محمد سلیم الرحمان کی نظمیں: ان دیکھا سچ


محمد سلیم الرحمان کی نظمیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں۔ جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے نظم کو پا لیا ہے یہ کسی ان دیکھے بن میں گم ہو جاتی ہیں۔ دور سے سنائی دیتا سر ہو جاتی ہیں۔ یہ بھول بھلیاں ہیں۔ جس میں کبھی دن ہے کبھی رات ’کبھی سہ پہر ہے اور کبھی دوپہر۔ اور کبھی کبھی تو اس سے بھی پرے ان دیکھے پہر ہیں۔ اور یہیں سے سلیم الرحمان دکھتا ہے۔ جس کی خاموشیاں بولتی ہیں اور لفظ تصویریں بناتے ہیں جو ساکت و متحرک لمحوں میں دل آویز لگتی ہیں۔ دل کی آوازیں سننے والے سبھی لوگ محمد سلیم الرحمان کی نظموں کے دلدادہ ہیں۔ گم گشتہ لمحوں کو صدائیں دیتی ہوئی یہ نظمیں کس کے دل کی دھڑکنیں نہیں بڑھاتیں؟ یہ نظمیں وقت ہیں کسی کا بھی‘ کہیں کا بھی ’کبھی کا بھی۔ ان میں بچپن جوانی بڑھاپا اور ان کے درمیاں بہتی صدیوں کا بھول پن چھپا ہے۔ یہ کسی ساحر کی طرح حیران کرنے کا ہنر رکھتی ہیں۔ اس کا اسم اعظم گہری چپ ہے۔ جس کے لامتناہی معنی ہیں جس کا احساس محمد سلیم الرحمان کی نظموں میں بہنے کے بعد ہوتا ہے۔ امید کے کتنے رنگ ہیں اس کا ادراک ان کی بنت میں چھپا ہے۔ چاہ کو چھو کر آزاد کر دینا آساں نہیں مگر یہ ان میں ممکن ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جینے کا ہنر رکھتی یہ نظمیں اپنے اندر پوری طاقت رکھتی ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے یہ بدھا صفت نظمیں ہماری کایا کلپ کر دیں گی اور کبھی انھیں پڑھ کے ہم ویسے ہی رہتے ہیں جیسے ہم ہیں کہ یہ صاحب ”نظمیں“ کا مزاج بھی تو ہے کہ وہ کسی کو بدلنا چاہتے۔ کبھی کبھار‘ کہیں نا کہیں بدلاؤ ضروری بھی نہیں ہوتا۔ اور یہ نظمیں تو کہتی ہیں کہ کبھی کبھی کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا۔ انہونی زندگی کی سب سے بڑی صفت ہے۔

پیار بھری یہ نظمیں جس ہنر مندی سے صفحہ قرطاس پہ اتری ہیں اس میں رات کی تاریکی میں دکھنے والے سچ ہیں۔ جس کے ساتھ جینے کا فن کسی کسی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ سلیم صفت نظمیں مکمل منظروں سے جھانکتی ہیں اور پھر انھیں ادھورا کر دیتی ہیں۔ ’سلجھی ہوئی‘ سادہ اور شفاف ’بیگانہ و باوقار‘ خاموش و باوفا۔ مسکراتی ہوئی سلیم الرحمان کی نظمیں سچ میں بڑی باوفا ہیں۔ یہ بے کار سے بے قرار لمحوں کی ساتھی ہیں۔ اندر کا سارا شور سمیٹ لیتی ہیں۔ جمع منفی، منفی جمع ہوجاتا ہے۔ حساب کتاب رفع دفع ہو جاتا ہے کہ یہ بے حسابی کی دنیا ہیں۔ یہ سیمابی سی دنیا ہیں۔ خوشی کی کوئی تیز لہر اس میں نہیں ملتی کہ زندگی اس سے ماورا ہے۔

یہ نظمیں زندگی ہیں۔ ہماری ’تمہاری اور محمد سلیم الرحمان کی زندگی۔ یہ کشف ہیں۔ کیفیت ہیں۔ کیسی؟ جیسی قاری کی ہو۔ یہی اس کا بھید ہے۔ یہی اس کا فن مگر اس فن و بھید کو پانے کے لیے دل کا صفا اور نگاہ کا روشن ہونا ضروری ہے۔ روشن لمحوں میں تاریکی دیکھنے کا ہنر سکھاتی ہوئی یہ نظمیں ہم سب کے لیے دیدہ و دل وا کیے رہتی ہیں کہ جو آئے آئے یہ دل کشادہ رکھتی ہیں۔ نمک جیسی یہ نظمیں اپنے اندر وہ نشان رکھتی ہیں جہاں سے قدم قدم چلنے والے اپنی منزل کا پتہ ڈھونڈ سکتے ہیں کہ حاصل اس دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے جس سے یہ نظمیں پردہ اٹھاتی ہیں۔

پھر آئیے کہی سنی کو سچ کرتے ہیں محمد سلیم الرحمان کی نظمیں پڑھتے ہیں :

اس جہاں میں سب پہیلی ہیں
اگر میں بھی پہیلی ہوں تو کیا ہے
آخری سطروں میں کیا لکھا ہے؟
کوئی پارس لفظ ’اکسیری اشارہ؟
دور ہوتی روشنی کو
کون ہے جو پاس لائے؟
میں بھی شاید دیمکوں چینٹوں پتنگوں
کاکروچوں اور انجن ہاریوں
جتنا فرومایہ ہوں لیکن
ان کو قسام ازل سے جو ملا ہے
اس کو پا کر کوئی پروا ہی نہیں کہ
اور اس دنیا میں کیا ہے (ص 207 )

ہم بھی یہاں رستے میں تمہارے کب سے کھڑے ہیں دیکھو تو
تم پہ بہت سجتی ہے اگرچہ یہ دانستہ بے پروائی
پروا کرنے والوں کے کیا کیا جگرے ہیں ؛دیکھو تو (ص 175 )

جب ہم جا چکے ہوں گے تو ہماری دھندلی سی یاد کسی کے لیے
کتاب کے صفحوں میں پنہاں ہوگی اور کسی کے لیے بہار کی ہوا
کی سرسراہٹ میں یا شاید کسی البم میں پرانی بھوری تصویر جسے
بچے الٹ پلٹ رہے ہوں یا شاید یہ بھی نہیں خواب میں سلگتی ہوئی اگر بتی
یا ہلکے نیلے آسمان میں سفید بادلوں کے نیچے اڑتا نیل کنٹھ (ص 47 )

Facebook Comments HS