جنریشنل ٹراما، کبھی میں کبھی تم
مصطفی اور شرجینہ اس کے دو مرکزی کردار ہیں۔ مصطفی شرجینہ کے ساتھ خوش ہے زندگی ہنسی خوشی چل رہی ہے۔ لیکن اچانک سے نازک موڑ آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ شرجینہ اور مصطفی صاحبِ اولاد ہونے والے ہیں۔ لیجیے صاحب پروگرام تو وڑ گیا نا۔
بہت سے لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ دونوں کردار بہت ہی مختلف خاندانوں سے آئے ہیں۔ جہاں شرجینہ کو بیٹی ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کا پیار ہمیشہ وافر ملا وہاں مصطفی کو گھر میں اچھے سالن کی طرح پیار بھی دوائی کی طرح ملا۔ حسبِ ضرورت اور بصورتِ مجبوری۔ بچپن سے دھتکار سہنے والا بچہ وقت کے ساتھ بڑا تو ہو جاتا ہے لیکن بچپن کے یہ ٹراما/ زخم مندمل نہیں ہو پاتے۔
حالیہ امیر لڑکے کے عشق میں پاگل غریب لڑکی اور غریب لڑکے کے پیچھے خوار امیر لڑکی جیسے شاہکاروں کے بیچ "کبھی میں کبھی تم” ایک اچھوتا اضافہ ہے کیونکہ یہ بات کر رہا ہے جنریشنل ٹراما کے موضوع پہ۔ کیا ایسے ذہنی مسائل کے شکار لوگوں کو اپنی اس ذہنی حالت سے نکلنا چاہیے تھراپی یا علاج کے ذریعے یا جلدی سے فیملی شروع کر دینی چاہیے کیونکہ جی اللہ کی مرضی۔ سانوں تے پتہ ہی نہیں لگیا۔ دن اوپر ہوں گے نے۔
یہ کہانی ماں بہت عظیم ہوتی ہے۔ ماں باپ کی سختی مستقبل سنوار دیتی ہے جیسی مِتھ بھی توڑتی چلی جا رہی ہے۔ مصطفی کی ماں نے دونوں بیٹوں کا تقابل کر کر کے نا صرف دونوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بو دیے ہیں بلکہ اس کے دونوں بچے اس کی تربیت کا بدنما آئینہ بن چکے ہیں۔ ایک بیٹا خود غرضی کی اس انتہا پہ ہے کہ باپ کا گھر چپکے سے بکوا کر انہیں دھکے کھانے پہ مجبور کر دیتا ہے۔ بلکہ کوئی تعلق محبت اور ایمان داری سے چلانے میں ناکام ہے۔ بیوی سے پیسے کی خاطر شادی کرنے کے بعد بے وفائیوں اور مالی بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔
دوسرا بیٹا رشتوں میں محبت پہ یقین ہی نہیں رکھتا۔ مجبوراً شادی تو کر چکا ہے لیکن بیوی کو سمجھنے میں ناکام ہے کیونکہ محبت صرف تب ملے گی جب پیسہ ہو گا۔ اس سبق پہ ایمان رکھتا ہے کیونکہ ماں نے بچپن سے اچھا سالن اور محبت صرف اس بیٹے کو دی ہے جو پڑھتا تھا۔ جس سے گھر کے حالات بدلنے کی امید تھی۔ جو کما کر لاسکتا تھا۔ یہ اور بات کہ کمانا تو کیا تھا الٹا چوریاں کرتے کرتے باپ کا گھر ہی ہڑپ گیا ہے۔ بے لوث محبت اس نے کسی رشتے میں زندگی کے تیس سال دیکھی ہی نہیں تو کیسے یقین کرے۔
ایسی صورت حال میں جب اولاد کا علم ہوتا ہے تو اس کے پاس کوئی جذبہ ہی نہیں ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ کسی رشتے کو کیسے بنانا اور نبھانا ہے۔ ہر مشکل سے وہ بھاگ جانے کو ترجیح دیتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے گھر میں یہی سیکھا کہ ماں کے ہر وقت کے بھاشن سے جان چھڑانے کا یہی طریقہ ہے کہ راہِ فرار اختیار کر لو۔ چاہے وہ شادی ہو یا کام میں ملنے والا دھوکہ اس کے پاس حل صرف چیخنا چلانا اور بھاگ جانا ہے۔
شرجینہ یہ سب سمجھنے میں ناکام ہے کیونکہ وہ ماں باپ اور بہنوں کی لاڈلی ہے۔ generational trauma اس نے سنا ہو گا۔ لیکن اس کے اثرات کیسے نسلوں کو کھا جاتے ہیں وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی ہے۔ کہانی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دونوں بیٹے اپنے ازدواجی تعلقات کے خاتمے کے قریب ہیں۔
اس ساری صورت حال کی ذمے دار جتنی ماں وہاں چپ ہوا باپ بھی ہے جو بیوی کی ساری بدمعاشی ساری زندگی دیکھتا اور برداشت کرتا رہا ہے لیکن اولاد کو بچانے کے لیے شٹ اپ کال نہیں دے سکا۔ آخر اسی بیٹے کے ہاتھوں بے گھر ہوا جو اس کے بڑھاپے کا سہارا تھا اور جس کو مصطفی پہ فوقیت دیتا رہا۔
مصطفی اپنی جگہ جو سوچ رہا ہے وہ سچ ہے کہ بچے کو صرف پیدا نہیں کرنا پالنا بھی ہے لیکن شرجینہ اس کو پیسے سے جوڑ رہی ہے کہ شاید پیسوں کا مسئلہ ہے۔ حالانکہ یہ فیصلہ دونوں کو مل کر کرنا چاہیے تھا۔ کہ اپنا تعلق ٹھیک کیے بغیر ایک نیا تعلق کیوں جنم دے رہے ہیں صرف اس لیے کہ آپ کو لگتا ہے کہ بچہ آ کر سب ٹھیک کر دے گا۔ جس بچے بے چارے کے آنے سے سب ٹھیک ہونا ہوتا ہے اس بے چارے کا یہ حق کیوں نہیں ہے کہ اس کے آنے سے پہلے ہی سب ٹھیک کر دیا جائے؟
اکثر یہ بھی سنتی ہوں کہ بروکن فیمیلز کے بچوں سے تعلق بنانا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ان کے ماضی کے بہت ٹراماز ہوتے ہیں۔ اپنے اردگرد دیکھیں گے تو کئی ایسے مصطفی مل جائیں گے جن کے گھر تو بروکن نہیں تھے لیکن ان گھروں میں رہتے رہتے وہ بروکن ضرور ہو چکے ہیں۔

