق سمجھانے میں ضرور کامیاب رہا۔
اپنے تعلیمی معاملات کی وجہ سے مجھے ادارے اور بچوں کو الوداع کہنا پڑا۔ آخری کلاس کا کیا منظر تھا چلیے آپ کو دکھاتا ہوں۔
جمعرات، 17 اکتوبر 2024 کو 6 بجے شام، گیارہویں جماعت کو اردو پڑھانے پہنچا۔ مختصر گفتگو کے بعد تمام طلباء و طالبات نے مجھ سے اپنی اپنی ڈائری پر چند جملے لکھنے کو کہا۔ میں ان باتوں کا قائل نہیں ہوں، اور سمجھتا ہوں کہ بہترین طالب علم وہی ہوتا ہے جو رسمی طریقوں سے ماوراء رہے۔ اس کے باوجود میں نے ہر طالب علم کی ڈائری پر، اس کی شخصیت کے مطابق ایک آدھ جملہ لکھ کر ان سے اجازت چاہی۔ کلاس ختم ہونے سے پہلے تمام طلباء و طالبات نے مجھے پلے کارڈز دیے جن پر میرے لیے دعائیں اور مشورے موجود تھے۔ ایک شرارتی طالب علم نے لکھا تھا کہ ”سر آپ یونیورسٹی میں کہیں اور توجہ دینے کے بجائے، پڑھائی پر توجہ دیجیے گا۔“ جبکہ ایک طالب علم جسے ہمیشہ میں آخری بینچ پر بیٹھنے کی وجہ سے جھڑکا کرتا تھا نے لکھا کہ ”سر! ہر backbencher نالائق نہیں ہوتا۔“ ایک بیٹی نے لکھا ہوا تھا کہ: ”آپ کی وجہ سے مجھے اردو پڑھنے میں دلچسپی ہوئی اور سلیبس سے ہٹ کر بھی مطالعہ کرنے کا شوق ہوا۔“
ساڑھے چھ بجے میں بارہویں جماعت میں پہنچا۔ وہی منظر رہا جس کا ذکر گیارہویں جماعت کے تناظر میں بھی کیا جا چکا۔ یہاں بھی سب بچوں نے اپنی ڈائریوں پر چند جملے لکھوائے اور پلے کارڈز دیے۔
ایک بیٹی نے پلے کارڈ پر لکھا کہ ”آپ جس طرح، مجھ سے اقبال پان والے کے شعر سن کر بھی برا نہیں مانتے تھے بلکہ اچھے شعراء کو پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے، ہمیشہ یاد رہے گا۔“ ایک بیٹی نے پلے کارڈ پر یوں لکھا کہ: ”سر آپ سے ایک درخواست ہے کہ آپ GCU سے اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہاں اردو پڑھانا شروع کر دیں۔ ان شاءاللہ میں GCU ضرور آؤں گی اور تب آپ سے ہی اردو پڑھنا چاہوں گی۔“
جب یہاں سے الوادع کا وقت آیا تو میرے لیے حیرانی کا معاملہ تھا کہ اکثر بچوں کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے۔ میں نے شعر سناتے ہوئے اجازت چاہی کہ:
چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک
لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے
میری آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے اور بچے بھی اشکبار۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آنسو تعلق کے ٹوٹ جانے کو بیان کر رہے تھے یا ایسے تعلق کو منظر پر لا رہے تھے جو کبھی ختم نہ ہونے پائے گا۔
نوٹ: اقبال پان والے کے شعر سے مراد علامہ محمد اقبال سے منسوب وہ اشعار ہیں جو فیس بک پر اکثر گردش کرتے رہتے ہیں۔





