نجات


میاں بیوی اکیلے رہ گئے تھے بیٹا امریکہ میں سیٹ ہو گیا اور ڈالر بھیج کر بے فکر ہوجاتا۔ بیوی کو بڑھاپے اور جوڑوں کے درد نے کہیں آنے جانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا، دوائیں کھاتی پر کچھ اثر نا ہوتا۔ اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک عورت بشیراں رکھی ہوئی تھی جو صبح سویرے آتی اور رات آٹھ بجے جاتی۔ گھر کے سارے کاموں کے علاوہ اس کی دیکھ بھال بھی کرتی۔

شوہر خاصا صحت مند تھا ہر وقت ٹی وی اور موبائل میں گھسا رہتا، بیوی کی فکر تو تھی لیکن اس کی لمبی بیماری سے تنگ آ چکا تھا، اس کی وجہ سے وہ کہیں آ جا نہیں سکتا تھا۔

اس سردی میں تو جوڑوں کے درد نے نڈھال کر دیا تھا، بشیراں نے اسے ایک سفوف لا کر دیا کہ بیگم صاب جی ایک چٹکی پھانک کر پانی پی لو تو شفا ہوگی اور سوتے وقت ایک گلاس دودھ ضرور لینا، لیکن چٹکی سے زیادہ مت لینا خطرناک ہے۔ ایک چٹکی سے خاصہ افاقہ ہوا۔

آج بھی اس کا شوہر دوست سے فون پر لمبی بات کر رہا تھا اور پارٹی میں نا آنے کا عذر اپنی بیوی کی بیماری کو بتا رہا تھا۔ اچھا ایسا ہو سکتا ہے، کیا کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا، بس یار میں تمھارے پاس آتا ہوں، نسخہ لینے یہ جملہ آہستہ سے کہا۔

رات میں اس کے شوہر نے دودھ کا گلاس لاکر سائیڈ ٹیبل پر رکھا تو وہ اپنے شوہر کو غور سے دیکھنے لگی۔ ماسی جلدی چلی گئی میں نے سوچا دوا کا ناغہ نا ہو جائے، ٹھیک ہے سونے لگوں گی تو پی لوں گی۔ شوہر کے جاتے ہی وہ سفوف کی شیشی پوری منہ میں انڈیل کر دو گھونٹ پانی پی کر، آرام سے سو گئی۔

صبح سویرے شوہر نے بیوی کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو اس کا سرد وجود زندگی سے نجات پا چکا تھا لیکن سائیڈ ٹیبل پر دودھ کا گلاس جوں کا توں دھرا تھا سفوف کی خالی شیشی پاس ہی گری ہوئی تھی، شوہر بھاری دل کے ساتھ زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔

Facebook Comments HS