آئینی ترمیمی بل: حکومت اتنی جلدی میں کیوں ہے
26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت اتنی حواس باختہ کیوں ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے حکومت بہت جلدی میں ہے اور اس آئینی ترمیم کو جلد از جلد پارلیمنٹ سے پاس کروانا چاہتی ہے۔ ایسا کیا ہے اس ترمیمی بل میں کہ حکومت اس کو خفیہ رکھنا چاہتی ہے اور اوپر سے جلد از جلد اس کو منظور بھی کروانا چاہتی ہے۔ خبر یہ ہے کہ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ پارلیمانی کمیٹی سے پاس ہو چکا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا جا چکا ہے اور اب پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک کی اطلاع کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس کے ایجنڈے میں اس آئینی ترمیمی بل کا کوئی ذکر نہیں۔ لیکن یہ تو دوران اجلاس بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف اس آئینی ترمیمی بل پر اتنے تحفظات کیوں رکھتی ہے اور حکومت اتنی جلدی میں کیوں ہے؟
اپوزیشن اور تحریک انصاف کی طرف سے حکومت پر ایک سنگین الزام یہ بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ حکومت ان کے اراکین پارلیمنٹ کو ڈرا دھمکا اور ہراساں کر رہی ہے۔ لہذا پتہ یہ چلنا چاہیے کہ اس آئینی ترمیمی بل میں ہے کیا؟ حکومتی موقف یہ ہے چونکہ سپریم کورٹ میں پہلے ہی مقدمات التوا کا شکار ہیں لہذا سپریم کورٹ کو آئینی تشریحات سے الگ کیا جائے۔ حکومت اس آئینی ترمیم کے ذریعے اسلام آباد میں ایک نیا جوڈیشل سسٹم یا ایک کورٹ تشکیل دینا چاہتی ہے جو صرف آئین کی تشریحات کے لیے ہو جو صرف آئینی اور حکومتی مقدمات کی سماعت کرے۔ ایک نئی کوٹ تشکیل دی جائے جو مخصوص آئینی اور حکومتی مقدمات کی سماعت کرے۔ آسان الفاظ میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے بوجھ کم کیا جائے۔ اس میں برائی کیا ہے؟
ایک خبر یہ بھی ہے حکومت چاہتی ہے اس آئینی ترمیمی بل کے ذریعے تحریک انصاف نے جو اپنے دور میں اپنے حامی/ہم نواء ججزز اور جسٹس صاحبان کی بھرتیاں کی ہے جو آنے والے سالوں میں طاقت حاصل کر لیں گے یا چیف جسٹس کے امیدواران ہو سکتے ہیں ان کا راستہ روکا جائے۔ جبکہ تحریک انصاف اس آئینی ترمیمی بل میں رکاوٹ اس لیے بنی ہوئی ہے کہ حکومت اس آئینی ترمیمی بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف کے خیال کے مطابق اس آئینی ترمیم کے ذریعے ایگزیکٹو پاور / پارلیمانی کمیٹی یا وزیراعظم موسٹ سینیئر کی بجائے سینیٹر تین پانچ میں سے جس کو چاہے چیف جسٹس تعینات کر سکے گا۔ حکومت کی جلدی سے اس شبہ کو تقویت بھی مل رہی ہے۔ چونکہ 26 اکتوبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب نے ریٹائر ہونا ہے۔ ان کے بعد آٹومیٹکلی سینیئر موسٹ جسٹس منصور علی شاہ نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لینا ہے۔ شاید حکومت اس لیے 26 اکتوبر سے قبل ہی اس بل کو پاس کروانا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف کے حلقوں میں عمومی رائے یہ ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ تحریک انصاف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف اس لیے بھی اس ترمیم کو لٹکائے رکھنا چاہتی ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کے حلف اٹھانے کے بعد یہ ترمیم منظور ہو۔ تحریک انصاف خیال کرتی ہے کہ اگر یہ ترمیمی بل منظور ہو گیا تو وزیراعظم جسٹس منصور علی شاہ کی بجائے کسی اور کو چیف جسٹس تعینات کر دیں گے۔
حکومتی کردار اس آئینی ترمیمی بل کے بارے میں مشکوک مزید اس لیے بھی ہو جاتا ہے کہ حکومت نے اس ترمیم کو اوپن ڈسکشن کے لیے پیش نہیں کیا۔ جب کہ مولانا فضل الرحمٰن بھی اس آئینی ترمیمی بل پر بار بار اپنا موقف تبدیل کر رہے ہیں۔ کبھی حکومت کے ساتھ تو کبھی تحریک انصاف کے ساتھ۔ مولانا فضل الرحمٰن پہلے حکومتی حلقوں کا حصہ رہے۔ انہوں نے جاتی عمرہ میں بلاول بھٹو، نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ بعد از ملاقات پریس کانفرنس کی تو اس میں ان کا بیان یہی تھا کہ اس ترمیم پر جمعیت علماء اسلام ف کا حکومتی موقف سے الحاق کا پروگرام ہے۔ بقول مولانا صاحب طریقہ کار پر تھوڑی سی بحث ضرور ہوئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف یہ چاہتی ہے کہ نئی عدالت بنانے کی بجائے ایک نیا بینچ تشکیل دیا جائے۔
تحریک انصاف بھی بار بار اپنا موقف تبدیل کر رہی ہے۔ پہلے تحریک انصاف کا موقف تھا کہ کوئی بھی آئینی ترمیم عمران خان کی مرضی اور منظوری کے بغیر لانے کی کوشش کی گئی تو تحریک انصاف اس عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے وفد نے جب مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی تو ان کے موقف میں واضح تبدیلی آئی اور پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر کے لب و لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ تو مولانا کے کھلاڑی کے طور پر کھیل رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر بار بار فرما رہے تھے کہ ہم مولانا صاحب کے ساتھ ہیں مولانا صاحب کے ڈرافٹ کے ساتھ ہیں مولانا صاحب کی تجویز کے ساتھ ہیں۔ بہرکیف پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مثبت آئینی ترمیم کی راہ واضح و ہموار کی ہے۔ اگر اس آئینی ترمیم کے ذریعے بھی سپریم کورٹ سے برڈن کو کم کیا جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ ایسی آئینی ترمیم اس لیے بھی ضروری ہے چونکہ سپریم کورٹ میں مقدمات بہت زیادہ التوا کا شکار ہیں۔ عام پبلک کے مقدمات/ اپیلوں کی ہیرنگ میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ دوسری طرف چیف جسٹس صاحبان بھی ان مقدمات کو زیادہ ٹائم اور اہمیت دیتے ہیں جن کا سوشل میڈیا پر شور ہوتا ہے۔ ایسے مقدمات آئینی مقدمات جن کا عام پبلک سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا جسٹس صاحبان روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عام پبلک عدالتوں میں کس طرح ذلیل و خوار ہو رہی ہے اور مقدمات التوا کا شکار ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
لیکن آئینی ترمیمی بل کوئی عام مالیاتی یا تجارتی بل نہیں کہ جس پر حکومت کسی بڑی پارٹی کو نظر انداز کر کے پاس کروا لے۔ آئینی ترمیمی بل پر انیس بیس کے فرق کے ساتھ تمام پارٹیز کو اعتماد میں لے کر آگے چلنا چاہیے۔ اگر یہ آئینی ترمیمی بل پاس ہو جاتا ہے تو مرکز میں ایک نئی طاقت بھی جنم لے گی جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی جائے گی اور جو آنے والے وقتوں میں حکومت اور اپوزیشن کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔


